صبح نہیں ہوئی ابھی، صبح بخیر صاحبا
رنج کی رات تھی، گئی، صبح بخیر صاحبا
چشم کی کارگاہ کی، حُسن کی بارگاہ کی
آپ کی خواب گاہ کی، صبح بخیر صاحبا
فرصتِ نِیم شب سے ہو، لرزشِ زیرِ لب سے ہو
عرصۂ دل میں گونجتی، صبح بخیر صاحبا
ہمیں نہ چشمِ حقارت سے دیکھیے، صاحب
محبتی ہیں، محبت سے دیکھیے، صاحب
دریچہ کھُلنے سے منظر نہیں کھُلا کرتے
یہ آسمان کبھی چھت سے دیکھیے، صاحب
گلاب شاخ سے، سیارگاں فلک سے ہیں
چراغ کو کسی نِسبت سے دیکھیے، صاحب
شبِ گِریہ ہے مگر کوئی بھی آواز نہیں
اور خیموں سے اُدھر کوئی بھی آواز نہیں
رنگ بُجھتے ہوئے اور آئینے جل اُٹھتے ہوئے
ہر طرف رقصِ شرر، کوئی بھی آواز نہیں
ڈوبتے ہاتھ، سِسکتی ہوئی آنکھیں ہر سمت
سَیلِ پُر شور ہے، پر کوئی بھی آواز نہیں
سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا
یہ میں ہوں، لوحِ شکستہ سے لفظ اٹھاتا ہوا
مکاں کی تنگی و تاریکی بیشتر تھی سو میں
دِیے جلاتا ہُوا، آئینے بناتا ہُوا
تِرے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے
کبھی میں خود کو تِرے نام سے بلاتا ہُوا
مِرے دل کا، میرے گریز پا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
مگر اس سے بڑھ کے جو ماسوا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
کہیں رنج ہے کسی چشمِ ناز سے رسم و رَہ کی شکست کا
سرِ رَہ کہیں درِ نِیم وا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
ہے یہ وقت تیغ کے پاس کا، نہیں کچھ جواز قصاص کا
کہ عدُو کا اور مِرے خوں بہا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
دل تِری راہگزر بھی تو نہیں کر سکتے
ہم تِری سمت سفر بھی تو نہیں کر سکتے
زندگی کاٹنا دشوار ہے اب اپنے بغیر
اور ایسے ہی بسر بھی تو نہیں کر سکتے
اب ہمیں تیری کمی بھی نہیں ہوتی محسوس
پر تجھے اس کی خبر بھی تو نہیں کر سکتے