Showing posts with label رؤف خلش. Show all posts
Showing posts with label رؤف خلش. Show all posts

Saturday, 5 November 2022

اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی

 اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی

دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی

اک آنچ کی تھی پھر بھی کسر تیکھے خطوں میں

تصویر بہت خوب تھی، شہکار نہیں تھی

منظر ہے بڑا ہوشربا، دل کو لگا تھا

پر آنکھ مِری دل کی طرفدار نہیں تھی

Saturday, 30 July 2022

خباثت اس کے چہرے سے کبھی ظاہر نہیں ہوتی

 چوکھٹے میں بولتی تصویر


خباثت اس کے چہرے سے

کبھی ظاہر نہیں ہوتی

کُھرچ کر پھینک دی کس نے

ہر اک جذبے سے ہے عاری

ہمیشہ مسکراہٹ ایک جیسی

Wednesday, 6 April 2022

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات

قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات

تنہا کھڑی لرزتی رہی صرف میری ذات

تہذیب کی جو اونچی عمارت ہے ڈھا نہ دوں

جینے کے رکھ رکھاؤ سے ملتی نہیں نجات

خوابوں کی برف پگھلی تو ہر عکس دُھل گیا

اپنوں کی بات بن گئی اک اجنبی کی بات

Tuesday, 14 December 2021

کام اپنا کر گئے ہیں یہاں فیل دیکھنا

 کام اپنا کر گئے ہیں یہاں فِیل دیکھنا

آئے نہیں ابھی تک ابابیل دیکھنا

کیچڑ میں فاختاؤں کے زخمی بدن گرے

کیسا لگا لہو سے بھری جھیل دیکھنا

دنیا پہنچ گئی ہے کہاں سے کہاں مگر

قابیل کا شکار ہے ہابیل دیکھنا

موسم بھی بے یقیں ہے، مسافر بھی بے یقیں

راہوں میں جلتی بجھتی یہ قندیل دیکھنا

جلتے دِیے کو سر پھرا، بُجھنے کو حادثہ

آندھی میں ان ہواؤں کی تاویل دیکھنا

منظر لہولہان تھا، تم ہوش میں نہ تھے

بستی ہوئی ہے راکھ میں تبدیل دیکھنا

اس دشتِ بے اماں میں، ان آہوں کی بھیڑ میں

ہوتی ہیں کیا قیامتیں، تمثیل دیکھنا

منصوبۂ بہار کا بس نام ہے خلش

منصوبۂ خزاں کی ہے تکمیل دیکھنا


رؤف خلش

Saturday, 4 December 2021

کھلے کھلے سے دریچے مکان میں رکھنا

 کھلے کھلے سے دریچے مکان میں رکھنا

مہکتی بیل چنبیلی کی، لان میں رکھنا

کبھی جو خواب کی تعبیر ڈھونڈنے نکلو

زمیں سے اُٹھنا، قدم آسمان میں رکھنا

شگفتگی تو بہت ہے بہار کی رُت میں

بدل بھی جاتے ہیں موسم، یہ دھیان میں رکھنا

Tuesday, 30 November 2021

سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے

 سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے

جو بچھڑ گئے لمحے عمر بھر نہیں ملتے

شور کرتے رہتے ہیں جسم و جاں کے سناٹے

جب طویل راہوں میں ہم سفر نہیں ملتے

دھوپ کی تمازت سے جو بچاؤ کر پاتے

سورجوں کے شہروں میں وہ شجر نہیں ملتے

Saturday, 27 November 2021

یوں خود کو بدل دینا آسان اگر ہوتا

 یوں خود کو بدل دینا، آسان اگر ہوتا

نیچی سی نظر ہوتی، دل موم کا گھر ہوتا

پہرے نہ بٹھا دیتا، سورج مِری آنکھوں پر

نیندوں میں ہی گُم رہتا، خوابوں میں سفر ہوتا

پھیلے ہوئے شہروں میں، خواہش کے اُگے جنگل

چھوٹی سی تمنا کا، چھوٹا سا نگر ہوتا

Wednesday, 24 November 2021

درد مروت رشتے ناطے

 نیا مفہوم


درد، مروت، رشتے ناطے

بچپن میں ان لفظوں کے کچھ معنی تھے

جیسے جیسے دن بیتے

ان لفظوں کے معنی بدلے

اب یہ دنیا عمر کی جس منزل میں ہے

Tuesday, 23 November 2021

قلم چلے تو اصولوں کا احترام ہوا

قلم چلے تو اصولوں کا احترام ہوا

پھر ایسی جنگ چھڑی، سب کا قتلِ عام ہوا

کچھ اس طرح سے بھی میراث ہو گئی تقسیم

خوشی تمہارے لیے، درد میرے نام ہوا

کھسک رہی تھیں سبھی منزلیں قدم بہ قدم

یہ تجربہ بھی سفر میں ہر ایک گام ہوا

Monday, 22 March 2021

آنسوؤں میں قلم ڈبو لینا

 آنسوؤں میں قلم ڈبو لینا

خواب لکھنا، اداس ہو لینا

میں تو شائستگی میں ہوں چپ چاپ

جی تو کرتا ہے خوب رو لینا

رت جگے گھُل نہ جائیں آنکھوں میں

صبح ہونے لگی ہے سو لینا