Showing posts with label طاہر ضیا. Show all posts
Showing posts with label طاہر ضیا. Show all posts

Tuesday, 5 May 2026

قید تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

 قیدِ تنہائی میں خود کو یوں سزا دیتا ہوں

اک غزل لکھتا ہوں اور ایک مٹا دیتا ہوں

شکوہ کرتا ہے غمِ زیست کا کوئی تو اسے

🍷بادۂ تلخیِٔ ایام پلا دیتا ہوں🍷

ہے دوائے غمِ دل صورتِ جاناں کی دید

غم جو بڑھتا ہے، دوا بھی میں بڑھا دیتا ہوں

Monday, 4 May 2026

میری غزلوں میں جو روانی ہے

 میری غزلوں میں جو روانی ہے

شرحِ غم ہائے زندگانی ہے

جو ملا ہے مجھے شعورِ سخن

اک ستمگر کی مہربانی ہے

تم نہیں، تو نہیں اور آپ نہیں

اک مخاطب پسِ معانی ہے

Sunday, 3 May 2026

عہد فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

 کہتے ہیں، اپنا حال کسی سے کہوں نہیں

یعنی کہ صرف درد سہوں، اُف کروں نہیں

ہے ان دنوں میں پیشِ نظر رقص کے لیے

وہ ساز جس میں کوئی بھی سوزِ دروں نہیں

تصویر توڑ دی تو تصوّر میں آ گئے

عہدِ فراق میں بھی کسی پل سکوں نہیں

Monday, 9 February 2026

ہاں دام محبت میں گرفتار تھے ہم بھی

آشفتہ سرِ گیسُوئے خمدار تھے ہم بھی

ہاں دامِ محبت میں گرفتار تھے ہم بھی

ہم نے بھی کِیا تھا کبھی ایمان کا سودا

ہاں اک بُتِ کافر کے طلبگار تھے ہم بھی

ہم پر بھی لگے کُفر کا، الحاد کا فتویٰ

کچھ دن لب و عارض کے پرستار تھے ہم بھی