Tuesday, 11 August 2026

یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

 یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا

وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار

گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا

کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے

با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا

اس کا تو میرے واسطے آغوش وا رہا

دنیائے آب و رنگ سے بیزار میں ہی تھا

تا عمر اپنے آپ کو دیتا رہا فریب

پوشیدہ اپنے آپ میں غدار میں ہی تھا

دیکھا یہ آپ نے مِرا انداز خود کشی

خود اپنے دشمنوں کا طرفدار میں ہی تھا

جس کی بنا تھی ریت پہ جس میں لگی تھی لاکھ

اس قصر بے اساس کا معمار میں ہی تھا

الزام اس کو دوں بھی تو کس منہ سے اے ولی

جب ہر سلوک بد کا سزاوار میں ہی تھا


ولی الحق انصاری

No comments:

Post a Comment