عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے
یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے
وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے
میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے
جز مدحِ شاہؐ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے
خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نوکِ مژہ پہ اشک بہ عنوانِ نعت ہے
یعنی سخن کی ذیل میں امکانِ نعت ہے
وہ حرفِ سبز کاش عطا ہو کبھی مجھے
میں جس کو کہہ سکوں کہ یہ شایانِ نعت ہے
جز مدحِ شاہؐ جو بھی ہے کاغذ پہ بوجھ ہے
خامے کا ننگ ہے یہ جو نسیانِ نعت ہے
پرانے لوگ تھے کہنہ شرابیں پی رہے تھے
صدی کے انت میں گزرے زمانے جی رہے تھے
ہمارا کام آساں کر رہے تھے چھوٹے بچے
ہم ان کو دیکھ کے اپنا تعلق سی رہے تھے
ہمارے نام پر شہرت ملا کرتی تھی جن کو
ہمارے کام پر تنقید کر کے جی رہے تھے
یہ اور بات افادے میں بھی خسارا ہوا
ہم اپنے آپ سے بچھڑے وہ تب ہمارا ہوا
یہیں کہیں میں کسی جسم کو پہنتا ہوا
یہیں کہیں ہے کوئی پیرہن اتارا ہوا
کسی بھی داد کا طالب نہیں رہا ہے کبھی
ہمارا عکس تِرے آئینے پہ وارا ہوا
شجر کو کاٹا نہیں ہے رقبہ گھٹا لیا ہے
خموش رہ کر وہ ایک رشتہ بچا لیا ہے
مجھے گزرنا پڑے گا پنجوں کے بل یہاں سے
غلیظ رستہ ہے، پائنچوں کو اٹھا لیا ہے
خود اپنی تہہ داریوں سے کھائی ہے مات میں نے
میں وہ ہوں جس نے نمو کا موسم گنوا لیا ہے
شدید قرب سے مسحور کر دیا گیا تھا
میں دُور جانے پہ مجبور کر دیا گیا تھا
کسی کی ضد کا نتیجہ بھگت رہا ہوں میاں
مجھے کسی کے لیے "طُور" کر دیا گیا تھا
مجھے یہ رنج رہے گا کہ میرا حق مجھ کو
دیا گیا تھا مگر گُھور کر دیا گیا تھا
ایک دل ہے کتنے آزاروں کے بیچ
کس قدر تنہا ہوں میں یاروں کے بیچ
ہوتے ہوتے منقسم تھکنے لگی
اک کہانی اتنے کرداروں کے بیچ
میں عزیزاں! ہوں شہیدِ وصلِ اُو
میں نہیں ہوں ہجر کے ماروں کے بیچ
بٹ گئی باپ کی دستار، دعا کیجیے گا
ہو گئی صحن میں دیوار، دعا کیجیے گا
میں نے اس بار بڑی آس لگائی ہوئی ہے
پھر سے ہو جائے نہ انکار، دعا کیجیے گا
وہ جو کشتی ابھی طوفان سے الجھی ہوئی ہے
اس میں میرے بھی ہیں کچھ یار، دعا کیجیے گا
جو سچ کہوں تو زیادہ ملال تھا بھی نہیں
یہ سال تیری جدائی کا سال تھا بھی نہیں
جو مل گیا ہے وہ اعزاز کم نہیں ہے مجھے
جو چھن گیا ہے وہ میرا کمال تھا بھی نہیں
ہوا ہے ختم مکمل تو اب سکون سے ہوں
کئی دنوں سے تعلق بحال تھا بھی نہیں
رنج بے کار تھا سو کم کیا میں
یہ بھی خود پر بڑا کرم کیا میں
اس کا سارا بدن کیا تازہ
اس کے سارے بدن پہ دم کیا میں
وصل کی یاد تک نہیں رکھی
ہجر کو ایسے محترم کیا میں
جو ہو چکا ہے اس پہ کوئی تبصرہ نہ ہو
اچھا یہی کہ اس سے زیادہ برا نہ ہو
میرا ہی رہ کے میرے لیے دردِ سر رہے
وہ شخص میری ضد میں کسی اور کا نہ ہو
کم کیجے التفات کہ ایسا نہ ہو کہیں
پھر خوان سامنے ہو مگر اشتہا نہ ہو
کسی بات پر بھی چراغ پا نہیں ہو رہا
تُو یہ شکر کر کہ میں لب کشا نہیں ہو رہا
یہ جو وصل ہے ابھی زرد رُو ہے نہ جانے کیوں
یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہو رہا
ابھی ابتدائی ہے مرحلہ تِرے قرب کا
یہ جو لمس ہے ابھی ذائقہ نہیں ہو رہا