زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا
زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی
یہ ہے آج ہی رات کی داستاں
کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں
دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ
لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ
پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا
وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا
افیمی سو رہا ہے
افیمی ظلم کو تقدیر کہہ کر سو رہا ہے
سو ہرن کو شیر کھا جائے
عقابوں کے جھپٹتے غول سہمے میمنے کو نوچتے جائیں
کوئی بکری کسی چیتے کو
تھوڑی گھاس کے بدلے سبھی اعضا کھلا بیٹھے
ہزاروں مکھیوں کی سخت محنت سے بنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جہالت مٹ گئی ساری، قرینے میں نظام آیا
جہاں میں جب بصد عزت مرا خیرالانامؐ آیا
زمانے میں نبیؐ کی ہو گئی جلوہ گری جس دم
زمیں کو آسماں کا با ادب اس دم سلام آیا
صدائیں گونج اٹھیں ہر طرف ان کی ولادت پر
مبارک ہو مبارک وہ رسولوں کا امامﷺ آیا
رقص
کھولتے آب میں
رقص کرتے ہوئے بلبلے
قابلِ غور ہیں
کیا تپش ہے جو ان کو بناتی ہے اور
اتنا مجبور کرتی ہے کہ
ناچتے ناچتے
ہم نے پہلا جرم اپنی پیدائش کے دن کیا تھا
ہمارے سانس لینے سے پہلے
چیخ کر رونے پر پابندی لگا دی گئی تھی
چپ میں لپیٹ کر ہمیں ہماری ماؤں کے حوالے کر دیا گیا
اس سے پہلے انہیں
بے آواز گیت یاد کروائے گئے
اسی باعث زیادہ ہنس رہا ہوں
میں بالکل بے ارادہ ہنس رہا ہوں
سجے ہیں زخم سینے پر ہزاروں
مگر میں حسبِ وعدہ ہنس رہا ہوں
نہیں ہے مطمئن منزل پہ کوئی
میں ہو کر وقفِ جادہ ہنس رہا ہوں
دیکھے گا کوئی خاک یہ ملبہ وجود کا
کس کو کھنڈر ملے گا مِری باش و بود کا
الجھا ہوا خدا بھی ہے دام دوام میں
ہے سلسلہ حدود سے باہر قیود کا
اک عمر کی بسی ہوئی خوشبو نکل گئی
اعلان کر رہا ہے تعفّن وجود کا
امر واقعہ
تو امر واقعہ یہ ہے
یہ بیوہ ہو گئی تھی
اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہیں کافی سلیقہ نعت میں، بس خوش بیانی کا
مرے آقاﷺ عطا ادراک ہو، لفظ و معانی کا
جھڑی ایسی لگی، آقاؐ کی رحمت جوش میں آئی
نصیبہ کھل گیا پل میں، مری آنکھوں کے پانی کا
وہ راحت پائی ہے اس نے درِ سرکارؐ پر آ کر
نہیں کوئی ارادہ دل کا اب نقلِ مکانی کا
بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی
ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی
بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر
زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی
کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں
جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی
کسے معلوم ہے اک دن
مجھے پھر ایک ان دیکھے جزیرے کی طرف چپ چاپ جانا ہے
جہاں صندل کے قد آور درختوں تلے
کچھ لوگ میرے منتظر ہوں گے
انہیں تشویش ہو گی مجھ سے پوچھیں گے
کہ ہجرت کیا ہے؟
فکر ہے یہ شب وصال ہمیں
کوستے ہوں گے بد سگال ہمیں
آگے آگے جلو میں ہوں اغیار
بزم سے اس طرح نکال ہمیں
کس نے چھوڑا ہے ایسے مہوش کو
ناصحو! دو کوئی مثال ہمیں
مسیحا سنا ہے کہ بیمار ہے
اسے بھی محبت کا آزار ہے
حقیقت کا جو بھی پرستار ہے
اسی کے لیے تختۂ دار ہے
عمل سے بھی کوئی سروکار ہے
