پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو
جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو
سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو
میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو
خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے
خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو
نہ بولو کاروان زندگی اب لٹنے والا ہے
چلو اس طرح سے گویا درائے بے صدا تم ہو
تمہارا مرتبہ اللہ اکبر کیا ٹھکانا ہے
تمہیں جتنا میں سمجھا ہوں کہیں اس سے سوا تم ہو
تمہاری بے رخی کا بھی معمہ حل نہیں ہوتا
کہ عالم آشنا ہو اور پھر نا آشنا تم ہو
مبارک منعموں کو دولت دنیا ہو عالم میں
ہماری آرزو تم ہو، ہمارا مدعا تم ہو
ہر اک غمزہ تمہارا عاشقوں کو ذبح کرتا ہے
کہ خوش انداز ہو خوش ناز ہو اور خوش ادا تم ہو
ہمیں دونوں سے ہے مربوط عشق و حسن کا عالم
کہ اس کی ابتدا میں ہوں اور اس کی انتہا تم ہو
تمہیں سے کشتیٔ جان حزیں آئے گی ساحل تک
محیط عشق میں اے حضرت دل ناخدا تم ہو
مے و معشوق سے کیا بات کچھ مطلب نہیں رکھتے
بتاؤ تو کہاں کے صبر ایسے پارسا تم ہو
ابوالبقاء منشی ثناء احمد
صبر و عصر سہارنپوری
No comments:
Post a Comment