اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی
سو ہم سے غمِ یار کی عزت نہیں ہوتی
لاحق ہو جنہیں اپنوں سے ہی جان کا خطرہ
ان کے لیے کوئی صبر کی آیت نہیں ہوتی
ماں باپ کو یہ کہہ کے نکالا گیا گھر سے
اب ہم سے مزید آپ کی خدمت نہیں ہوتی
اس کی جو ہمہ وقت ضرورت نہیں ہوتی
سو ہم سے غمِ یار کی عزت نہیں ہوتی
لاحق ہو جنہیں اپنوں سے ہی جان کا خطرہ
ان کے لیے کوئی صبر کی آیت نہیں ہوتی
ماں باپ کو یہ کہہ کے نکالا گیا گھر سے
اب ہم سے مزید آپ کی خدمت نہیں ہوتی
بڑھ چلا عشق تو دل چھوڑ کے دنیا اٹھا
خود بخود جوش مے ناب سے شیشہ اٹھا
دست نازک سے زر گل کا بھی اٹھنا ہے محال
یہ تو فرمائیے کس وجہ سے توڑا اٹھا
جب پکارے لب جاں بخش سے وہ مر گئے ہم
نا توانوں سے نہ بار دم عیسیٰ اٹھا
آپ کہتے ہیں تو ہم ترک وفا کرتے ہیں
آپ کے حکم پہ خود پر بھی جفا کرتے ہیں
آپ کا ساتھ نباہا تھا خوشی میں، غم میں
آپ کی یاد بھی اب دل سے جدا کرتے ہیں
وصل میں آپ کے تو آدمی بھی نہ بن سکے
آپ سے ہو کے جدا خود کو خدا کرتے ہیں
سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے
بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے
نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں
ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے
جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں
کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے
مدت سے جسم برف میں جکڑا ہوا سا ہے
ماحول میرے سینے میں بیٹھا ہوا سا ہے
کہرے میں آنکھ پھوٹ گئی تب خبر ملی
سورج مری تلاش میں نکلا ہوا سا ہے
ہر آنکھ مجھ پہ پڑتی ہے تلوار کی طرح
ہر شخص میرے خوں میں نہایا ہوا سا ہے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
تُو دِیا میں باتی ہوں
ساتھ نہ چھوڑوں گی
سوگندھ یہ کھاتی ہوں
سیما پیروز
میں اور خوابوں کا اندوختہ
عجب ماہ و سال میں پھنس گیا
بکھری بکھری بے ترتیب چیزوں میں
لمحہ لمحہ بکھر گیا
بس ایک جھونکا کبھی غبار کا
اِس سمت سے اُس سمت تک
الگ کر دیتا ہے
دل ہوتے ہوتے منزل جانانہ ہو گیا
آباد رفتہ رفتہ یہ ویرانہ ہو گیا
وہ ہیں کہ دو جہان کو اپنائے جاتے ہیں
میں ہوں کہ اپنی ذات سے بیگانہ ہو گیا
جلنے کا شوق اف ترے کشتے کی خاک کا
جو ذرہ اڑ گیا وہی پروانہ ہو گیا
ہر بات پہ انکار کرے ہے بُتِ کافر
تُو شخص تو اچھا ہے مگر تیرے عناصر
اے شہر تمنا میں سکونت کے بِھکاری
اس شہر میں آباد نہیں کوئی مہاجر
خوش رہنے کی تاکید نہ کر وقت ہے اب بھی
گر مان لیا میں نے کہیں تیرا کہا پِھر
حکم ہے اُس کا کہ سچ ہر بات کہنا چاہیے
رات کو دن اور دن کو رات کہنا چاہیے
یہ جو دریا بہہ رہا ہے شور اس کا وصف ہے
دل کا دریا خاموشی کے سات بہنا چاہیے
یوں بھی دینا چاہیے اُن کے سوالوں کے جواب
کچھ خیالِ خاطرِ جذبات رہنا چاہیے
اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سے
اُڑ گئے ٹُکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سے
راز اُلفت کے عیاں ہونے کا ڈر جاتا رہا
خامشی سیکھی ہے ہم نے بُلبل تصویر سے
چھیڑتا ہے کس لیے ناصح اسیرِ زُلف کو
دم اُلجھتا ہے تِری اُلجھی ہوئی تقریر سے
مُشکل تِری اُڑان ہے سُورج نظر میں رکھ
تاریک آسمان ہے سورج نظر میں رکھ
جانا ہے روشنی کی طرف لوٹ کر تجھے
دو پل کا یہ جہان ہے سورج نظر میں رکھ
بے رنگ اس کے پھُول ہیں بے نُور ہر شجر
جنگل یہ گُلستان ہے سورج نظر میں رکھ
کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس
جو اب ہمارے دور کے ہے گُلستاں کے پاس
کتنی ہیں بستیاں جو معلّق خلا میں ہیں
کتنے جہاں، رُکے ہوئے ہیں کہکشاں کے پاس
چٹیل ہیں رہگزاروں کے سینے کُھلے ہوئے
اب خاک بھی نہیں ہے کسی کارواں کے پاس
لذتِ دردِ جگر دوست بڑھا دیتا ہے
زخم رِستا ہے تو کچھ اور مزا دیتا ہے
میرے زخموں پہ نمک روز چھِڑک دیتا ہے
