سخن آباد کی تنہائی میں جا رہنے کا
ہم کو ڈھب آتا ہے پاداشِ ہنر سہنے کا
آپ کی چشم میں کوئی قمر آئے تو آئے
رشکِ خورشید ہوں سو میں تو نہیں گہنے کا
منتِ لفظ و زباں کیونکہ اٹھائی جائے
چشمِ خوش کار کو معلوم ہے ڈھب کہنے کا
ایک جائے تو چلی آئے دِگر موجِ کمال
دِیدنی بسکہ ہے نظارہ مِرے بہنے کا
بس میں ہر ناکس و کس کے نہیں میری تعمیر
کچھ زیادہ نہ ہو نقصان مِرے ڈھہنے کا
محمد منذر رضا
No comments:
Post a Comment