اک جواں سی سنسناہٹ شوخ ساعت میں بسی
قلب و جاں کو دے گئی اک بیخودی، اک سرخوشی
کھیل تھا خوش فہمیوں کا جو رہا کچھ دیر تک
اک اداسی سی اداسی پھر فضا میں رچ گئی
درد کی دولت ملی تو دل قلندر ہو گیا
ہیچ تھی اب اس کے آگے دو جہاں کی خسروی
مصلحت کا تیری محفل میں عجب انداز تھا
ہوشمندی تو وہاں کچھ ہوش کھو دینے میں تھی
رفتہ رفتہ حسرتیں بھی دل سے رخصت ہو گئیں
بس گئی ہے اس مکاں میں ایک سونی بے بسی
جھنجھنائیں کچھ حسیں شاداب یادیں اس طرح
پھر سرِ مِژگاں سجی ہے موتیوں کی اک لڑی
کرشن مراری سہگل
No comments:
Post a Comment