جانے کس جرم کی وہ مجھ کو سزا دیتا ہے
تلخ باتوں سے مِرے دل کو دکھاتا ہے روز
میرا ہو کے مِرے زخموں کو ہوا دیتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قرآن مُعجزہ ہے، بشارت حدیث ہے
خالق کو خلق سے ہے محبت، حدیث ہے
ہمسائے کے حقوق ادا ہونے چاہئیں
دُکھ سُکھ میں ہونی چاہیے شرکت، حدیث ہے
گندم کی بالیوں میں بشارت ہے اجر کی
تقسیم ہونی چاہیے دولت، حدیث ہے
آرزُو تھی کہ کبھی اُن کے رُوبرُو ہوتے
اک عُمر گُزرے گی تکمیلِ آرزو ہوتے
ہمارے اشکِ ندامت🥹 لہُو لہُو ہوتے
ہم بھی گُلشن میں گُلوں جیسے سرخرُو ہوتے
ان سے باتیں تو خیالوں میں ہُوا کرتی ہیں
کاش ہم خُود سے کبھی محوِ گُفتگو ہوتے
جو کر کے رفُو پیرہن ناچتے ہیں
چھُپانے کو دردِ کُہن ناچتے ہیں
ذرا بھی نہیں فکر سُود و زیاں کی
سرِ دار کیا بانکپن ناچتے ہیں
ہُوا تذکرہ جو تِرے گیسوؤں کا
مِرے ساتھ اہلِ سُخن ناچتے ہیں
بڑا بے ڈھنگ تھا، جب تم نہیں تھیں
میں خود سے تنگ تھا، جب تم نہیں تھیں
میں اب رنگین غزلیں کہہ رہا ہوں
سخن بے رنگ تھا، جب تم نہیں تھیں
تمہارا کون تھا، جب میں نہیں تھا؟
میں کس کے سنگ تھا، جب تم نہیں تھیں
دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئی
تم چلے اُٹھ کے مِری جان قیامت آئی
آپ کے ظُلم نے دی میری وفا کو شہرت
کہ مِرے خُون سے بھی بُوئے محبت آئی
سچ ہے مرنے پہ نہیں کوئی کسی کا دل سوز
شمع بھی بُجھ گئی جس دم سرِ تربت آئی
اظہار
اپنی شریک حیات الزبتھ (زیبا کے لیے)
اب تِرے جسم سے اُٹھتی ہوئی خُوشبو کی لپٹ
میرے احساس پہ آویزاں ہے
گرم ہے کمرے کی خاموش فضا
تیرے عارض پہ پسینے کی نمی
ذہن میں لاتی ہے برسات کی پہلی راتیں
میری خبر ہے دل کو نہ دل کی خبر مجھے
دیوانہ کر گئی ہے کس کی نظر مجھے
کیسے قرار آئے مرے دل کو ہم نشیں
پھرتی ہے تیری یاد لیے در بدر مجھے
منزل کے پاس آ کے ہوئے دونوں دو طرف
میں ہمسفر کو بھول گیا ہمسفر مجھے
لوٹا دو
لو! آج میرے سارے خواب توڑ دو
بہت سنبھال کر رکھا ہے جن رتجگوں کو پلکوں پر
وه سارے کے سارے آج مجھے لوٹا دو
میری وه الہڑ عمر، وه بانکپن
وه میرے عارض کی دھنک رنگ رنگت
وه میری کھنکتی ہنسی
اسی لیے ہی تو حدِ بیاں سے آگے ہے
علیؑ زمانے کے وہم و گماں سے آگے ہے
علیؑ کو مان رہا ہوں میں روزِ اول سے
مِرا یقین تمہارے گماں سے آگے ہے
نصیری اور مقصر جہاں تلک پہنچے
یقین مان علیؑ تو وہاں سے آگے ہے
زندگی کیا مانگتی ہے کچھ سمجھ آتا نہیں
جس طرف بھی دیکھیے اب دل کو کچھ بھاتا نہیں
دوستی بھی دیکھ لی اور دشمنی بھی دیکھ لی
دونوں رشتوں سے ہی انساں کچھ کبھی پاتا نہیں
کس لیے انساں کے دل نے پائی دولت کی ہوس
اس جہاں سے ساتھ اپنے کچھ وہ لے جاتا نہیں
دانا جو کہہ رہے ہیں مُنافق کو عقل مند
سو ہو گیا ہوں میں بھی تھوڑا مصلحت پسند
خُوئے غُلامی راس جِسے آ گئی یہاں
کیسے بھلا وہ ہو گا کبھی پھر خطر پسند
کج فَہمی کھا گئی ہے مِری نسل کا شعور
ہر شخص مِرے شہر کا اک خول میں ہے بند
تھی کوئی تمثیل گُل شاخِ گُماں سے بے خبر
عکس تھا ٹھہرا ہوا آبِ رواں سے بے خبر
جانے کیسی دُھن میں تھے ہم، بے خطر چلتے رہے
غلغلۂ شہر غوغائے سگاں سے بے خبر
غم سے بھر آئے اگر تو خُود سے ٹکراتا ہے دل
ٹُوٹتا ہے یہ سبو شیشہ گراں سے بے خبر
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہمیشہ ایک نیا راستہ وہاں سے مِلا
چراغِ نقشِ کفِ پا تِرا جہاں سے ملا
یہ کِن اُجالوں کی بستی کا تُو مسافر تھا
کہ آفتاب تِری گردِ ارواں سے ملا
خلا رہا نہ کہیں خلق اور خدا میں کوئی
کہ یوں زمیں کو دیا تُو نے آسماں سے ملا
لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
اِذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
کسی کی یاد مِرے دل میں اذاں دیتی ہے
میرے دل میں جو بسا ُہے وہ مسلمان ہے کیا
آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دُھواں بھی ہر سُو
اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے
کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے
دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے
آسمان پر انسانوں کا سایا ہے
ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے
ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے
وہ دکھے گا ضرور دیکھیں تو
وہ وہاں اور دور دیکھیں تو
دل کہیں بعد ہے مگر پہلے
ہے نظر کا قصور دیکھیں تو
جس نے دیکھا ہے آنکھ بھر کے مجھے
اس نظر کا غرور دیکھیں تو
موسم ہجرت میں جو اپنوں سے بیگانے رہے
وہ شب ظلمت میں کتنے جانے پہچانے رہے
ہوش والوں کو تماشے دیکھتے ہی منتظر
دل پہ پتھر رکھ کے ہم اک عمر دیوانے رہے
فاتح شب کی ہوس میں روشنی پہ مر مٹے
خودکشی کی آڑ میں بے خوف پروانے رہے
زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں
سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں
سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں
اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں
مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا
کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں
کچھ عشقِ بُتاں کچھ فکرِ جہاں دل یاس کا مارا کیا کہیے
کشتی کو تلاطم کا خطرہ، اور دُور کِنارہ کیا کہیے
اپنوں کے ہمیشہ جور و سِتم غیروں کا سہارا کیا کہیے
کس طور کیا ہے دنیا میں دو روز گُزارا کیا کہیے
بھٹکا ہوا آنسُو پلکوں کی چلمن میں لرزتا ہے ایسے
جیسے کہ گھٹا کے آنچل میں اُلجھا ہوا تارا کیا کہیے
آموختے کا جال زباں سے لپٹ گیا
بدلی ہوا تو حرف کا پانسہ پلٹ گیا
مجھ سے نکل کے ہیبت شب کا تھا سامنا
سایہ وفور خوف سے پلٹا چمٹ گیا
صد تلخیوں کی شاخ پہ بیٹھی تھی موج نیم
برگد سے آ کے جھونکا ہوا کا پلٹ گیا
تم سفینۂ وفا ہم بادباں بن جائیں گے
تم گُلوں کی آبرو ہم آشیاں بن جائیں گے
آستانِ رب کے سجدے تم کرو گے رات دن
دیکھنا اس در کے ہم ہی آستاں بن جائیں گے
شوق سے سنتے ہو بیٹھے داستاں تم دوستو
آنے والے کل میں ہم خود داستاں بن جائیں گے
حضرتِ دل جناب کی خاطر
عاقبت ہے عذاب کی خاطر
ترکِ لذّات اور میں، توبہ
ایک روزِ حساب کی خاطر
حضرتِ شیخ آپ بھی پی لیں
اک ذرا سی ثواب کی خاطر
کرنی ہو گر تو کیجیو جام و سبو کی بات
مت لائیو زباں پہ مگر آرزو کی بات
مقدور بھی یہی ہے کہ پردے پڑے رہیں
اپنی کہاں بساط کریں رو بہ رو کی بات
دیکھیں گے پھر سے بزم میں جلوہ نما اسے
سنتے رہیں گے بیٹھ کے اس ماہ رو کی بات
پھولوں میں جھلک حسن رخ یار کی نکلی
ہم خوش ہیں کوئی شکل تو دیدار کی نکلی
الفاظ سے خوشبو تِرے کردار کی نکلی
جب بات مسیحا تِرے گفتار کی نکلی
نیلام ہوئے چاند ہر اک شہر میں لیکن
رونق نہ کہیں مصر کے بازار کی نکلی
وہ ایک شخص جو پورا مِرا نہیں بنتا
خدا تو بنتا ہے پر آسرا نہیں بنتا
کہیں پہ واسطہ ہونے کے باوجود سُنو
کسی حوالے سے بھی واسطہ نہیں بنتا
ہماری آنکھ سے دل تک رسائی کیسے ہو
عطا بغیر یہاں راستہ نہیں بنتا
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو*/تروینی/ترائلے
کھلتی خوبانیوں کی خوشبو سے
شام مہکی ہے میرے آنگن میں
ماں کے ہونٹوں پہ کانپتی ہے دعا
محمد امین
میری چاہتوں کے سفر کا حاصل
دنیا والوں کے سبھی طعنے
ویران دن، اداس راتیں
جسم و جاں کے سب عذاب
تیرے تحفے
میرے نام
منور بلوچ
زندگی سے سفر نہیں جاتا
کیوں مقدر سنور نہیں جاتا
شوقِ آوارگی ہے اس کو بھی
رات بھر میں بھی گھر نہیں جاتا
دے رہا ہے مجھے اذیت یہ
وقت یہ بھی گزر نہیں جاتا
یقیں تو پھر یقیں رہا گماں کا کیا گماں گیا
حدودِ دو جہاں کو تج حضورِ لا مکاں گیا
اٹھی نقابِ رخ اُدھر، اِدھر سے شور اٹھا کہ دل
ابھی ابھی یہیں تو تھا کہاں گیا کہاں گیا
جدارِ کعبۂ یقیں میں پھر دراڑ آئے گی
