Showing posts with label خاور اسد. Show all posts
Showing posts with label خاور اسد. Show all posts

Thursday, 14 December 2023

نوک مژہ پہ اشک بہ عنوان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے

یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے

وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے

میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے

جز مدحِ شاہؐ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے

خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے

Monday, 2 August 2021

پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے

 پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے

صدی کے انت میں گزرے زمانے جی رہے تھے

ہمارا کام آساں کر رہے تھے چھوٹے بچے

ہم ان کو دیکھ کے اپنا تعلق سی رہے تھے

ہمارے نام پر شہرت ملا کرتی تھی جن کو

ہمارے کام پر تنقید کر کے جی رہے تھے

Tuesday, 13 October 2020

یہ اور بات افادے میں بھی خسارہ ہوا

 یہ اور بات افادے میں بھی خسارا ہوا

ہم اپنے آپ سے بچھڑے وہ تب ہمارا ہوا

یہیں کہیں میں کسی جسم کو پہنتا ہوا

یہیں کہیں ہے کوئی پیرہن اتارا ہوا

کسی بھی داد کا طالب نہیں رہا ہے کبھی

ہمارا عکس تِرے آئینے پہ وارا ہوا

شجر کو کاٹا نہیں ہے رقبہ گھٹا لیا ہے

 شجر کو کاٹا نہیں ہے رقبہ گھٹا لیا ہے

خموش رہ کر وہ ایک رشتہ بچا لیا ہے

مجھے گزرنا پڑے گا پنجوں کے بل یہاں سے

غلیظ رستہ ہے، پائنچوں کو اٹھا لیا ہے

خود اپنی تہہ داریوں سے کھائی ہے مات میں نے

میں وہ ہوں جس نے نمو کا موسم گنوا لیا ہے

Monday, 12 October 2020

شدید قرب سے مسحور کر دیا گیا تھا

 شدید قرب سے مسحور کر دیا گیا تھا

میں دُور جانے پہ مجبور کر دیا گیا تھا

کسی کی ضد کا نتیجہ بھگت رہا ہوں میاں

مجھے کسی کے لیے "طُور" کر دیا گیا تھا

مجھے یہ رنج رہے گا کہ میرا حق مجھ کو

دیا گیا تھا مگر گُھور کر دیا گیا تھا

ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ

 ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ

کس قدر تنہا ہوں میں یاروں کے بیچ

ہوتے ہوتے منقسم تھکنے لگی

اک کہانی اتنے کرداروں کے بیچ

میں عزیزاں! ہوں شہیدِ وصلِ اُو

میں نہیں ہوں ہجر کے ماروں کے بیچ

بٹ گئی باپ کی دستار دعا کیجیے گا

 بٹ گئی باپ کی دستار، دعا کیجیے گا

ہو گئی صحن میں دیوار، دعا کیجیے گا

میں نے اس بار بڑی آس لگائی ہوئی ہے

پھر سے ہو جائے نہ انکار، دعا کیجیے گا

وہ جو کشتی ابھی طوفان سے الجھی ہوئی ہے

اس میں میرے بھی ہیں کچھ یار، دعا کیجیے گا

Sunday, 11 October 2020

جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں

 جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں

یہ سال تیری جدائی کا سال تھا بھی نہیں

جو مل گیا ہے وہ اعزاز کم نہیں ہے مجھے

جو چھن گیا ہے وہ میرا کمال تھا بھی نہیں

ہوا ہے ختم مکمل تو اب سکون سے ہوں

کئی دنوں سے تعلق بحال تھا بھی نہیں

رنج بے کار تھا سو کم کیا میں

 رنج بے کار تھا سو کم کیا میں

یہ بھی خود پر بڑا کرم کیا میں

اس کا سارا بدن کیا تازہ

اس کے سارے بدن پہ دم کیا میں

وصل کی یاد تک نہیں رکھی

ہجر کو ایسے محترم کیا میں

Saturday, 10 October 2020

جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو

 جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو

اچھا یہی کہ اس سے زیادہ برا نہ ہو

میرا ہی رہ کے میرے لیے دردِ سر رہے

وہ شخص میری ضد میں کسی اور کا نہ ہو

کم کیجے التفات کہ ایسا نہ ہو کہیں

پھر خوان سامنے ہو مگر اشتہا نہ ہو

کسی بات پر بھی چراغ پا نہیں ہو رہا

 کسی بات پر بھی چراغ پا نہیں ہو رہا

تُو یہ شکر کر کہ میں لب کشا نہیں ہو رہا

یہ جو وصل ہے ابھی زرد رُو ہے نہ جانے کیوں

یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہو رہا

ابھی ابتدائی ہے مرحلہ تِرے قرب کا

یہ جو لمس ہے ابھی ذائقہ نہیں ہو رہا

Sunday, 30 November 2014

بوجھ اتنا ہے کہ خم جسم میں آیا ہوا ہے

بوجھ اتنا ہے کہ خم جسم میں آیا ہوا ہے
میں نے اِک خواب کو کاندھوں پہ اٹھایا ہوا ہے
تُو تو حیران ہے ایسے کہ ابھی دیکھا ہو
میں نے یہ زخم تو پہلے بھی دکھایا ہوا ہے
صبحِ کاذب کی ہوا میں یہ مہک کیسی ہے
ایسا لگتا ہے کوئی جسم نہایا ہوا ہے