Showing posts with label ساقی فاروقی. Show all posts
Showing posts with label ساقی فاروقی. Show all posts

Tuesday, 1 November 2022

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا

ساقی مِرے مزاج کا موسم نہیں ملا

مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک

دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا

بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں

ورنہ مِری انا میں کہیں خم نہیں ملا

Monday, 4 April 2022

یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا

 یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا

ہم جس کے رہے اس نے کہیں کا نہیں رکھا

دیکھا کہ ابھی روح میں فریاد کناں ہے

سجدہ جسے پابند جبیں کا نہیں رکھا

افسوس کہ انکار کی منزل نہیں آئی

ہر چند کہ در بند نہیں کا نہیں رکھا

Sunday, 20 March 2022

مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی

 مجھ کو مِری شکست کی دوہری سزا ملی

تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی

اک قلزم حیات کی جانب چلی تھی عمر

اک دن یہ جوئے تشنگی صحرا سے آ ملی

یہ کیسی بے حسی ہے کہ پتھر ہوئی ہے آنکھ

ویسے تو آنسوؤں کی کمک بارہا ملی

Monday, 22 March 2021

سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر

 سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر

جی لرز اٹھا تِری آنکھوں میں صحرا دیکھ کر

پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر

بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر

ایک دن آنکھوں میں بڑھ جائیگی ویرانی بہت

ایک دن راتیں ڈرائیں گی اکیلا دیکھ کر

Sunday, 21 March 2021

اب یاد نہیں سینے میں کہیں اک سورج تھا سو ڈوب گیا

 اب یاد نہیں 


اب یاد نہیں سینے میں کہیں

اک سورج تھا، سو ڈوب گیا

اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا

دنیا کو بدلنے اٹھے تھے

دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں


ساقی فاروقی

Thursday, 21 January 2021

یہ کیسی سازش ہے جو ہواؤں میں بہہ رہی ہے

 نوحہ


یہ کیسی سازش ہے جو ہواؤں میں بہہ رہی ہے

میں تیری یادوں کی شمعیں بجھا کے خوابوں میں چل رہا ہوں

تِری محبت مجھے ندامت سے دیکھتی ہے

وہ آبگینہ ہوں خواہشوں کا کہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہوں

