گھروندہ
چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں
کچھ نئے خواب آنکھوں میں سجانے کو
گود میں اس وسِیع سمندر کی
آؤ سُورج اُترتا دیکھتے ہیں
کُچھ لالی لے کر شفق سے
لب و رُخسار تیرے سجاتے ہیں
اس حسِین شام کے دُھندلکے میں
چاند، تاروں کے سنگ لُکن مِیٹی کهیلتے ہیں
اور اُنگلی تھام کر اُس کی
سنگ بادِ صبا کے اُڑتے ہیں
چلو! آج پهر ریت پر گھروندے بناتے ہیں
مونا شہزاد
No comments:
Post a Comment