عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جائیں تو کہاں جائیں سرکار مدینے سے
چلتا ہے ہمارا تو گھر بار مدینے سے
صدقہ اسی در کا تو کھاتے ہیں سبھی عالم
ایک میں ہی نہیں آقا سرشار مدینے سے
یہ نعت کسی انساں کے بس کی نہیں ہوتی
آئیں نہ اگر دل میں افکار مدینے سے
پیغام رسانی میں ہوتی نہیں کچھ مشکل
بندھے ہیں میرے دل کے سب تار مدینے سے
ارمان تخیل میں جاتا ہوں سدا طیبہ
لوٹا نہیں لیکن میں اک بار مدینے سے
کیسا بھی کوئی سائل آئے در اقدس پر
سنتا نہیں کوئی بھی انکار مدینے سے
ان حرفوں کی کیا وقعت لیکن ہے دعا شامی
ان حرفوں کی ہوجائے دستار مدینے سے
فیروز شامی
No comments:
Post a Comment