Tuesday, 27 January 2026

یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے

 یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے

فقط اب دن گزارا جا رہا ہے

بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے

بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے

ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت

یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے

برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں

 برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں

ہم جہاں ہوتے ہیں وہ ہم کو وہاں ملتے ہیں

غم کے مارے تو ملا کرتے ہیں ہم کو اکثر

آج کے دور میں غمخوار کہاں ملتے ہیں

جو کہ ہوتے ہیں بہت مہر و محبت والے

ایسے احباب زمانے میں کہاں ملتے ہیں

مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے

 مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے

دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے

وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا

ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے

خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے

سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے

ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

 ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے

ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے

غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے

نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے

جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی

مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے

آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے

آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے

کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے

کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں

ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے

Monday, 26 January 2026

تمہاری نعت کی خاطر رہے قلم مخصوص

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تیرے فراق کے اس میں ہیں رنج و غم مخصوص

"ہے تیرے جلووں کو یہ میری چشم نم مخصوص" 

نبیﷺ کے عشق میں سب کچھ ہمیں گوارا ہے 

ہمارے واسطے جاناں کے درد و غم مخصوص

میرے نصیب میں لکھدو فقط ثنا خوانی 

تمہاری نعت کی خاطر رہے قلم مخصوص 

ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی

 ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی

ہے مشکل بہت یہ روایات کی

یہ بھی بات جذبات کی ہے مِرے

کرے بات کوئی نہ جذبات کی

زمانے کے رنج و الم سے پرے

حسیں اک ہے دنیا خیالات کی