بس اس امیدِ ناز میں یہ دل کشاں کشاں گیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
در بدر مدحتِ سرکارؐ سناتا ہُوا میں
اپنی بخشش کا سامان بناتا ہوا میں
آپﷺ ہیں مسند محمود پہ جلوہ افروز
اور غلاموں میں کھڑا نام لکھاتا ہوا میں
روکتے کھینچتے دوزخ سے بچاتے ہوئے آپؐ
اور دوزخ کی طرف دوڑ لگاتا ہوا میں
کوکب سب افلاک میں گُم
صوفی رُوحِ پاک میں گم
کھنڈر ہوئی ہر اونچی حویلی
پھر بھی اونچی ناک میں گم
حُسن ہے ساتھ حجابوں ہی کے
ہر منظرِ بے باک میں گم
ایک لمحے کا ہے یہ جہاں دوستو
ہم رہیں پھر کہاں، تم کہاں دوستو
اتنا سامان شانوں پہ کیوں لے چلیں
مُختصر ہے بہت یہ جہاں دوستو
ان بہاروں کو دائم سمجھنا نہیں
آئے گی کل خزاں بھی کہاں دوستو
وہی عذاب، وہیں آسرا بھی جینے کا
وہ میرا دل ہی نہیں زخم بھی ہے سینے کا
میں بے لباس ہی شیشے کے گھر میں رہتا ہوں
مجھے بھی شوق ہے اپنی طرح سے جینے کا
وہ دیکھ چاند کی پُر نُور کہکشاؤں میں
تمام رنگ ہے خُورشید کے پسینے کا
شبِ ہِجراں میں دم نِکلتا ہے
کب پیامِ وصال ٹلتا ہے
دلِ بیمار سے ہے تنگ مسیح
داغ سے آفتاب جلتا ہے
بے زری سے ہوں پائمال بُتاں
زور کس کا خُدا سے چلتا ہے
بتائیں کس طرح اے دل کسے دیکھا کہاں دیکھا
وہی جلوہ نما جس طرف دیکھا جہاں دیکھا
کوئی پوچھے نبیؐ سے کیا شہ کون و مکاں دیکھا
پس پردہ تھا کیا اور کیا سر پردہ وہاں دیکھا
کہیں گے جان جاں نے جلوہ جانانِ جاں دیکھا
اٹھا پردہ تو دستِ حضرت حیدرؑ عیاں دیکھا
عرصۂ خواب میں ہُوں ہوش سے رُخصت ہے مجھے
گردشِ شام و سحر ساغرِ غفلت ہے مجھے
اِک مِری لغزشِ پا سے ہے زمانے کو خرام
نغمۂ شہرِ سخن وقفۂ لُکنت ہے مجھے
کیوں ہو تنہائی میسّر تجھے اے دل کہ جہاں
خود مِرا سایہ بھی ہنگامۂ کثرت ہے مجھے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کبھی جالی کبھی گُنبد کبھی مینار کے پاس
بیٹھ کر نعتیں لکھوں روضۂ سرکارؐ کے پاس
کہکشاں یا مہ و خُورشید ہوں آتے ہیں سبھی
نُور لینے کے لیے مرکزِ انوار کے پاس
با ادب حُور و ملک جِن و بشر شاہ و گدا
ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں درِ سرکارؐ کے پاس
ہم نے اشکوں سے لکھی ہے یہ کہانی سنیے
درد جو دل کا ہے اشکوں کی زبانی سنیے
یاد اک پھانس ہے رہ رہ کے کسک جاتی ہے
اب کبھی پریت نہیں اتنی بڑھانی سنیے
ساتھ ہو کوئی تو چھالے بھی مزا دیتے ہیں
جیٹھ کی دھوپ بھی لگتی ہے سہانی سنیے
ایک موہوم سی خوشی کی طرح
تم ملے بھی تو اجنبی کی طرح
تیرگی کے اداس جنگل میں
ہم بھٹکتے ہیں روشنی کی طرح
غم دوراں سنوار دوں تجھ کو
اپنے گیتوں کی دلکشی کی طرح
کوئی میرا ہوا ہوا نہ ہوا
اس کا مجھ کو کبھی گلہ نہ ہوا
سب کی کرتا رہا بھلائی میں
پھر بھی میرا کبھی بھلا نہ ہوا
ہو گئے مجھ سے وہ جدا پھر بھی
درد دل سے مگر جدا نہ ہوا
دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے
بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے
عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا
بات اپنی خطا نہ ہو جائے
درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں
خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے
جنت نظیر شہر پر کس کی نظر لگی
سن کر تمہارا نام میرے دل میں تھی خوشی
گلگت میرے حسین شہر! تجھ پہ ہو سلام
لکھتا رہا ہوں تجھ پر میں نوحہ کبھی کبھی
ناحق لہو بہا ہے جس سے دوستو
رزقِ حلال، امن و اماں بھی چلی گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جو تِرے در پہ، دِوانے سے آئے بیٹھے ہیں
وہ اپنی لو بھی تجھی سے لگائے بیٹھے ہیں
فقط حضورﷺ کا اُسوہ ہے جن کے پیش نظر
جبینیں اپنی ادب سے جھکائے بیٹھے ہیں
طلب سے بڑھ کے ملی ان کو ہے پذیرائی
ردائیں اوڑھ کے جو منہ چھپائے بیٹھے ہیں
وقت کی قیمت کیا ہے
کیوں چہرہ دیکھتے ہیں لوگ
ہزاروں میں پہچانتے ہیں لوگ
چھپتا ہے دل ہر کس و ناکس سے