فقط شیخ غازئ گفتار ہے
محبت اور ضرورت
میں اپنے دل کی سب سچائیوں کے ساتھ
یہ اقرار کرتا ہوں
میں تم سے پیار کرتا ہوں
مگر جو کہ رہا ہوں میں
بہت ممکن ہے کہ پورے سچ کی آنچ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جائیں تو کہاں جائیں سرکار مدینے سے
چلتا ہے ہمارا تو گھر بار مدینے سے
صدقہ اسی در کا تو کھاتے ہیں سبھی عالم
ایک میں ہی نہیں آقا سرشار مدینے سے
یہ نعت کسی انساں کے بس کی نہیں ہوتی
آئیں نہ اگر دل میں افکار مدینے سے
سمندر میں بہا آؤں
وہ یادوں سے بھرا البم
وہ سارے کارڈز
پھولوں کے سبھی تحفے
وہ لمحے خواب کے جیسے
فضاؤں میں رچی خوشبو
خلاؤں کے سفر پر ہے
اے وطن
اے وطن
میرے وطن پیارے وطن
میں نے کب چھوڑا تھا تجھ کو
میں تجھے بھولا ہی کب تھا
دور تھا تجھ سے
مگر اس دل میں ہر دن موجزن تھی تیری یاد
بغیر جنازے کے دفنائی گئی محبت
میں ایک صندوق اٹھائے چل رہا ہوں
جو ماں کی آخری نشانی ہے
جس میں کچھ چیزیں ہیں
ایک رومال جو پہلی محبوبہ کا تحفہ ہے
ایک تصویر جو میری نہیں
ایک زنجیر جو قید خانے میں
فلمی گیت عجیب ہے یہ زندگی
عجیب ہے یہ زندگی کبھی ہے غم کبھی خوشی
ہر ایک شے ہے بے یقیں ہر ایک چیز عارضی
یہ کارواں رکے کہاں کہ منزلیں ہیں بے نشاں
چھپے ہوئے ہیں راستے یہاں وہاں دھواں دھواں
خطر ہیں کتنے راہ میں سفر ہے کتنا اجنبی
عجیب ہے یہ زندگی
فلمی گیت
وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں
میرے ہر خواب کی تعبیر بنے بیٹھے ہیں
چاند ان آنکھوں کو دیکھے تو کنول بن جائے
رات ان ہونٹوں کو چھو لے تو غزل بن جائے
ان کی زلفوں کا حال مت پوچھو
مجھ سے میرا خیال مت پوچھو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خزاں کے مارے ہوئے جانبِ بہار چلے
قرارِ پانے زمانے کے بے قرار چلے
وہیں پہ تھام لیا ان کو دستِ رحمت نے
نبی کے در کی طرف جب گنہگار چلے
اے تاجدارِ جہاں! اے حبیبِﷺ رب کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے
نا آشنا
بہت سے قیمتی لمحے
جو راہ شوق میں گُزرے
جو خوابوں کے جزیرے میں
ستاروں جیسے روشن تھے
نہیں معلوم وہ لمحے، حقیقت تھے
عجیب سا میں
عجیب دنیا
رواج کے ساتھ چل رہا ہوں
نہ منطبق مجھ میں یہ زمانہ
نہ میں زمانے کو ہمنوا ہوں
جمیل احسن
آخری ساعت کے نام
کرن کے رتھ پر سوار ہو کر
ندی کی لہروں پہ چاند اپنی
تمام روداد لکھ چکا ہے
نئی اُڑانیں
طویل رستہ
بسیط سمتیں
قیام
آؤ رات کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کسی سمت چلتے ہیں
آؤ کسی لمحے کی آنکهوں میں آنکهیں ڈال کر
کچھ میٹهی باتیں کرتے ہیں
ریت سے کچھ وعدے چُنتے ہیں
خیالوں کی دهڑکنوں کو سُنتے ہیں
آؤ بیٹھ جاؤ
مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پاک کس عیب سے وہ پیکرِ تنویر نہ تھا
حسنِ بے پردہ پہ کب پردۂ تطہیر نہ تھا
سینۂ سنگ دلاں میں بھی کیا گھر جس نے
غمزۂ ابروئے رحمت تھا کوئی تیر نہ تھا
آپ اُس وقت بھی تھے قصرِ حقیقت کا جمال
جب کہ اک پایہ بھی سنسار کا تعمیر نہ تھا
مستقبل
مستقبل اک بچہ ہے
حال کی گود تک آتے آتے
رخساروں پر اس کے سبزے کی چادر چھا جاتی ہے
پھر کروٹ لیتی ہے خزاں کی زہر میں ڈوبی کالی کالی تیز نگاہ
رخ پہ طمانچے لگتے ہیں
درد کے صحرا میں اک لڑکا جو کل تک اک بچہ تھا
پہلی دنیا کی اقوام
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
