Wednesday, 5 August 2026

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کھلا ہو گا

 وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا

دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا

اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے

کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا

اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے

ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا

اسی سے سارے سمندر کے ہونٹ سُوکھے ہیں

وہ گرم ریت پہ پیاسا بکھر گیا ہو گا

سمجھ رہی جو اختر کو کوہکن دنیا

قلم کی نوک کو تیشہ بنا لیا ہو گا

    

اختر عظیم آبادی

No comments:

Post a Comment