وہ میری فکر کی لذت سے آشنا ہو گا
دریچہ ذہن کا جس روز بھی کُھلا ہو گا
اداس شب ہے ستاروں کی آنکھ بھی نم ہے
کوئی ضرور اکیلے میں رو رہا ہو گا
اسے تو اپنی ہی اک فکر کھائے جاتی ہے
ہمارے بارے وہ کیسے سوچتا ہو گا
اسی سے سارے سمندر کے ہونٹ سُوکھے ہیں
وہ گرم ریت پہ پیاسا بکھر گیا ہو گا
سمجھ رہی جو اختر کو کوہکن دنیا
قلم کی نوک کو تیشہ بنا لیا ہو گا
اختر عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment