Saturday, 14 February 2026

یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

 زعفرانی کلام ہاتھ کی روانی


یہ ہے آج ہی رات کی داستاں

کہ تھے میہماں میرے اک مہرباں

دکھاؤں میں حضرت کے کھانے کا ڈھنگ

لکھوں ان کے لقمے اڑانے کا رنگ

پلیٹوں میں ہلچل مچاتا ہوا

وه چمچے سے چمچا لڑاتا ہوا

پلاؤ میں سالن ملاتا ہوا

وہ جل تھل کا عالم رچاتا ہوا

وہ بوٹی پہ چڑھ کر لپٹتا ہوا

وہ روٹی سے بڑھ کر چمٹتا ہوا

فقط شوربے سے کھسکتا ہوا

مربّے سے جا کر چپکتا ہوا

گیا دال پر دندناتا ہوا

وہ مرچوں سے دامن بچاتا ہوا

وہ چمچے سے چُلّو بناتا ہوا

وہ آلو کو اُلو بناتا ہوا

سویّوں پہ سو جاں سے مرتا ہوا

ادھر لاڈ لڈو سے کرتا ہوا

پسند اک پسندے کو کرتا ہوا

تو چٹنی پہ چٹخارے کرتا ہوا

سموسے میں خود کو سموتا ہوا

ادھر کھوئے کے ہوش کھوتا ہوا

جلیبی پہ یاں پیچ کھاتا ہوا

کٹورے کہیں کھنکھناتا ہوا

یہ برفی کا دل برف کرتا ہوا

یہ زردے کا منہ زرد کرتا ہوا

پلاؤ پہ پل پل کے آتا ہوا

وہ ’’پھرنی‘‘ پہ پھر پھر کے گاتا ہوا

نوالے سے کشتی بناتا ہوا

اور حلوے کے گولے اڑاتا ہوا

وہ جبڑوں سے بوٹی مسلتا ہوا

اسے بن چبائے نگلتا ہوا

بگڑ کر وہ کف منہ پہ لاتا ہوا

وہ غازی ہے یوں کھانا کھاتا ہوا

غرض اس طرح ہیں مرے مہرباں

بس اب دیکھ لیں شاعرِ نکتہ داں

وہ سودا وہ اکبر کا آبِ لوڈور

یہاں خضر کی بے زبانی کا زور


خضر تمیمی​

No comments:

Post a Comment