دل شگفتہ ہو تو افسردہ خیالی جائے
آنسو تھم جائیں تو حالت بھی سنبھالی جائے
جان لیوا ہے شبِ غم کی درازی اے دوست
آمدِ صبح کی اب راہ نکالی جائے
آ گئے محفلِ رِنداں میں تو ناصح لیکن
ان سے کہہ دے کوئی دستار سنبھالی جائے
غم نہیں اس کا کہ جلتا ہے نشیمن اپنا
آبرو صحنِ چمن کی تو بچا لی جائے
اس تکلم سے تو بہتر ہے خموشی بہزاد
بات آئے بھی جو لب پر تو وہ خالی جائے
بہزاد فاطمی
بہزاد عظیم آبادی
سید سلطان احمد
No comments:
Post a Comment