صفحات

Monday, 17 August 2026

چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں

 گھروندہ 


چلو آج پھر ریت پہ گھروندے بناتے ہیں

کچھ نئے خواب آنکھوں میں سجانے کو

گود میں اس وسِیع سمندر کی

آؤ سُورج اُترتا دیکھتے ہیں

کُچھ لالی لے کر شفق سے

لب و رُخسار تیرے سجاتے ہیں

اس حسِین شام کے دُھندلکے میں

چاند، تاروں کے سنگ لُکن مِیٹی کهیلتے ہیں

اور اُنگلی تھام کر اُس کی

سنگ بادِ صبا کے اُڑتے ہیں

چلو! آج پهر ریت پر گھروندے بناتے ہیں 


مونا شہزاد

No comments:

Post a Comment