کہاں جھکڑ چلانا ہیں
کسے آگے بڑھانا ہے
کسے پیچھے ہٹانا ہے
زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
مقابل کس کو لانا ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوں تو
مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیں
تمہیں سنتا ہوں
تو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں
اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہے
تمہارا نام لیتا ہوں
آگ سے دُھلے آئینے
ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں
پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے
بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول
اور درزوں میں چھپے دھوکے
آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے
آدھی رات کو
کیا بارہ بجے کے بعد سو جانا چاہیے؟
رات کے احترام میں
رات چلتے چلتے چھت تک آ گئی ہے
ایک بلب تھک کے اونگھ رہا ہے
اسے نیند کا پتھر مار کر بجھا دو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک لطف بیکراں ہے رکوع و سجود میں
ہیں لذتیں کمال قیام و قعود میں
روحوں سے جسم تک ہے تعفّن مچا ہوا
کتنا بڑا زياں ہے محبت کے سود میں
محشور ہوں گے اپنے عمل کے سبب کئی
قوم شعیب و لوط میں، عاد و ثمود میں
چاند اپنی وسعتوں میں گم شدہ رہ جائے گا
ہم نہ ہوں گے تو کہاں کوئی دیا رہ جائے گا
رفتہ رفتہ ذہن کے سب قمقمے بجھ جائیں گے
اور اک اندھے نگر کا راستہ رہ جائے گا
تتلیوں کے ساتھ ہی پاگل ہوا کھو جائے گی
پتیوں کی اوٹ میں کوئی چھپا رہ جائے گا
دستِ قاتل جب ہوا موزوں نگینے کے لیے
دُھول بھی رکھی گئی پھر آبگینے کے لیے
کوچۂ دیوانگی سے جب سے نکلے اہلِ دل
عشق کی ذِلّت سنبھالی خوں پسینے کے لیے
کیا مجالِ تشنگی جو آئے اپنے روبرو
غم کا ساغر ساتھ رکھا ہم نے پینے کے لیے
مجھی سے پوچھ رہا تھا مِرا پتا کوئی
بتوں کے شہر میں موجود تھا خدا کوئی
خموشیوں کی چٹانوں کو توڑنے کے لیے
کسی کے پاس نہیں تیشۂ صدا کوئی
درخت ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے
مِرے جنوں کا مبارک تھا مرحلہ کوئی
گزشتہ لفظوں کے معبدوں میں قدیم لہجے پڑے ہوئے ہیں
ابھی زباں کے موہنجو داڑو میں کچھ صحیفے پڑے ہوئے ہیں
یہاں نشیب و فراز کیسا،۔ جو بھاگنا ہے تو بھاگنا ہے
ہماری قسمت ہمارے سائے ہمارے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
خیال رستوں پہ چلتے چلتے جنازے گِرنے لگے زمیں پر
کسی نے بس اتنا کہہ دیا تھا زمیں پہ سِکّے پڑے ہوئے ہیں
جشن بپا ہے کٹیاؤں میں، اونچے ایواں کانپ رہے ہیں
مزدروں کے بگڑے تیور دیکھ کے سلطاں کانپ رہے ہیں
جاگے ہیں افلاس کے مارے، اُٹھے ہیں بے بس دکھیارے
سینوں میں طوفاں کا تلاطم، آنکھوں میں بجلی کے شرارے
چوک چوک پر گلی گلی میں سرخ پھریرے لہراتے ہیں
مظلوموں کے باغی لشکر سیل صفت اُمڈے آتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپﷺ کا اسمِ گرامی اِس قدر اچھا لگے
باغ میں سب سے حسیں جیسے شجر اچھا لگے
عرش کی جانب سفر ہو یا مدینے کی طرف
آپﷺ کا عزمِ سفر اور ہمسفر اچھا لگے
احترام اُن کا بجا اپنی جگہ لیکن مجھے
اپنے ماں اور باپ سے اپنا عمر اچھا لگے
لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر
میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر
مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا
پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر
روح بے تاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر
یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر
زعفرانی کلام
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا
شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا
چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ
کھا ڈبل روٹی، کلرکی کر، خوشی سے پھول جا
یہ موجودہ طریقے راہی ملکِ عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہو گی اور نئے ساماں بہم ہوں گے
زعفرانی کلام
مے کدۂ نگاہ سے جام پلا گیا کوئی
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے الو بنا گیا کوئی
جذبۂ عشق کی کہاں قدر جہاں میں آج کل
سنتے ہی صرف مدعا تھانے چلا گیا کوئی
کوئے صنم میں گم تھا میں اپنے تصورات میں
ہارن بجا کے کار کا مجھ کو ڈرا گیا کوئی
زعفرانی کلام
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑئیے
یہ تجارت ہے خلافِ آدمیت، چھوڑئیے
اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لت چھوڑئیے
روز اخباروں میں چھپتا ہے کہ رشوت چھوڑئیے
کس کو سمجھائیں، اسے کھو دیں تو پھر پائیں گے کیا
ہم اگر رشوت نہیں لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا
زعفرانی کلام
گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم
شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم
اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم
فن سے غالب کے بہت دور بہت دور ہیں ہم
اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے
کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عاصی ہیں گہنگار ہیں شرمائے ہوئے ہیں
دامن تِرے دربار میں پھیلائے ہوئے ہیں
محبوب کے صدقے میں ہمیں بخش دے مولیٰ
ہم آس یہی در پہ لگائے ہوئے ہیں
تُو بخش دے ہم تیرے ہی بندے ہیں الٰہی
نادم ہیں، سیہ کاری پہ شرمائے ہوئے ہیں
آزاد غلام
حادثہ، سانحہ، المیہ یہ ہوا
وہ خریدے گئے اور وہ بک بھی گئے
بس میری قوم سے اک خامی نہیں جاتی
آزادی کے قفس سے غلامی نہیں جاتی
شاہانہ سلطنت اجازت آہ کی جن سے چھین لیتی ہے
رعایا جام غلامی کے مگر بھر بھر کے پیتی ہے
اداس رہنا بھی اک صفت ہے
اگر تم اس کو سمجھ سکو گے
تو پھر اداسی کنیز بن کر
تمہارے پہلو میں بیٹھ کر کے
تمہارے ہاتھوں کو تھام لے گی
تمہیں تسلی سے دیکھ کر کے
وہ جدھر سے گزر کے جاتے ہیں
بن کے خوشبو بکھر کے جاتے ہیں
چاند بھی سر پٹکنے لگتا ہے
جب وہ سج کے سنور کے جاتے ہیں
میں نشے میں بہکنے لگتا ہوں
پیالے آنکھوں سے بھر کے جاتے ہیں
ہجر کو مختصر تو دیکھا ہے
شب میں رنگِ سحر تو دیکھا ہے
یہ طلسمِ نظر تو دیکھا ہے
بادلوں میں قمر تو دیکھا ہے
ہائے تیرِ نطر کا کیا کہنا
اپنا زخمی جگر تو دیکھا ہے
جنتا کی فریاد
آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا
دولت آئی ہاتھ سامانِ طرب افزا ملا
گھر سے دروازے تک آنا بھی نزاکت پر ہے بار
جب نہیں موٹر رہا، اڑنے کو طیارا ملا
چپہ چپہ ملک کا ہے آپ کی املاک میں
دشت و کوہستاں ملے، جنگل ملا، دریا ملا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کہیں پہ صدق کا چہرہ کہیں صفا کا رنگ
