وہ چاہتے ہیں کہ رستے میں شام ہو جائے
میں چاہتا ہوں کہ ظُلمت تمام ہو جائے
جنُون عزم نہیں ختم چند ناموں پر
مگر جو وقت کا اپنے امام ہو جائے
لگا کے آگ نشیمن کو دیکھنے والو
سکون دل نہ تمہارا حرام ہو جائے
وقار ہو جو یہ برگشتگی تو کیا کہیے
خود اپنا آشیاں اپنا ہی دام ہو جائے
وقار صدیقی
No comments:
Post a Comment