یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا
پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا
وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار
گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا
کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے
با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا
اس کا تو میرے واسطے آغوش وا رہا
دنیائے آب و رنگ سے بیزار میں ہی تھا
تا عمر اپنے آپ کو دیتا رہا فریب
پوشیدہ اپنے آپ میں غدار میں ہی تھا
دیکھا یہ آپ نے مِرا انداز خود کشی
خود اپنے دشمنوں کا طرفدار میں ہی تھا
جس کی بنا تھی ریت پہ جس میں لگی تھی لاکھ
اس قصر بے اساس کا معمار میں ہی تھا
الزام اس کو دوں بھی تو کس منہ سے اے ولی
جب ہر سلوک بد کا سزاوار میں ہی تھا
ولی الحق انصاری
No comments:
Post a Comment