عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے
مِرے نصیبِ سخن کی ذہانتیں کر دے
میں لفظ و معنی کے ابہام سے نکل جاؤں
سخن شناس فضا کی سماعتیں کر دے
انا کی سرکشی، بس میں مِرے نہیں آتی
مِری جبیں کے مقدر عبادتیں کر دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے
مِرے نصیبِ سخن کی ذہانتیں کر دے
میں لفظ و معنی کے ابہام سے نکل جاؤں
سخن شناس فضا کی سماعتیں کر دے
انا کی سرکشی، بس میں مِرے نہیں آتی
مِری جبیں کے مقدر عبادتیں کر دے
رہزن ہوا جو راہنما ہاتھ کٹ گئے
بیری یہ راستہ جو ہوا ہاتھ کٹ گئے
غارت گرانِ امن و سکوں کو ملی پناہ
انصاف کی اٹھی جو صدا ہاتھ کٹ گئے
تبدیلئ نظام کی خاطر ہوئے نثار
ہاں، انقلاب آ تو گیا، ہاتھ کٹ گئے
خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو
اور اس جبر کو آزادیٔ افکار کہو
جن کے ہاتھوں میں علم اور نہ کمر میں شمشیر
وہ بھی کہتے ہیں ہمیں قافلہ سالار کہو
میں تو اک شوخ کے دامن سے کروں گا تعبیر
تم اسے شوق سے بت خانے کی دیوار کہو
مجبور کبھی کوئی قیادت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر اس سے حکومت نہیں ہوتی
اک سجدۂ اخلاص کی فرصت نہیں ہوتی
اللہ کے بندوں سے عبادت نہیں ہوتی
اعمال پہ جو اپنے ندامت نہیں ہوتی
اس بات کا قائل ہے ہمیشہ سے زمانہ
قد بڑھانے کے لیے بونوں کی بستی میں چلو
یہ نہیں ممکن تو پھر بچوں کی بستی میں چلو
صبر کی چادر کو اوڑھے خوابگاہوں میں رہو
سچ کی دنیا چھوڑ کر وعدوں کی بستی میں چلو
جب بھی تنہائی کے ہنگاموں سے دم گھٹنے لگے
بھیڑ میں گم ہو کے انجانوں کی بستی میں چلو
فِکرِ فردا سے غافِل کسے ہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
زُہد و تقویٰ عبادت میں مَدہوش ہے
ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے
دَرد اِنسان سے عاری بنی مُعتکِف
حُکمِ باری، نبٌی سے ہوئی مُنحرِف
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
غمزدوں کے غم مٹانے کے لیے
مصطفیٰﷺ آئے زمانے کے لیے
آئیے چرچا نبیﷺ کا کیجیے
دولت کونین پانے کے لیے
آپؐ کی آمد ہی کافی ہے شہا
قبر کو روشن بنانے کے لیے