Tuesday, 1 September 2026

ایک پہیا تو سرکس میں چلتا ہے

 سرکس


وہ دونوں

لپیٹے ہُوئے اپنی گردِش

لگاتار چلتے ہیں

کم ہی قریب آتے دیکھا ہے اِن کو

کبھی ایسا ہو بھی تو ڈرتا ہُوں

یکجان ہو کر

یہ دو سے کہِیں ایک ہی بن نہ جائیں

بجا ایک پہیّا تو سرکس میں چلتا ہے

جوکر گُھماتا ہے

لیکِن یہ گاڑی کہاں چلنے والی ہے

جیون کی

میں ڈر ڈر کے

درزوں سے آنکھیں لگاتا ہوں

شاید کبھی دیکھ پاؤں میں یکجان ان کو

اور اپنی یہ پنسل پکڑ کر

بھروں رنگ جیون کے

نقشِ خیالی میں

لیکن کہاں پنسلوں سے یہ جیون کا نقشہ بنا ہے

حقیقت کہاں کاغذوں پر اُگی ہے

کبھی آگ پانی سے یکجان ہو کر جَلی ہے

زمیں پر اگر ایک گُم دوسرے میں ہُوا تو

یہ جانو کہ اب وہ زمیں پر نہیں ہے

میں چُھپ چُھپ کے

درزوں سے آنکھیں لگا کر

یہی دیکھتا ہُوں

الگ اپنے بستر بِچھاتے ہیں

بتّی بُجھاتے ہیں

اور پھر

خموشی کی لمبی سڑک پر

نہ جانے کہاں جا نکلتے ہیں

جیون کی گاڑی کو لے کر


محمد یامین

No comments:

Post a Comment