Showing posts with label قیوم طاہر. Show all posts
Showing posts with label قیوم طاہر. Show all posts

Monday, 17 March 2025

سفر وہ نور کا مجھ کو بھی نور کرتا ہوا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سفر وہ نُور کا، مجھ کو بھی نُور کرتا ہُوا

میں جا رہا ہوں ستارے عبور کرتا ہوا

ازل کے جلوے میں ہوتی ہوئی نمُو میری

نیا نیا سا میں خُود میں ظہور کرتا ہوا

میں بارگاہِ نبوّتؐ میں سر جُھکائے ہوئے

میں اپنے ہونے پہ اس پل غرور کرتا ہوا

Thursday, 15 February 2024

دکھ کی اس لو کو وہ پروا کبھی ہونے دیتا

 دُکھ کی اس لُو کو وہ پُروا کبھی ہونے دیتا

مجھ میں بکھرے کو اکٹھا کبھی ہونے دیتا

تیری خوشیوں میں خوشی اپنی ملا دی میں نے

دور خود سے تجھے ورنہ کبھی ہونے دیتا

یہ جو قسطوں میں اذیت ہے یہ کم ہو جاتی

رنج اک بار ہی سارا کبھی ہونے دیتا

Tuesday, 26 April 2022

کسی درویش جیسا ہو رہا ہوں

 کسی درویش جیسا ہو رہا ہوں

ابھی خود میں ذخیرہ ہو رہا ہوں

یہ ریگِ جسم کچھ پہلے رواں تھی

کئی دن سے میں یکجا ہو رہا ہوں

مشیت کا سمندر خوش نہیں ہے

سمٹ کر میں جزیرہ ہو رہا ہوں

Sunday, 18 July 2021

وہاں ساحلوں پہ بشارتوں کا چراغ بھی ہے جلا ہوا

 وہاں ساحلوں پہ بشارتوں کا چراغ بھی ہے جلا ہوا

یہاں ہاتھ میرے بندھے ہوئے مِرا بادبان چھدا ہوا

گئی ساعتوں کی تلاش میں مِرا حرف حرف بکھر گیا

کہیں تیرے نام کا شعر بھی تھا بیاض جاں پہ لکھا ہوا

مِری پور پور پہ تتلیاں کئی رنگ چھوڑ کے جا چکیں

تِرے ذکر کا کوئی پھول تھا مِرے رتجگوں میں کھلا ہوا

Saturday, 19 June 2021

جانے کس خواب کی شبنم میں بھگوئے ہوئے ہم

 جانے کس خواب کی شبنم میں بھگوئے ہوئے ہم

اور پھر کیسی زمینوں میں ہیں بوئے ہوئے ہم

راکھ کا رنگ مگر راس بہت آیا ہے

کتنے رنگوں کی بلونی میں بلوئے ہوئے ہم

زندگی تجھ سے کوئی بات کبھی طے نہ ہوئی

زندگی تیری ہر اک بات پہ روئے ہوئے ہم

Sunday, 13 June 2021

ہوا میں نوحے گھلے درد مشعلوں میں رہا

 ہوا میں نوحے گھُلے درد مشعلوں میں رہا

بہت عجیب سا دُکھ تھا کہ بستیوں میں رہا

تمام پیڑ تھے ساحل پہ آگ کی زد میں

مِرے قبیلے کا ہر فرد پانیوں میں رہا

یہ جانتے بھی کہ سارا سفر خلا کا ہے

بلا کا حوصلہ ٹُوٹے ہوئے پروں میں رہا

Saturday, 12 June 2021

ایک نشتر سا رگ جاں میں اترنے دینا

 ایک نشتر سا رگِ جاں میں اُترنے دینا

زندہ رہنا ہے تو زخموں کو نہ بھرنے دینا

اور کچھ دیر نہ اے تیز ہواؤ! تھمنا

جتنے بوسیدہ ہیں صفحات بکھرنے دینا

تیری پہچان کی اک قوس الگ بن جائے

اپنے لہجے کو ذرا اور سنورنے دینا

Friday, 11 June 2021

کم یا زیادہ آب و دانہ سب چلتا ہے

 کم یا زیادہ، آب و دانہ سب چلتا ہے

باغ ہو کوئی یا ویرانہ سب چلتا ہے

جاناں جیون کھیل بچھڑنے اور ملنے کا 

جاناں میں نے تجھ سے کہا نا سب چلتا ہے 

ایک پہاڑی رستے کا در پیش سفر ہو 

گیت، کہانی یا افسانہ سب چلتا ہے

Monday, 11 January 2021

خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں

 خواب ایسے کہ گئی رات ڈرانے لگ جائیں

درد جاگے تو سلانے میں زمانے لگ جائیں

ہم وہ نادان ہواؤں سے وفا کی خاطر

اپنے آنگن کے چراغوں کو بجھانے لگ جائیں

تھوڑے گیہوں ابھی مٹی پہ رکھے رہنے دو

وہ پرندے کہ کبھی لوٹ کے آنے لگ جائیں