Tuesday, 1 September 2026

نیا سورج نیا جلوہ نئی تنویر لے آؤ

 نیا سُورج، نیا جلوہ، نئی تنویر لے آؤ

ہمیشہ خواب لائے ہو کبھی تعبیر لے آؤ

زباں بھی بند کر لیتے مگر اب حکم آیا ہے

تصور کے لیے بھی آہنی زنجیر لے آؤ

مِرے خوابوں بڑی مشکل سے اس دل کو سُلایا ہے

کہیں ایسا نہ ہو تم پھر وہی تصویر لے آؤ

سیاست نے مسائل کا یہی اک حل نکالا ہے

کسی لفاظ سے لِکھوا کے اک تقریر لے آؤ

ہمارا قتل ایسا بھی کوئی مُشکل نہیں یارو

جگر ہاتھوں پہ رکھا ہے تم اپنے تیر لے آؤ

مِری گُمنامی پر یہ مشورہ ہے اہل دُنیا کا

قلم کو بیچ کر بازار سے شمشیر لے آؤ

سنہرے بال کھولے منتظر بیٹھی ہے جو کب سے

مصدق زندگی سے اپنی وہ تقدیر لے آؤ

 محمد مصدق لاکھانی​

No comments:

Post a Comment