ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے
مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے
گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر
اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے
ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر
کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے
ادائے خاص سے مسکرا دیا تو نے
مری حیات کو نغمہ بنا دیا تُو نے
گرا کے برقِ تبسم مِرے دل پر
اک ارتعاشِ مجسم بنا دیا تُو نے
ذرا سا جلوۂ رنگیں کا عکس دکھلا کر
کلی کلی کو گلستاں بنا دیا تُو نے
خوشی پر تِری ہر خوشی کو لٹا دوں
میں دنیا کی دل بستگی کو لٹا دوں
نچھاور کروں تجھ پہ چاند اور تارے
فلک کو، زمیں کو، سبھی کو لٹا دوں
اشارہ جو ہو تیرا، اے جانِ عالم
خوشی شے ہے کیا زندگی کو لٹا دوں
ہر احتیاط ضروری ہے زندگی کے لیے
سکوں اسی میں ہے در اصل آدمی کے لیے
غم و خوشی سے پرے ہو گی جب نظر تیری
کبھی نہ ترسے گا لمحاتِ زندگی کے لیے
یہ فیضِ علم و ہنر اور ضیائے شمس و قمر
طلب اگر ہو تو کافی ہے روشنی کے لیے
تری طلب میں مجھے شرمسار ہونا تھا
💥رہین منت لیل و نہار ہونا تھا💥
جو مبتلائے غم روزگار ہونا تھا
تو دل پہ اپنے ذرا اختیار ہونا تھا
فراق گُل میں اگر دل فگار ہونا تھا
تو ہر کلی کو مِرا غمگسار ہونا تھا