Tuesday, 17 February 2026

تالیوں کی گونج زائل ہو چکی

 ایک نڈھال نظم


تالیوں کی گونج

زائل ہو چکی

ہال خالی ہو چکا

داد کے بکسے اُلٹ کر چل دئیے

لوگ میری چیختی نظموں کی

بولی دے چکے

میں جمع تفریق کی مد میں

بِنا ترتیب سانسوں کی

گُھٹن سے چُور ہوں

کاش دھرتی آسماں کی

وُسعتوں کو جانتی

خواب میں پنہاں

حقیقت کو حقیقت مانتی

ہاں مگر

ان داستانوں کا سکندر کون ہے

کون ہے

اُفتادگی کی ساعتوں کا ہمنوا

کون ہے

تفہیم کی تشنہ لبی کا رازداں

کون ہے

کوئی نہیں

وہ جو آئے تھے

وہ آ کر جا چکے


سدریٰ افضل

سدرہ افضل

No comments:

Post a Comment