Tuesday, 4 August 2026

بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

 بے چہرگیٔ غم سے پریشان کھڑے ہیں

ہم پھر بھی وہ ظالم ہیں کہ جینے پر اڑے ہیں

غم سے جو بلند اور مسرّت سے بڑے ہیں

ایسے بھی کئی داغ مِرے دل پہ پڑے ہیں

تاریخ کے صفحوں پہ جو انسان بڑے ہیں

ان میں بہت ایسے ہیں جو لاشوں پہ کھڑے ہیں

کیا کیا نہ ہمیں گھر کی اُداسی سے گِلہ تھا

اب شہر سے نکلے ہیں تو حیران کھڑے ہیں

آئی نہ شکن میری جبیں پر رہِ غم میں

کچھ آبلے پڑنے تھے سو تلووں میں پڑے ہیں

یادوں کے گھنے شہر میں کیونکر کوئی نکلے

ہر فرد کے پیچھے کئی افراد کھڑے ہیں

رونا تو یہ ہے حلقۂ زنجیر کی صُورت

حالات کے پیروں میں ہمیں لوگ پڑے ہیں

سُورج جو چڑھے گا تو سمٹ جائیں گے یہ لوگ

سائے کی طرح قد سے جو دو ہاتھ بڑے ہیں

ہم پر جو گُزرتی ہے اسے کس کو بتائیں

تنہائی کی آغوش میں صدیوں سے پڑے ہیں

حالات کے پتھراؤ سے بچ نکلیں تو جانو

شیشے کی طرح ہم بھی فریموں میں جڑے ہیں

اس دورِ خِرد کا یہ المیہ ہے کہ انسان

آپ اپنی ہی لاشیں لیے کاندھوں پہ کھڑے ہیں

صدیاں ہیں کہ گُزری ہی چلی جاتی ہیں نازش

ہیں روز و مہ و سال کہ چُپ چاپ کھڑے ہیں


نازش پرتاپ گڑھی 

No comments:

Post a Comment