صفحات

Sunday, 3 May 2026

دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

 دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے

آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے

جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست

آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے

آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن

ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے

غم نہیں اس کا کہ جلتا ہے نشیمن اپنا

آبرو صحنِ چمن کی تو بچا لی جائے

اس تکلم سے تو بہتر ہے خموشی بہزاد

بات آئے بھی جو لب پر تو وہ خالی جائے


بہزاد فاطمی

بہزاد عظیم آبادی

سید سلطان احمد

No comments:

Post a Comment