مسیحا سنا ہے کہ بیمار ہے
اسے بھی محبت کا آزار ہے
حقیقت کا جو بھی پرستار ہے
اسی کے لیے تختۂ دار ہے
عمل سے بھی کوئی سروکار ہے
فقط شیخ غازئ گفتار ہے
وفا جرم ہے تو سزا دیجیے
مجھے اس خطا سے کب انکار ہے
جسے کوئی سننا نہیں چاہتا
چھپانا وہی بات دشوار ہے
یہ مژدہ ہے شیخِ حرم کے لیے
خدا کو بھی اصنام سے پیار ہے
وہ جس نے دیا تھا غمِ جاوداں
وہی آج تک میرا غمخوار ہے
آتش بہاولپوری
دیوی دیال
No comments:
Post a Comment