Showing posts with label اصغر مجیبی. Show all posts
Showing posts with label اصغر مجیبی. Show all posts

Thursday, 22 January 2026

ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے

 ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے

مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے

گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر

اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے

ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر

کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے

Wednesday, 9 April 2025

خوشی پر تری ہر خوشی کو لٹا دوں

 خوشی پر تِری ہر خوشی کو لٹا دوں

میں دنیا کی دل بستگی کو لٹا دوں

نچھاور کروں تجھ پہ چاند اور تارے

فلک کو، زمیں کو، سبھی کو لٹا دوں

اشارہ جو ہو تیرا، اے جانِ عالم

خوشی شے ہے کیا زندگی کو لٹا دوں

Sunday, 2 March 2025

ہر احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے

 ہر احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے

سکوں اسی میں ہے در اصل آدمی کے لیے

غم و خوشی سے پرے ہو گی جب نظر تیری

کبھی نہ ترسے گا لمحاتِ زندگی کے لیے

یہ فیضِ علم و ہنر اور ضیائے شمس و قمر

طلب اگر ہو تو کافی ہے روشنی کے لیے

Sunday, 19 September 2021

وہ چاہتا ہے تو مشکل میں ڈال دیتا ہے

تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا

💥رہین منت لیل و نہار ہونا تھا💥

جو مبتلائے غم روزگار ہونا تھا

تو دل پہ اپنے ذرا اختیار ہونا تھا

فراق گُل میں اگر دل فگار ہونا تھا

تو ہر کلی کو مِرا غمگسار ہونا تھا