سنتوش آنند جی کے لیے ایک نظم
دور کہیں ویرانے میں
اک کچے گھر کی کھڑکی کھلتی ہے
اور شام ڈھلے سہمے پیڑوں کو وہ ایک گیت سناتی ہے
جو تو نے لکھا ہے
اک بوڑھا جس نے راتوں میں چاند کی ساری شکلیں دیکھی ہیں
وہ اپنی بیوہ بد صورت بیٹی کو تیرا گیت سُناتا ہے
جو تُو نے لکھا ہے
اور ہمارے پہلو میں کچھ زخم ہرے رہتے ہیں
جو داغ نہیں ہوتے
ہم جب تک اک دُوجے کو
تیرے گیت سُنا کر نہ روئیں تو چہرے صاف نہیں ہوتے
اس ویرانے کے اس پار اک دریا بہتا ہے
اس دریا کے پار ایک شہر تھا جس میں ہم جایا کرتے تھے
میں اس کے بازار سے چُوڑیاں لاتی تھی جب بابا گایا کرتے تھے
کچھ گیت جو تُو نے لکھے ہیں
بابا سے بھی اچھی تھی آواز اس کی
اس نے پہلی بار مجھے تحفے میں تیرا گیت سُنایا تھا
تُو جانے کس دیس میں بیٹھا گانے لکھتا ہے
اور ہمارے جیون کا حصہ بن جاتا ہے
بابا اب بوڑھے ہو گئے ہیں، وہ گا نہیں سکتے
اور میں کھڑکی کے پاس کھڑی
ان کو جو گیت سُناتی ہوں، وہ تُو نے لکھے ہیں
شہباز گوہر
No comments:
Post a Comment