عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کون دل میں سما گیا ہے آج
دل سے آئی یہ اک صدا ہے آج
آج اشکوں سے تم وضو کر لو
ذکر محبوبﷺ کا مزا ہے آج
نام جنﷺ کا ہے باعثِ تسکیں
انؐ کی یادوں کا سلسلہ ہے آج
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کون دل میں سما گیا ہے آج
دل سے آئی یہ اک صدا ہے آج
آج اشکوں سے تم وضو کر لو
ذکر محبوبﷺ کا مزا ہے آج
نام جنﷺ کا ہے باعثِ تسکیں
انؐ کی یادوں کا سلسلہ ہے آج
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
محبوب خدا احمدﷺ مختار کی صورت
نظروں میں بسی رہتی ہے سرکارؐ کی صورت
گر دید ہو اک بار تو مٹ جائیں گے سب غم
غمخوار و مددگار ہے دلدار کی صورت
توفیق خدا بخشے تو دل کھول کے میں بھی
دیکھوں وہ حسیں سید ابرارؐ کی صورت
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آنکھوں نے شہرِ نور کے منظر لیے سمیٹ
جا کر مدینے پاک میں گوہر لیے سمیٹ
دربارِ مصطفیٰﷺ کی ہے ہر چیز بے مثال
پلکوں نے شہرِ یار کے کنکر لیے سمیٹ
قطرہ ملا جو ساقئ کوثر کے جام کا
سب مے کشوں نے اپنے ہی ساغر لیے سمیٹ
منقبت
شہِ جود و سخاوت غوث اعظم
شہنشاہِ ولایت غوث اعظم
کرو چشمِ عنایت غوث اعظم
بڑھے نورِ بصیرت غوث اعظم
بڑی نازک ہے حالت غوث اعظم
کرو میری اعانت غوث اعظم
برسوں سے جو لگی تھی وہ عادت بدل گئی
دن چار ہی تھے گزرے، محبت بدل گئی
اک تشنگی سی باقی ہے ہونٹوں پہ آج تو
ظالم وہ پہلے والی ملاحت بدل گئی
لوگوں کی انگلیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
شکرِ خدا کہ تیری ملامت بدل گئی