یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے
یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے
برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں
ہم جہاں ہوتے ہیں وہ ہم کو وہاں ملتے ہیں
غم کے مارے تو ملا کرتے ہیں ہم کو اکثر
آج کے دور میں غمخوار کہاں ملتے ہیں
جو کہ ہوتے ہیں بہت مہر و محبت والے
ایسے احباب زمانے میں کہاں ملتے ہیں
مایوس ہو گئے ہیں وہ ان کے جواب سے
دنیا تو چل رہی ہے بس اپنے حساب سے
وہ بے نیاز پھر بھی مخاطب نہیں ہوا
ہم نے اسے پکارا ہے کس کس خطاب سے
خود بے نقاب ہو کے سرِ بزم آ گئے
سب کو یہی امید تھی اک بے حجاب سے
ابھی نہ چھیڑ مرے دل کے تار رہنے دے
ابھی سکوں سے غم ہجر یار رہنے دے
غلط ہے جھوٹ ہے الزام ہے یہ تہمت ہے
نہ بے وفا مجھے کہہ کر پکار رہنے دے
جدا نہ ہو گی مرے دل سے یاد اب اس کی
مٹے گا دل سے نہ غم غمگسار رہنے دے
منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہے
آنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہے
آنگن آنگن آگ اگائی جا سکتی ہے
کمروں میں دریا کا کنارا جا سکتا ہے
کرچی کرچی خواب چمکتا ہے آنکھوں میں
ان سے اب دنیا کو سنوارا جا سکتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تیرے فراق کے اس میں ہیں رنج و غم مخصوص
"ہے تیرے جلووں کو یہ میری چشم نم مخصوص"
نبیﷺ کے عشق میں سب کچھ ہمیں گوارا ہے
ہمارے واسطے جاناں کے درد و غم مخصوص
میرے نصیب میں لکھدو فقط ثنا خوانی
تمہاری نعت کی خاطر رہے قلم مخصوص
ہو تعظیم ہر ایک ہی بات کی
ہے مشکل بہت یہ روایات کی
یہ بھی بات جذبات کی ہے مِرے
کرے بات کوئی نہ جذبات کی
زمانے کے رنج و الم سے پرے
حسیں اک ہے دنیا خیالات کی