رواں ہے سورۂ والذکر میں ثنا کا رنگ
نہ ابتداء کی علامت نہ انتہا کا رنگ
خدا کے رنگوں میں پنہاں رہا انا کا رنگ
عجیب شہر ہے سر سبز ہے ہوا کا رنگ
گلی گلی سے عیاں حُسنِ نقشِ پا کا رنگ
مِرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں
کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں
اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے
مِری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں
میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی
کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں
پھر وہی وقت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تاج ہو تخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
تِیرہ بختی کی کوئی حد بھی تو سکتی ہے
پھر وہ خوش بخت ہو ایسا بھی تو ہو سکتا ہے
فاصلہ کم ہی سہی سرحدِ جاں تک لیکن
یہ سفر سخت ہو ایسا بھی تو سکتا ہے
تُو پرندوں سے لدی شاخ بنا لے مجھ کو
زندگی اپنی طرف اور جھکا لے مجھ کو
مانتا ہوں کے مجھے عشق نہیں ہے تجھ سے
لیکن اس وہم سے اب کون نکالے مجھ کو
ایک معصوم سی تتلی کو مسلنے والے
تُو تو دیتا تھا حدیثوں کے حوالے مجھ کو
نہ دہر میں نہ حرم میں جبیں جھکی ہو گی
تمہارے در پہ ادا میری بندگی ہو گی
نگاہ یار مِری سمت پھر اٹھی ہو گی
سنبھل سکوں گا نہ میں ایسی یہ بیخودی ہو گی
نگاہ پھیر کے جا تو رہا ہے تُو لیکن
تِرے بغیر بسر کیسے زندگی ہو گی
ہے کوچۂ الفت میں وحشت کی فراوانی
جب قیس کو ہوش آیا لیلٰی ہوئی دیوانی
پیش آئی وہی آخر جو کچھ کہ تھی پیش آئی
قسمت میں ازل ہی سے لکھی تھی پریشانی
دل اس کو دیا میں نے یہ کس کو دیا میں نے
غفلت سی مِری غفلت، نادانی سی نادانی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تضمین بر کلام رضا
آس دل میں ہے مِرے جلوۂ خضرائی کی
آنکھ سے حسرتیں گِرتی ہیں تمنّائی کی
میں نے غم، غم نے مِرے ساتھ شناسائی کی
’’ قافلے نے سُوئے طیبہ کمر آرائی کی‘‘
’’مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی‘‘
ہے غم سے دل فگار غزل کس طرح کہوں
آنکھیں ہیں اشکبار، غزل کس طرح کہوں
گھیرے ہوئے ہیں موت کی پرچھائیاں مجھے
ہوں زندگی پہ بارِ، غزل کس طرح کہوں
آ، شاہدِ بہارِ وفا، جانِ زندگی
دامن ہے تار تار، غزل کس طرح کہوں
دعائیں مانگنے والوں کا انتشار ہے کیا
یہ ماہ و سال کا اڑتا ہوا غبار ہے کیا
کوئی سبب ہے کہ یا رب سکون ہے اتنا
مجھے خبر ہی نہیں ہے کہ انتظار ہے کیا
اگر ہو دور تو قائم ہے دید کا رشتہ
اگر قریب ہو منظر تو اختیار ہے کیا
کوئی خوشی نہ کوئی غم ہے کیا کیا جائے
بڑا عجیب سا عالم ہے کیا کیا جائے
ذرا سکوں ہو میسر تو کوئی بات بنے
یہاں تو گردش پیہم ہے کیا کیا جائے
کہیں سے چیخ بھی اٹھی تو رہ گئی دب کر
کہ گھنگھرؤں کی چھما چھم ہے کیا کیا جائے
خراب حال وفا کو رلائے جاتے ہیں
نظر چرائے ہوئے مسکرائے جاتے ہیں
وفا شعار سہی غیر مجھ سے کیوں کہیے
یہ روز کس لیے قصے سنائے جاتے ہیں
وفا کی قدر تری انجمن میں کیوں ہوتی
فریب غیر کے نقشے جمائے جاتے ہیں
جاگتے جاگتے عمر بسر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
پل میں شب فرقت کی سحر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
جن لوگوں نے جان کے میرا گھر کچھ پتھر پھینکیں ہیں