یہ میری آنکھوں میں کیسا صحرا اُبھر رہا ہے

Saturday, 16 January 2021

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

 خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا

ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا

یہ جدائی ہے کہ نسیاں کا جہنم کوئی

راکھ ہوجائے نہ یادوں کا ذخیرہ اپنا

ان ہوائوں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے

بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا

Friday, 15 January 2021

اے ہوائے خوش خبر اب نوید سنگ دے

 انہدام


اے ہوائے خوش خبر، اب نویدِ سنگ دے

میری جیب و آستیں میرے خوں سے رنگ دے

میری عمرِ کج روش مجھ سے کہہ رہی ہے، تُو

اک طلسم ہے، تجھے ٹوٹنا ضرور ہے

تیری بد سرشت فکر، تیرا قیمتی لہو

کھُردری زبان سے چاٹتی چلی گئی

Thursday, 14 January 2021

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

 مجھے خبر تھی مِرا انتظار گھر میں رہا

یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں

ہزار حلقۂ زنجیرِ بام و در میں رہا

تِرے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی

تِرے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا

Saturday, 19 December 2020

یوں مرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

 یوں مِرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا

بول اے شخص! تجھے کون نگر جانا تھا

روح اور جسم جہنم کی طرح جلتے ہیں

اس سے روٹھے تھے تو اس آگ کو مر جانا تھا

راہ میں چھاؤں ملی تھی کہ ٹھہر سکتے تھے

اِس سہارے کو مگر تنگ سفر جانا تھا

Friday, 16 October 2020

ترغیب مجھے اشاروں سے کہہ رہا ہے

 ترغیب


یہ ایک لمحہ جو اپنے ہاتھوں میں چاند سورج لیے کھڑا ہے

مجھے اشاروں سے کہہ رہا ہے

وہ میرے ہمزاد میرے بھائی

جو پتیوں کی طرح سے کمھلا کے زرد ہو کے

تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں

Friday, 25 September 2020

وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگا دوں گا

 وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگا دوں گا

میں آنسوؤں سے ہمیشہ تِرا پتا دوں گا

بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی

میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا

ہوا ہے تیز، مگر اپنا دل نہ میلا کر

میں اس ہوا میں تجھے دور تک صدا دوں گا

Thursday, 19 December 2019

درد پرانا آنسو مانگے آنسو کہاں سے لاؤں

درد پرانا آنسو مانگے، آنسو کہاں سے لاؤں
روح میں ایسی کونپل پھوٹی میں کمہلاتا جاؤں
میرے اندر بیٹھا کوئی میری ہنسی اڑائے
ایک پلک کو اندر جاؤں، باہر بھاگا آؤں
سارے موتی جھوٹے نکلے، سارے جادو ٹونے
میری خالی آنکھو بولو، اب کیا خواب سجاؤں

حملہ آور کوئی عقب سے ہے

حملہ آور کوئی عقب سے ہے
یہ تعاقب میں کون کب سے ہے
شہر میں خواب کا رواج نہیں
نیند کی ساز باز سب سے ہے
لوگ لمحوں میں زندہ رہتے ہیں
وقت اکیلا اسی سبب سے ہے

Tuesday, 13 October 2015

میں ایک رات محبت کے سائبان میں تھا

میں ایک رات محبت کے سائبان میں تھا
مِرا تمام بدن، رُوح کی کمان میں تھا
دھنک جلی تھی فضا خُون سے مُنور تھی
مِرے مزاج کا اِک رنگ آسمان میں تھا
جو سوچتا ہوں اپسے، دل میں پھُول کھِلتے ہیں
وہ خُوش نگاہ نہیں تھا، تو کون دھیان میں تھا

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بے دار ملے

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بے دار مِلے
اس خرابے میں کہاں خُواب کے آثار مِلے
اس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی
لوگ آواز کی لذت میں گرفتار مِلے
اس کی آنکھوں میں محبت کے دِیے جلتے رہیں
اور پندار میں اِنکار کی دیوار مِلے

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے

تجھے خبر ہے تجھے یاد کیوں نہیں کرتے
خدا پہ ناز خدا زاد کیوں نہیں کرتے
عجب کہ صبر کی معیاد بڑھتی جاتی ہے
یہ کون لوگ ہیں، فریاد کیوں نہیں کرتے
رگوں میں خون کی مانند ہے سکوت کا زہر
کوئی مکالمہ ایجاد کیوں نہیں کرتے

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی

دامن میں آنسوؤں کا ذخیرہ نہ کر ابھی
یہ صبر کا مقام ہے، گِریہ نہ کر ابھی
جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے
وہ ہاتھ سو گیا ہے، تقاضا نہ کر ابھی
نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں
اسرارِ کائنات سے پردہ نہ کر ابھی

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اِک دن
اِک رات کے راہی ہیں، گزر جائیں گے اِک دن
یوں دل میں اُٹھی لہر، یوں آنکھوں میں بھرے رنگ
جیسے مِرے حالات سنور جائیں گے اِک دن
دل آج بھی جلتا ہے اسی تیز ہوا میں
اے تیز ہوا! دیکھ، بِکھر جائیں گے اِک دن

اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے

اِک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے
یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے
تُو اپنے گہن میں ہے تو میں اپنے گہن میں
دو چاند ہیں اِک ابر میں گہہ بھی نہیں سکتے
ہم جسم ہیں اور دونوں کی بنیادیں امر ہیں
اب کیسے بچھڑ جائیں کہ ڈھہ بھی نہیں سکتے