کہتے ہیں روشنی میں آ
کہا ہوا سنا
سنائیں کس طرح
نوحہ
میرے کتے
مجھ سے بہتر جینے والے
آج تو میری خاطر بھونک
میرے حال پہ نوحہ کہہ
جو دھرتی افلاک ہلا دے
جس پر میں تقسیم ہوا ہوں
تھکن سے چُور بے کنار سو گئی
ندی کی نیند بستیاں ڈبو گئی
اگر یہ آنکھیں بُجھ نہیں گئی تو پھر
یہ رات بے چراغ کیسے ہو گئی
لِپٹ گئی ہے بازاؤں سے بیل سی
وہ قینچی جو ہاتھ میں تھی کھو گئی
جھک گیا پائے جاناں پہ سر ہی تو ہے
کھو گئی بجلیوں میں نظر ہی تو ہے
یہ جہاں پتھروں کا نگر ہی تو ہے
سانس لینا یہاں اک ہنر ہی تو ہے
چین سے رہنے دیتا نہیں ایک جا
یہ ہمارا جنون سفر ہی تو ہے
اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی
اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن
بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدحتِ قریۂ سرکارﷺ میں آ جاتے ہیں
مہر و انجم مرے اظہار میں آ جاتے ہیں
یہ بھی سرکارؐ کی رحمت ہے کہ ہم سے عاصی
منہ اٹھائے ہوئے دربار میں آ جاتے ہیں
اسوۂ احمدِ مُرسلﷺ پہ جو چلتے ہیں یہاں
نام وہ صاحبِ کردار میں آ جاتے ہیں
کئے پرورش وہ تو چاہت کے ساتھ
رکھیں دائیاں نیک اور پاک ذات
کئے پرورش وہ جو پالے تھی ماں
زر و مال کیا تھا تصدق تھی جاں
نہ اولاد تھی ان کو اور آل تھی
وہ ہوتے تھے صدقے یہ دیکھ بھال تھی
شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
کون کہتا ہے غم مصیبت ہے
یہ بھی مولا کی خاص رحمت ہے
لوگ کیوں زندگی پہ مرتے ہیں
میرے حق میں تو یہ قیامت ہے
حیلہ جوئی ہے اس کی رحمت کی
کب عبادت کوئی عبادت ہے
اک بڑے خواب کی فریاد بھی ہو سکتی ہے
زندگی موت سے آزاد بھی ہو سکتی ہے
پیاس اک پیاس جسے ماں کی دُعا ملتی پے
شہرِ مکٌہ کی وہ بُنیاد بھی ہو سکتی ہے
تُو مکمل سی کمی ہے کہ محبت ہے؟
یا فقیری کی یہ رُوداد بھی ہو سکتی ہے؟
نہ ارماں لے کے آیا ہوں نہ حسرت لے کے آیا ہوں
دل بے تاب میں تیری محبت لے کے آیا ہوں
نگاہوں میں ترے جلووں کی کثرت لے کے آیا ہوں
یہ عالم ہے کہ اک دنیائے حیرت لے کے آیا ہوں
لبوں پر خامشی آنکھوں میں آنسو دل میں بے تابی
میں ان کی بزم عشرت سے قیامت لے کے آیا ہوں
آج بے مہر و ستمگار نے پوچھا ہے مزاج
فخر سے عرشِبریں پر مِرا پہونچا ہے مزاج
کبھی بے گانہ وشی اور مدارات کبھی
کبھی عجب قسم کا اس شوخ نے پایا ہے مزاج
خاک میں مل کے ہوئے خاک بالآخر جن کا
عُجب و پندار سے افلاک پہ دیکھا ہے مزاج
مِرا مولیٰ منور یوں زمیں کی خاک کرتا ہے
کہ پل میں کم نظر کو صاحبِ ادراک کرتا ہے
وہی تاریک ذہنوں میں اُگاتا ہے نئے سُورج
وہی روشن دماغوں کو خس و خاشاک کرتا ہے
صبا کو جو بنا دیتا ہے صرصر اک اشارے میں
چراغوں کو وہی تو سرکش و بے باک کرتا ہے
خوبروئی بھی دلآزار بھلا کیا ہو گی
ہر گلی مصر کا بازار بھلا کیا ہو گی
اب تیری یاد بھی اک بجھتے دیے کی لو ہے
دل میں پھر روشنی بیدار بھلا کیا ہو گی
ٹھہرے پانی کا بھی ہم ساتھ نہیں دے سکتے
چڑھتے دریاؤں کی رفتار بھلا کیا ہو گی
فغاں کے ساتھ تِرے راحت قرار چلے
نوا گرانِ وفا ہمتوں کو ہار چلے
یہ کیا کہ پھول کِھلے اور زخم رسنے لگے
ملے سکوں بھی اگر بادِ نو بہار چلے
یہ ملتفت سی نگاہیں فروغ جام کے ساتھ
چلے یہ دور چلے اور بار بار چلے
لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے
کہ اب جنگل سے بھی بدتر مِرے شہروں کی حالت ہے
کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش
مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے
بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے
وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے
مادرِ مخلوق غم آسا؛ مدر ٹریسا
زمینی خُلد سے رخصت ہوئی مادر
بشر زادی
فرشتہ خصلتوں والی
مسیحا دردمندوں کی
دریدہ جسم کا مرہم
بِلکتی روح کی تسکین
رفتہ رفتہ بن نہ جائے پیار افسانہ ترا
