صفحات

Sunday, 3 May 2026

اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

 اپنے سائے کو بھی اسیر بنا

بہتے پانی پہ اک لکیر بنا

صرف خیرات حرف و صوت کی دے

شہر فن کا مجھے امیر بنا

شوخ تتلی ہے گر ہدف پہ تِرے

گُل کے ریشوں سے ایک تیر بنا

مجھ کو کشکول کے بغیر ہی دے

اک گداگر نہیں فقیر بنا

ریت پر راہ ڈھونڈ مت صابر

آ فلک پر نئی لکیر بنا


صابر شاہ

No comments:

Post a Comment