دِل کی وِیران سی گلیوں میں سِتارے نکلے
تُجھ میں جھانکا تو کئی رنگ ہمارے نکلے
تُجھ کو دیکھوں تو یہ دُنیا بھی حسِیں لگتی ہے
تِرے پہلو سے بہاروں کے شُمارے نکلے
صُبح کی پہلی کِرن ہو کہ ہوا کا جھونکا
زُلف چہرے سے ہٹائی تو سِتارے نکلے
سُرمئی شام کی دہلیز پہ آ بیٹھے ہیں
وہ نظارے جو تِری دِید کے مارے نکلے
موج در موج سمندر میں تلاطم اُٹھا
پھر سفینے سے کئی لوگ ہمارے نکلے
پھر جوانی نے کئی خواب دِکھائے مجھ کو
پھر مِری رُوح سے اُلفت کے شرارے نکلے
شاہ رخ عبیر
No comments:
Post a Comment