قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں
اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں
شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے
🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷
ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید
غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں
قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں
اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں
شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے
🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷
ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید
غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں
میری غزلوں میں جو روانی ہے
شرحِ غم ہائے زندگانی ہے
جو ملا ہے مجھے شعورِ سخن
اک ستمگر کی مہربانی ہے
تم نہیں، تو نہیں اور آپ نہیں
اک مخاطب پسِ معانی ہے
کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں
یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں
ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے
وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں
تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے
عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں
آشفتہ سرِ گیسُوئے خمدار تھے ہم بھی
ہاں دامِ محبت میں گرفتار تھے ہم بھی
ہم نے بھی کِیا تھا کبھی ایمان کا سودا
ہاں اک بُتِ کافر کے طلبگار تھے ہم بھی
ہم پر بھی لگے کُفر کا، الحاد کا فتویٰ
کچھ دن لب و عارض کے پرستار تھے ہم بھی