Friday, 4 April 2025

الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


الٰہی اپنے کرم سے عنایتیں کر دے

مِرے نصیبِ سخن کی ذہانتیں کر دے

میں لفظ و معنی کے ابہام سے نکل جاؤں

سخن شناس فضا کی سماعتیں کر دے

انا کی سرکشی، بس میں مِرے نہیں آتی

مِری جبیں کے مقدر عبادتیں کر دے

رہزن ہوا جو راہ نما ہاتھ کٹ گئے

رہزن ہوا جو راہنما ہاتھ کٹ گئے

بیری یہ راستہ جو ہوا ہاتھ کٹ گئے

غارت گرانِ امن و سکوں کو ملی پناہ

انصاف کی اٹھی جو صدا ہاتھ کٹ گئے

تبدیلئ نظام کی خاطر ہوئے نثار

ہاں، انقلاب آ تو گیا، ہاتھ کٹ گئے

خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو

 خار کو پھول کہو دشت کو گلزار کہو

اور اس جبر کو آزادیٔ افکار کہو

جن کے ہاتھوں میں علم اور نہ کمر میں شمشیر

وہ بھی کہتے ہیں ہمیں قافلہ سالار کہو

میں تو اک شوخ کے دامن سے کروں گا تعبیر

تم اسے شوق سے بت خانے کی دیوار کہو

مجبور کبھی کوئی قیادت نہیں ہوتی

 مجبور کبھی کوئی قیادت نہیں ہوتی

ہوتی ہے تو پھر اس سے حکومت نہیں ہوتی

اک سجدۂ اخلاص کی فرصت نہیں ہوتی

اللہ کے بندوں سے عبادت نہیں ہوتی

اعمال پہ جو اپنے ندامت نہیں ہوتی

اس بات کا قائل ہے ہمیشہ سے زمانہ

قد بڑھانے کے لیے بونوں کی بستی میں چلو

 قد بڑھانے کے لیے بونوں کی بستی میں چلو

یہ نہیں ممکن تو پھر بچوں کی بستی میں چلو

صبر کی چادر کو اوڑھے خوابگاہوں میں رہو

سچ کی دنیا چھوڑ کر وعدوں کی بستی میں چلو

جب بھی تنہائی کے ہنگاموں سے دم گھٹنے لگے

بھیڑ میں گم ہو کے انجانوں کی بستی میں چلو

Thursday, 3 April 2025

فکر فردا سے غافل کسے ہوش ہے

 فِکرِ فردا سے غافِل کسے ہوش ہے

ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے

زُہد و تقویٰ عبادت میں مَدہوش ہے

ساری اُمّت فلسطیں پہ خاموش ہے

دَرد اِنسان سے عاری بنی مُعتکِف

حُکمِ باری، نبٌی سے ہوئی مُنحرِف

Wednesday, 2 April 2025

غمزدوں کے غم مٹانے کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


غمزدوں کے غم مٹانے کے لیے

مصطفیٰﷺ آئے زمانے کے لیے

آئیے چرچا نبیﷺ کا کیجیے

دولت کونین پانے کے لیے

آپؐ کی آمد ہی کافی ہے شہا

قبر کو روشن بنانے کے لیے