دیکھ کر کہتے ہیں مجھ کو لوگ دیوانہ ترا
شمع کی لو پر ہی جل جانا جسے مقصود ہے
وہ کہیں کیوں جاں بچائے ہٹ کے پروانہ ترا
ہم ترے در سے چلے جائیں گے اک دن نا مراد
کیا کہے گا پھر تجھے ہر اپنا بیگانہ ترا
صدقے والشمس کے ماتھے پہ نکلتا ہوا دن
صدقے والليل کے شانوں پہ بکھرتی ہوئی شام
میلی اس درجہ ہوئی تین ہی پہروں میں کہ بس
شب سے پہنی نہ گئی دن کی اتاری ہوئی شام
سُرمئی جسم کے اک ہجر کے مارے ہوئے چاند
اور اسی جسم کے اک لمس پہ واری ہوئی شام
دن گزرا آشفتہ سر خاموش ہوئے
شام ہوئی اور بام و در خاموش ہوئے
شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا
کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے
بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے
ہماری طرح کوئی دوسرا ہُوا بھی نہیں
وہ دردِ دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں
اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشمِ شوق مدام
جو غم ابھی سرِ شاخِ الم کِھلا بھی نہیں
ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں
وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کُشا بھی نہیں
سنورتی آنکھ میں کاجل نہیں ہے
تمنّا آج کیوں چنچل نہیں ہے
اُترتے ہیں بھنور دل میں ہزاروں
لبوں پر تو کوئی ہلچل نہیں ہے
حرِیر و پرنیاں والوں سے یہ کہنا
غریبوں کے لیے آنچل نہیں ہے
انا کی آنکھ سے دست سوال دیکھوں گا
لبوں کو سی کے طلب کا زوال دیکھوں گا
غزل کہوں گا، کریدوں گا دل کے زخموں کو
زوال اپنا، قلم کا کمال دیکھوں گا
دعا سلام کا رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا
میں دل کے شیشے میں جس وقت بال دیکھوں گا
فلمی گیت
میرا جیون کچھ کام نہ آیا
جیسے سُوکھے پیڑ کی چھایا
اپنوں کے ہوتے ہوئے تن میں بسی تنہائی
آنسُو بنا کے خُوشی آنکھوں سے میں نے برسائی
خُوشیوں کو روتے روتے
دُنیا میں اب تو میرا جی گھبرایا
ڈُوب کے دیکھ لیا درد کی گہرائی میں
آج کی رات گُزر جائے گی تنہائی میں
شمع دل لایا ہوں یہ سوچ کے محفل میں تِری
ہو کمی کچھ نہ تِری انجمن آرائی میں
بے سبب ہوگا مِرے ساتھ میں رُسوا وہ بھی
نام اس کا بھی ہے شامل میری رُسوائی میں
پلٹنے والوں کو ہم نے دیکھا تھا ان کے حلیے بتا رہے تھے
سفر یہ مُشکل ترین تھا جس پہ ہم لوگ جا رہے تھے
گواہ رہنا اے دشت! تُو بھی، ملال ہم کو ذرا نہیں تھا
پُرانے زخموں کو درگُزر کر، نئے کی جگہیں بنا رہے تھے
جب اس نے دیکھا تو شہرِ دل میں عجیب ہلچل مچا کے رکھ دی
بدن کے بے حس تمام اعضاء، نظر کا نخرہ اُٹھا رہے تھے
چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی
ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی
ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں
ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی
بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے
چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی
کھوئے کھوئے حواس رہتے ہیں
جانے ہم کیوں اداس رہتے ہیں
تجھ سے ہو کر جدا بھی اے ظالم
ہم تِرے آس پاس رہتے ہیں
تشنگی اپنی کم نہیں ہوتی
جام ہاتھوں کے پاس رہتے ہیں
شدت غم کا اب تو یہ عالم ہے
لب تو ہنستے ہیں، آنکھ پُرنم ہے
ہے تری یاد مونس شبِ غم
تُو نہیں سامنے تو کیا غم ہے
عشق محزوں کی خیر یو یا رب
آج ان کا مزاج برہم ہے
جائیے شیخ جی جائیے
منہ ہمارا نہ کھلوائیے
تاؤ کے بدلے غم کھائیے
ڈھب شریفانہ اپنائیے
پیار جیسی کوئی شے نہیں
پیار سے سب سے پیش آئیے
اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں
میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں
مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا
جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں
زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا
میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں
وہ دل نہیں رہا وہ محبت نہیں رہی
اب زندگی سے کوئی شکایت نہیں رہی
اس بار کوئی زخم بھی گہرا نہیں لگا
مجھ پر ستمگروں کی عنایت نہیں رہی
جائیں کہاں سمیٹ کے اپنی اداسیاں
کہتے تھے گھر جسے وہ عمارت نہیں رہی
دھوپ کو سایۂ دیوار نہیں مانتا میں
زندگی تجھ کو وفادار نہیں مانتا میں
اس سے انسان کو جینے کا ہنر آتا ہے
گردشِ وقت کو بے کار نہیں مانتا میں
جاں بچانے کے لیے قتل کیا ہو جس نے
ایسے قاتل کو گنہ گار نہیں مانتا میں
دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم
ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم
سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم
ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم
وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم
طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم
مہمان دل میں پھر کوئی خانہ خراب ہے
آنکھیں شراب و جام ہیں چہرہ کتاب ہے
تعریف ہو گئی تِری،۔ تُو کامیاب ہے
میں کیا کروں کہ تُو بھی مِرا انتخاب ہے
وہ قہر ہے، ثواب ہے، کوئی عذاب ہے
لیکن جناب! تیرِ نظر کامیاب ہے
ہر کسی کی ہستی کا ناخدا تو ہوتا ہے
یہ بھنور ہی ایسا ہے ڈوبنا تو ہوتا ہے
صاف صاف لہجے میں بات کرنی پڑتی ہے
فاصلے تو بڑھتے ہیں، فیصلہ تو ہوتا ہے
بارِشوں کے موسم میں رتجگے تو ہوتے ہیں
موسمی تبدل ہے عارضہ تو ہوتا ہے
یہ سمجھ کے چلتی ہوں تیرا نقشِ پا ہو گا
میں جہاں سے گُزروں گی تیرا سامنا ہو گا
وقت کیا بتائے گا کون کس کا قاتل ہے
اپنے آپ سے اک دن مجھ کو پوچھتا ہو گا
رُوٹھنے سے کیا حاصل آپ سے محبت ہے
آپ جب بھی آ جائیں میرا سر جُھکا ہو گا
ہم نہیں اتنے بُرے وہ جو بُرا کہتے ہیں
لوگ وہ بھی ہیں جو پتھر کو خُدا کہتے ہیں
ڈُوب جاتی ہے کنارے پہ جو کشتی آ کر
کہنے والے اسے قسمت کا لِکھا کہتے ہیں
بے وفا تم ہمیں جانو، کہ ستمگر جانو
ہم تمہیں جانِ ادا، جانِ وفا کہتے ہیں
فلمی گیت
اپنے جیون کی اُلجھن کو کیسے میں سُلجھاؤں
اپنوں نے جو درد دئیے ہیں کیسے میں بتلاؤں
پیار کے وعدے ہو گئے جھُوٹے، وفا کے بندھن ٹُوٹے
بن کے جیون ساتھی کوئی، چین میرا کیوں لُوٹے
ایسے جیون ساتھی سے میں کیسے ساتھ نِبھاؤں
مِرے اس شہر میں کیوں حُسن ہے بازار کی وحشت
جہاں پر باعثِ شمشیر ہے دربار کی وحشت
مخاطب ہو کے یوں شامِ محبت سے مِری وحشت
مجھے کہتی تِرے چہرے پہ ہے بیکار کی وحشت
عجب ایسے جہاں میں جی رہا ہوں پوچھو مت صاحب
جلا دیتی جہاں فنکار کو فنکار کی وحشت
کہاں دنیا سے لڑنا ہے کہاں خود سے بغاوت ہے
اسے سمجھا رہا ہوں جو محبت کی روایت ہے
ہزاروں دکھ اٹھاتا ہوں، ہزاروں زخم کھاتا ہوں
مگر جاتی نہیں یہ مسکرانے کی جو عادت ہے
جہاں پر جب بھی جی چاہے زمیں پر بیٹھ جاتا ہوں
کہ میرے جسم کی مٹی کو مٹی سے محبت ہے
عادت کی تحویل میں کوئی کتنا پاگل ہو جاتا ہے
مجھ سے فون پکڑتے ہی وہ نمبر ڈائل ہو جاتا ہے
جتنی منت میں نے کی ہے تم سے ہجرت کرنے کی
اتنی دیر میں میرے ہمدم پیڑ بھی قائل ہو جاتا ہے
عورت پیار میں شاید مرد سے بڑھ کر اندھی ہوتی ہے
ورنہ اس کی نظروں سے تو پتھر گھائل ہو جاتا ہے
درد کی جب انتہا ہو جائے گی
انتہا خود ہی دوا ہو جائے گی
رابطہ رکھیے غموں سے خود بخود
زندگی غم آشنا ہو جائے گی
کر نہ اے دل شکوۂ جور و جفا
ورنہ توہین وفا ہو جائے گی
قصہ ان دنوں کا ہے جب ہمیں محبت تھی
خواب اک معمہ تھا نیند اک اذیت تھی
کیا عجیب رشتہ تھا آگ اور پانی کا
میں برستا بادل تھا اور وہ قیامت تھی
ہم کہ ایک دوجے پر اس طرح سے لازم تھے
مجھ کو اس کا نشہ تھا اس کو میری عادت تھی
زعفرانی غزل
یارو بتاؤ تم کو میں کیا کیا دبئی میں ہے
سارے زمانے بھرکا تماشہ دبئی میں ہے
شلوار پر بھی اس نے کندورہ چڑھا لیا
آدھا ہے اپنے ملک میں آدھا دبئی میں ہے
