ہوئی ہے اگر ابتداء مختلف
نہ کیوں ہو مِری انتہا مختلف
کئی راستے تھے مرے سامنے
چُنا میں نے اک راستہ مختلف
میں سمتِ مخالف سے آیا جہاں
بنانی تھی مجھ کو جگہ مختلف
سنانا ہے اک نغمہ دل مجھے
لگانی ہے مجھ کو صدا مختلف
صِلہ مختلف مجھ کو ملنا ہے جب
ملے کیوں نہ آخر سزا مختلف
شوکت عابد
No comments:
Post a Comment