Showing posts with label مجید میمن. Show all posts
Showing posts with label مجید میمن. Show all posts

Sunday, 19 September 2021

گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا

 گیسوئے یار کو چہرے پہ بکھرتا دیکھا

معجزہ دیکھیۓ دن رات کو یکجا دیکھا

یوں شب ہجر میں ان کو بھی تڑپتا دیکھا

بسترِ مرگ پہ گویا کہ مسیحا دیکھا

خود کو بھی حسن کا دیوانہ سمجھ بیٹھا ہے

اس پری چہرہ کا واعظ نے جو شیشہ دیکھا

Saturday, 11 September 2021

بدلا ہوا ہے رنگ جہاں مے کشی کے بعد

 بدلا ہوا ہے رنگِ جہاں مے کشی کے بعد

خود سے لگاؤ ہونے لگا بے خودی کے بعد

تابندہ محفلوں میں مجھے یوں نہ روکیۓ

ظلمت میں لوٹنا ہے مجھے روشنی کے بعد

یا رب مجھے محال ہے رنجیدہ زندگی

لے لے میری حیات بھی میری خوشی کے بعد

Friday, 10 September 2021

زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے

 زیست کی راہ میں جتنے مجھے گلزار ملے

ان میں دیکھا تو فقط دُھول ملی، خار ملے

بس اسی وقت سے اہلِ جنوں کہلائے گئے

اس حسیں بُت سے جو اہلِ خرد اک بار ملے

اے مسیحا!! تجھے اک بار پھر آنا ہو گا

تیری دنیا میں مجھے سینکڑوں بیمار ملے

Sunday, 1 August 2021

دل کو ترے خیال سے بہلا رہا ہوں میں

دل کو تِرے خیال سے بہلا رہا ہوں میں

یوں شام غم کو صبح کئے جا رہا ہوں میں

واقف ہوں میری راہ کی منزل نہیں کوئی

دیوانہ وار پھر بھی بڑھے جا رہا ہوں میں

میں کہہ رہا ٹھہرئیے کہ ایسا بھی کیا ستم

وہ کہہ رہے ہیں چھوڑئیے اب جا رہا ہوں میں

Monday, 21 June 2021

گل ہو صبا ہو شمع ہو شعلہ ہو چاندنی ہو تم

 گل ہو، صبا ہو، شمع ہو، شعلہ ہو، چاندنی ہو تم

جھلکی تھی کوہِ طور پر بس وہی روشنی ہو تم

تم سے وجود ہے مِرا حرکتِ قلب ہو تمہی

قوتِ ذہن و دل ہو تم، روح کی تازگی ہو تم

وابستہ تم سے جو بھی ہوں مجھ کو وہ غم قبول ہیں

بخشے سکوں جو دائمی بس اک وہی خوشی ہو تم