وہ ان کا اپنا ہی گھر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
آج تو بس پتھر ہی پتھر اپنے سرہانے ہیں لیکن
کل ان کی آغوش میں سر ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بے سبب لرزے میں کب شہرِ مدینہ آیا
زخم ایسا تھا کہ برچھی کو پسینہ آیا
کیا پشیمانی سہی پانی پہ قبضہ کر کے
ہاتھ میں تیرے نہ ساحل نہ سفینہ آیا
کیوں نہیں سینے پہ وہ سرخ نشاں کھینچتا ہے
جس کی قسمت میں محرم کا مہینہ آیا
دل بے تاب کا آنا ستم ہے
تڑپ کر پھر مچل جانا ستم ہے
مجھے سمجھا رہی ہے غیرت دل
وفا سے تیرا پھر جانا ستم ہے
وہ رہ کر چٹکیاں لیتے ہیں کیا کیا
ستم ہے دل میں بھی آنا ستم ہے
ہم اپنی محبت کا تماشا نہیں کرتے
کرتے ہیں اگر کچھ تو دکھاوا نہیں کرتے
یہ سچ ہے کہ دنیا کی روش ٹھیک نہیں ہے
کچھ ہم بھی تو دنیا کو گوارا نہیں کرتے
اک بار تو مہمان بنیں گھر پہ ہمارے
یہ ان سے گزارش ہے تقاضا نہیں کرتے
میں ہوں فلک کا مسافر سفر میں سورج ہے
قدم قدم پہ مری رہگزر میں سورج ہے
تمام چہرے جہاں میں اسی کے مظہر ہیں
گزرتے وقت کی شام ع سحر میں سورج ہے
ہے فکر و فہم میں اک آسماں اجالوں کا
حصارِ شب میں ہوں لیکن نظر میں سورج ہے
کس کو سنائیں اور کہیں کیا کسی سے ہم
سب کچھ لٹا کے بیٹھ گئے ہیں ابھی سے ہم
اپنی ہی کچھ خبر ہے نہ دنیا سے واسطہ
رہتے ہیں سب کے ساتھ مگر اجنبی سے ہم
یوں تو چراغ ہم نے بہت سے جلائے تھے
محروم پھر بھی رہتے رہے روشنی سے ہم
تبسم لب پہ آنکھوں میں محبت کی کہانی ہے
تمہاری ہر ادا میں اک نشاط کامرانی ہے
بہت ہی مختصر اپنی حدیث زندگانی ہے
ترے عارض کے جلوے ہیں مرا خواب جوانی ہے
اسی ساغر میں ساقی دیکھ آب زندگانی ہے
کہ موج مے میں پنہاں راز عمر جاودانی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہ پلتا جا رہا ہے اعتماد سینے میں
پہنچ ہی جاؤں گا میں خیر سے مدینے میں
کبھی تو سانس معطر مدینے میں ہو گی
کبھی تو جان پڑے گی ہمارے جینے میں
وہ دیں گے گنبد خضرا کا عکس آنکھوں کو
وہ بدلیں گے مرے کنکر کبھی نگینے میں
بے حجابانہ کبھی دعوت دیدار بھی دے
لذت عشق بھی دے عشق کا آزار بھی دے
مسند علم و ادب پر متمکن فرما
نغمہ و شعر بھی دے خامۂ گلکار بھی دے
طاق ہر بزم میں رکھ شمع بنا کر مجھ کو
اور پروانہ صفت لذت آزار بھی دے
اسی کو حق ہے تمنائے لطف یار کرے
جو آپ اپنی محبت پہ اعتبار کرے
بہت بجا یہ ترا مشورہ ہے اے واعظ
بھری بہار میں پرہیز بادہ خوار کرے
فسردگی سے بدل دے شگفتگی دل کی
جو چاہے ایک اشارے میں چشمِ یار کرے
جو مجھ پہ قرض ہے واجب اسے اتار نہ لوں
ملے خوشی بھی جو کوئی تو مستعار نہ لوں
یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا کڑی مسافت میں
ہو سر میں شوق مگر خوفِ ریگزار نہ لوں
غنیمِ شہر کی سازش ہے مُنکشف مجھ پر
مصالحت کا اب احسان بار بار نہ لوں
عشق میں ڈوبا تو پھر میں نہ دوبارہ نکلا
یہ وہ دریا تھا کہ جس کا نہ کنارہ نکلا
اک فقط تجھ سے ہی امید فراموشی تھی
تجھ سے اے دل نہ مگر کام ہمارا نکلا
جان و دل پہ مرے بن آئی ہے اس الفت میں
عشق کے سودے میں کیوں اتنا خسارہ نکلا
خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا
گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا
یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا
مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا
طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں
لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قلبِ مضطر کو ملے چین اے شاہِ کونین
ہو کرم صدقۂ سبطین اے شاہِ کونینﷺ
میرا ہر دن بھی گزرتا ہے تری یادوں میں
ہجر میں روتی ہے ہر رین اے شاہِ کونین
مانگتے رہتے ہیں نظارہ طیبہ ہر دم
میرے یہ ترسے ہوئے نین اے شاہِ کونین
جنت آباد کو ویران کرتے جائیں گے
گلستاں کو پاسباں شمشان کرتے جائیں گے
خانۂ جنت میں آدم زاد کا مسکن نہ ہو
اس غرض سے خود کو وہ شیطان کرتے جائیں گے
تم لگا کر آگ گلشن کو بھلے کر دو تباہ
ہم تو آتشدان کو گلدان کرتے جائیں گے
کوئی استخارہ اشارہ نہیں ہے
مِرے زخم کا کوئی چارہ نہیں ہے
تمہارے مطابق نہیں چل سکے گا
یہ دل ہے ہمارا تمہارا نہیں ہے
یوں دیکھیں تو میرا سبھی کچھ لٹا ہے
مجھے اک طرح سے خسارا نہیں ہے
طور پر کہیے تو کیا آپ نے موسیٰ دیکھا
حسن کو پردے میں دیکھا کہ بے پردہ دیکھا
زیرِ خنجر بھی زباں پر ہے مِری نام تِرا
دیکھا اک دوست کا اے دوست! کلیجہ دیکھا
دکھ میں نیند آئی مجھے بھی تو خضرا کی قسم
خواب میں میں نے سدا ایک ہی مکھڑا دیکھا
یہ دوڑ دھوپ بہ ہر صبح و شام کس کے لیے
بس ایک نام کی خاطر یہ نام کس کے لیے
مِرا وجود بصد اہتمام کس کے لیے
تمام عمر جلا صبح و شام کس کے لیے
یہاں تو کوئی نہیں اونگھتے دیوں کے سوا
بھرا ہے تم نے محبت کا جام کس کے لیے
بام و در یاد نہیں راہگزر یاد نہیں
ایسے اجڑے ہیں کہ رودادِ سفر یاد نہیں
کس نے دیکھا تھا تباہی کا وہ منظر کیا تھا
جلتی شاخوں پہ پرندوں کی نظر یاد نہیں
ہم تمنا کے طلسمات میں الجھے ہوئے لوگ
ایسے بھٹکے ہیں ہمیں اپنا ہی گھر یاد نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بہار لطف نظارے جھلک، جھلک اس کی
جہانِ رنگ میں ساری دھنک، دھنک اس کی
کنول، گلاب، چنبیلی یہ رات کی رانی
چمن کے سارے گلوں کی مہک، مہک اس کی
یہ آفتاب، قمر اور برق برق سحاب
یہ جھلملاتے ستارے چمک، دمک اس کی
خاموشی شور کرتی ہے
کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو
جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر
تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں
سخن ایجاد کرتی ہیں
سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی
اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو
لطف غیروں پہ عام ہوتے ہیں
ظلم ہم پر تمام ہوتے ہیں
یار ہونے کو عام ہوتے ہیں
نفس کے سب غلام ہوتے ہیں
زندگی سے جو پیار کرتے ہیں
موت سے ہمکلام ہوتے ہیں
یہ مصلحت اندیش کرم یاد رہے گا
ساقی تری نظروں کا بھرم یاد رہے گا
غم یاد رہے گا نہ الم یاد رہے گا
اک حاصل غم ربط بہم یاد رہے گا
بتخانے کی عظمت کا پتہ جس سے ملا ہے
وہ حادثۂ دیر و حرم یاد رہے گا
گماں مجھ کو تھا انساں ہو گیا ہوں
خبر کیا تھی میں شیطاں ہو گیا ہوں
ہوا کچھ اس طرح کی چل رہی ہے
بہت اندر سے ویراں ہو گیا ہوں
اچانک دوست ہندو ہو گئے ہیں
اچانک میں مسلماں ہو گیا ہوں
جس کو سمجھ رہے تھے مِرے یار، وہ نہیں
ہے اور کوئی راہ کی دیوار، وہ نہیں
ہے آنکھ جس کی طالبِ دیدار، وہ نہیں
اچھا تو ہے مگر مجھے درکار وہ نہیں
یہ دل ہوا ہے جس کا گرفتار، وہ نہیں
سب سے حسیں وہی سہی دلدار وہ نہیں