Wednesday, 5 August 2026

سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

 سرابوں سے نوازا جا رہا ہوں

امیرِ دشت بنتا جا رہا ہوں

مِرے دریا ہمیشہ یاد رکھنا

تِرے ساحل سے پیاسا جا رہا ہوں

فضائیں سبز ہوتی جا رہی ہیں

میں جتنا زہر پیتا جا رہا ہوں

اک ایسے خواب کی آنکھوں کو ضِد ہے

تہہ خنجر بھی سویا جا رہا ہوں

مِرے باہر فصیل آہنی ہے

مگر اندر سے ٹُوٹا جا رہا ہوں

زمانہ مجھ کو سمجھے یا نہ سمجھے

میں اک دن ہوں جو گُزرا جا رہا ہے

تم اب تھکتی ہوئی نظریں جُھکا لو

بُلندی سے میں اُترا جا رہا ہوں

کتابِ سنگ بن جائے گا کاظم

میں جس پانی پہ لِکھا جا رہا ہوں


کاظم جرولی

No comments:

Post a Comment