گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا
معجزہ دیکھیۓ دن رات کو یکجا دیکھا
یوں شب ہجر میں ان کو بھی تڑپتا دیکھا
بسترِ مرگ پہ گویا کہ مسیحا دیکھا
خود کو بھی حسن کا دیوانہ سمجھ بیٹھا ہے
اس پری چہرہ کا واعظ نے جو شیشہ دیکھا
گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا
معجزہ دیکھیۓ دن رات کو یکجا دیکھا
یوں شب ہجر میں ان کو بھی تڑپتا دیکھا
بسترِ مرگ پہ گویا کہ مسیحا دیکھا
خود کو بھی حسن کا دیوانہ سمجھ بیٹھا ہے
اس پری چہرہ کا واعظ نے جو شیشہ دیکھا
بدلا ہوا ہے رنگِ جہاں مے کشی کے بعد
خود سے لگاؤ ہونے لگا بے خودی کے بعد
تابندہ محفلوں میں مجھے یوں نہ روکیۓ
ظلمت میں لوٹنا ہے مجھے روشنی کے بعد
یا رب مجھے محال ہے رنجیدہ زندگی
لے لے میری حیات بھی میری خوشی کے بعد
زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے
ان میں دیکھا تو فقط دُھول ملی، خار ملے
بس اسی وقت سے اہلِ جنوں کہلائے گئے
اس حسیں بُت سے جو اہلِ خرد اک بار ملے
اے مسیحا!! تجھے اک بار پھر آنا ہو گا
تیری دنیا میں مجھے سینکڑوں بیمار ملے
دل کو تِرے خیال سے بہلا رہا ہوں میں
یوں شام غم کو صبح کئے جا رہا ہوں میں
واقف ہوں میری راہ کی منزل نہیں کوئی
دیوانہ وار پھر بھی بڑھے جا رہا ہوں میں
میں کہہ رہا ٹھہرئیے کہ ایسا بھی کیا ستم
وہ کہہ رہے ہیں چھوڑئیے اب جا رہا ہوں میں
گل ہو، صبا ہو، شمع ہو، شعلہ ہو، چاندنی ہو تم
جھلکی تھی کوہِ طور پر بس وہی روشنی ہو تم
تم سے وجود ہے مِرا حرکتِ قلب ہو تمہی
قوتِ ذہن و دل ہو تم، روح کی تازگی ہو تم
وابستہ تم سے جو بھی ہوں مجھ کو وہ غم قبول ہیں
بخشے سکوں جو دائمی بس اک وہی خوشی ہو تم