کل مرکز الغریر میں لڑنے لگے رقیب
لڑکی ہے لالو کھیت میں پھڈا دبئی میں ہے
اگر عِزت مِلے تو سر تکبّر سے اُٹھانا مت
کسی کی خاک کو تم اپنے پیروں سے اُڑانا مت
یہ نفرت بھی محبت کا پُرانا رُوپ لگتی ہے
محبت رُوپ بدلے تو کبھی دھوکے میں آنا مت
اگر یہ بن گیا تو پھر تمہیں ہی بانٹ کھائے گا
جو دریا عشق کا ہے اس پہ کوئی گھر بنانا مت
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مدینہ کے جس شام و سحر کی بات کرتے ہیں
باالفاظ دگر خلد نظر کی بات کرتے ہیں
ستاروں کی نہ ہم حُسنِ قمر کی بات کرتے ہیں
جمال حضرت خیرالبشرﷺ کی بات کرتے ہیں
مبارک ذکر جنت آپ کو اے حضرتِ واعظ
ہم اپنے جذبِ دل ذوقِ نظر کی بات کرتے ہیں
ہر دل میں تِرا سودا ہر آنکھ تمنائی
اے زینت! ہر محفل، ہنگامۂ تنہائی
کعبے میں جسے ڈھوُنڈا بُتخانے میں ڈھونڈا تھا
مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی
شوخی ہے حیا پرور دُزدیدہ نگاہیں ہیں
سمجھے نہ کوئی اس کو اندازِ شناسائی
فلمی گیت
جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا ہمارا
اگر نہ ملتے اس جیون میں، لیتے جنم دوبارا
جنم جنم کا ساتھ ہے تمہارا۔۔۔۔۔
جب سے گُھومے دھرتی، سُورج، چاند، ستارے
تب سے میری نگاہیں، سمجھے تیرے اشارے
رُوپ بدل کر ساجن میں نے، پھر سے تمہیں پُکارا
گریباں چاک ہے تو ہو ابھی دستار باقی ہے
چلے آنا، تماشا بر سرِ بازار باقی ہے
ابھی سیلِ ندامت کی نئی یلغار باقی ہے
ابھی تک خانۂ دل کی کوئی دیوار باقی ہے
بگولے اور بھی اٹھیں گے شاید کِشتِ وِیراں سے
کہ خاکِ کُشتگاں میں خواہشِ آثار باقی ہے
کون سی دنیا میں ہم ہیں کچھ خبر پاتے نہیں
حد تو یہ ہے، دل کو بھی اب ہمسفر پاتے نہیں
کس طرح کہہ دیں کہ تُو اے موت امرت ہے کہ زہر
جب شرابِ زندگی کو بے ضرر پاتے نہیں
کون کہتا ہے کہ ہے معدوم لیلٰی کی کمر
ہاں مگر لیلائے دنیا کی کمر پاتے نہیں
میں پوچھتا ہی رہا شہرِ بے اماں کا پتہ
کوئی بتا نہ سکا تیرے آستاں کا پتہ
ہزاروں دوست نما لوگ ہمسفر تھے مگر
کسی کو اپنی خبر تھی نہ کارواں کا پتہ
خدا کرے نہ پڑے اس پہ بجلیوں کی نظر
ابھی ملا ہے مجھے میرے آشیاں کا پتہ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسنِ یوسف کا یہاں کوئی خریدار نہیں
یہ مدینہ ہے کوئی مصر کا بازار نہیں
دشمنِ آلِؑ محمدﷺ سے سروکار نہیں
ہم محمدﷺ کے وفادار ہیں غدار نہیں
تاج بھی غیر سے لینے کو تیار نہیں
آپؐ کے در کے بھکاری کا یہ معیار نہیں
بھٹکیں تِرے مدار میں، گردش نہ کر سکیں
ایسا نہ ہو کہ ہم تِری خواہش نہ کر سکیں
ہونٹوں پہ بے یقین، دُعائیں سجی رہیں
آنکھوں میں ابر آئیں تو بارش نہ کر سکیں
پُوچھے جو مہربان کوئی حال، ہنس پڑیں
ہم قاش قاش دل کی نمائش نہ کر سکیں
جاہ و منصب ہے نہ اب حشمتِ سُلطانی ہے
اس تباہی کا سبب اپنی ہی نادانی ہے
آہ وہ لمحے کہ جو خوابِ گِراں میں گُزرے
جن کی تعبیر میں صدیوں کی پشیمانی ہے
ایک سنّاٹے کا احساس تھا وہ بھی نہ رہا
دل کی دُنیا میں عجب طرح کی وِیرانی ہے
سرکس
وہ دونوں
لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش
لگاتار چلتے ہیں
کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو
کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں
یکجان ہو کر
فلمی گیت
میرا جیون کورا کاغذ کورا ہی رہ گیا
جو لکھا تھا آنسوؤں کے سنگ بہ گیا
میرا جیون کورا کاغذ۔۔۔۔
اک ہوا کا جھونکا آیا ٹُوٹا ڈالی سے پھُول
نہ پوَن کی نہ چمن کی کس کی ہے یہ بھُول
کھو گئی خوشبو ہوا میں کچھ نہ رہ گیا
نیا سُورج، نیا جلوہ، نئی تنویر لے آؤ
ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آؤ
زباں بھی بند کر لیتے مگر اب حکم آیا ہے
تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آؤ
مِرے خوابوں بڑی مشکل سے اس دل کو سُلایا ہے
کہیں ایسا نہ ہو تم پھر وہی تصویر لے آؤ