میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا
ساقی مِرے مزاج کا موسم نہیں ملا
مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک
دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا
بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں
ورنہ مِری انا میں کہیں خم نہیں ملا
میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا
ساقی مِرے مزاج کا موسم نہیں ملا
مجھ میں بسی ہوئی تھی کسی اور کی مہک
دل بجھ گیا کہ رات وہ برہم نہیں ملا
بس اپنے سامنے ذرا آنکھیں جھکی رہیں
ورنہ مِری انا میں کہیں خم نہیں ملا
یہ کس نے بھرم اپنی زمیں کا نہیں رکھا
ہم جس کے رہے اس نے کہیں کا نہیں رکھا
دیکھا کہ ابھی روح میں فریاد کناں ہے
سجدہ جسے پابند جبیں کا نہیں رکھا
افسوس کہ انکار کی منزل نہیں آئی
ہر چند کہ در بند نہیں کا نہیں رکھا
مجھ کو مِری شکست کی دوہری سزا ملی
تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی
اک قلزم حیات کی جانب چلی تھی عمر
اک دن یہ جوئے تشنگی صحرا سے آ ملی
یہ کیسی بے حسی ہے کہ پتھر ہوئی ہے آنکھ
ویسے تو آنسوؤں کی کمک بارہا ملی
سوچ میں ڈوبا ہوا ہوں عکس اپنا دیکھ کر
جی لرز اٹھا تِری آنکھوں میں صحرا دیکھ کر
پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر
بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر
ایک دن آنکھوں میں بڑھ جائیگی ویرانی بہت
ایک دن راتیں ڈرائیں گی اکیلا دیکھ کر
اب یاد نہیں
اب یاد نہیں سینے میں کہیں
اک سورج تھا، سو ڈوب گیا
اب اپنا دل ہے کھوٹ بھرا
دنیا کو بدلنے اٹھے تھے
دنیا نے بدل ڈالا کہ نہیں
ساقی فاروقی
نوحہ
یہ کیسی سازش ہے جو ہواؤں میں بہہ رہی ہے
میں تیری یادوں کی شمعیں بجھا کے خوابوں میں چل رہا ہوں
تِری محبت مجھے ندامت سے دیکھتی ہے
وہ آبگینہ ہوں خواہشوں کا کہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہوں
یہ میری آنکھوں میں کیسا صحرا اُبھر رہا ہے
خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا
ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا
یہ جدائی ہے کہ نسیاں کا جہنم کوئی
راکھ ہوجائے نہ یادوں کا ذخیرہ اپنا
ان ہوائوں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے
بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا
انہدام
اے ہوائے خوش خبر، اب نویدِ سنگ دے
میری جیب و آستیں میرے خوں سے رنگ دے
میری عمرِ کج روش مجھ سے کہہ رہی ہے، تُو
اک طلسم ہے، تجھے ٹوٹنا ضرور ہے
تیری بد سرشت فکر، تیرا قیمتی لہو
کھُردری زبان سے چاٹتی چلی گئی
مجھے خبر تھی مِرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں
ہزار حلقۂ زنجیرِ بام و در میں رہا
تِرے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی
تِرے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا
یوں مِرے پاس سے ہو کر نہ گزر جانا تھا
بول اے شخص! تجھے کون نگر جانا تھا
روح اور جسم جہنم کی طرح جلتے ہیں
اس سے روٹھے تھے تو اس آگ کو مر جانا تھا
راہ میں چھاؤں ملی تھی کہ ٹھہر سکتے تھے
اِس سہارے کو مگر تنگ سفر جانا تھا
ترغیب
یہ ایک لمحہ جو اپنے ہاتھوں میں چاند سورج لیے کھڑا ہے
مجھے اشاروں سے کہہ رہا ہے
وہ میرے ہمزاد میرے بھائی
جو پتیوں کی طرح سے کمھلا کے زرد ہو کے
تمہارے قدموں میں آ گرے ہیں
وہ دکھ جو سوئے ہوئے ہیں انہیں جگا دوں گا
میں آنسوؤں سے ہمیشہ تِرا پتا دوں گا
بجھے لبوں پہ ہے بوسوں کی راکھ بکھری ہوئی
میں اس بہار میں یہ راکھ بھی اڑا دوں گا
ہوا ہے تیز، مگر اپنا دل نہ میلا کر
میں اس ہوا میں تجھے دور تک صدا دوں گا