اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی
دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی
اک آنچ کی تھی پھر بھی کسر تیکھے خطوں میں
تصویر بہت خوب تھی، شہکار نہیں تھی
منظر ہے بڑا ہوشربا، دل کو لگا تھا
پر آنکھ مِری دل کی طرفدار نہیں تھی
اک جنگ تھی وہ گرمئ گفتار نہیں تھی
دونوں کی انا مٹنے کو تیار نہیں تھی
اک آنچ کی تھی پھر بھی کسر تیکھے خطوں میں
تصویر بہت خوب تھی، شہکار نہیں تھی
منظر ہے بڑا ہوشربا، دل کو لگا تھا
پر آنکھ مِری دل کی طرفدار نہیں تھی
چوکھٹے میں بولتی تصویر
خباثت اس کے چہرے سے
کبھی ظاہر نہیں ہوتی
کُھرچ کر پھینک دی کس نے
ہر اک جذبے سے ہے عاری
ہمیشہ مسکراہٹ ایک جیسی
قاتل سبھی تھے چل دئیے مقتل سے راتوں رات
تنہا کھڑی لرزتی رہی صرف میری ذات
تہذیب کی جو اونچی عمارت ہے ڈھا نہ دوں
جینے کے رکھ رکھاؤ سے ملتی نہیں نجات
خوابوں کی برف پگھلی تو ہر عکس دُھل گیا
اپنوں کی بات بن گئی اک اجنبی کی بات
کام اپنا کر گئے ہیں یہاں فِیل دیکھنا
آئے نہیں ابھی تک ابابیل دیکھنا
کیچڑ میں فاختاؤں کے زخمی بدن گرے
کیسا لگا لہو سے بھری جھیل دیکھنا
دنیا پہنچ گئی ہے کہاں سے کہاں مگر
قابیل کا شکار ہے ہابیل دیکھنا
موسم بھی بے یقیں ہے، مسافر بھی بے یقیں
راہوں میں جلتی بجھتی یہ قندیل دیکھنا
جلتے دِیے کو سر پھرا، بُجھنے کو حادثہ
آندھی میں ان ہواؤں کی تاویل دیکھنا
منظر لہولہان تھا، تم ہوش میں نہ تھے
بستی ہوئی ہے راکھ میں تبدیل دیکھنا
اس دشتِ بے اماں میں، ان آہوں کی بھیڑ میں
ہوتی ہیں کیا قیامتیں، تمثیل دیکھنا
منصوبۂ بہار کا بس نام ہے خلش
منصوبۂ خزاں کی ہے تکمیل دیکھنا
رؤف خلش
کھلے کھلے سے دریچے مکان میں رکھنا
مہکتی بیل چنبیلی کی، لان میں رکھنا
کبھی جو خواب کی تعبیر ڈھونڈنے نکلو
زمیں سے اُٹھنا، قدم آسمان میں رکھنا
شگفتگی تو بہت ہے بہار کی رُت میں
بدل بھی جاتے ہیں موسم، یہ دھیان میں رکھنا
سلسلے یہ کیسے ہیں ٹوٹ کر نہیں ملتے
جو بچھڑ گئے لمحے عمر بھر نہیں ملتے
شور کرتے رہتے ہیں جسم و جاں کے سناٹے
جب طویل راہوں میں ہم سفر نہیں ملتے
دھوپ کی تمازت سے جو بچاؤ کر پاتے
سورجوں کے شہروں میں وہ شجر نہیں ملتے
یوں خود کو بدل دینا، آسان اگر ہوتا
نیچی سی نظر ہوتی، دل موم کا گھر ہوتا
پہرے نہ بٹھا دیتا، سورج مِری آنکھوں پر
نیندوں میں ہی گُم رہتا، خوابوں میں سفر ہوتا
پھیلے ہوئے شہروں میں، خواہش کے اُگے جنگل
چھوٹی سی تمنا کا، چھوٹا سا نگر ہوتا
نیا مفہوم
درد، مروت، رشتے ناطے
بچپن میں ان لفظوں کے کچھ معنی تھے
جیسے جیسے دن بیتے
ان لفظوں کے معنی بدلے
اب یہ دنیا عمر کی جس منزل میں ہے
قلم چلے تو اصولوں کا احترام ہوا
پھر ایسی جنگ چھڑی، سب کا قتلِ عام ہوا
کچھ اس طرح سے بھی میراث ہو گئی تقسیم
خوشی تمہارے لیے، درد میرے نام ہوا
کھسک رہی تھیں سبھی منزلیں قدم بہ قدم
یہ تجربہ بھی سفر میں ہر ایک گام ہوا
آنسوؤں میں قلم ڈبو لینا
خواب لکھنا، اداس ہو لینا
میں تو شائستگی میں ہوں چپ چاپ
جی تو کرتا ہے خوب رو لینا
رت جگے گھُل نہ جائیں آنکھوں میں
صبح ہونے لگی ہے سو لینا