Showing posts with label ضیا المصطفیٰ. Show all posts
Showing posts with label ضیا المصطفیٰ. Show all posts

Thursday, 8 December 2016

چراغ سرد ہوئے لفظ بے صدا ہوا ہے

چراغ سرد ہوئے، لفظ بے صدا ہُوا ہے
یہی بہت ہے کہ محشر نہیں بپا ہوا ہے
وہ جس کا ہونا کسی طور طے نہ تھا، ہوا ہے
ہر ایک واقعہ امکاں سے ماورأ ہوا ہے
مگر یہ رات، یہ دن جوں کے توں ہیں مدت سے
مگر یہ وقت کہ جو بیشتر رکا ہوا ہے

وہی ہوں میں وہی بازار کا تماشا ہے

وہی ہوں میں وہی بازار کا تماشا ہے
مِرا تماشا نہیں،۔ یار کا تماشا ہے
محال ہے کہ مجھے اذنِ باریابی ملے
مِرے نصیب میں دیوار کا تماشا ہے
مجھے بھی پہلے پہل اپنا ہی گماں ہوا تھا
مگر یہ آئینۂ زنگار کا تماشا ہے

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں
تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں
کِواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا
بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تِھیں
وہاں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی
وہی روایتیں انجان میں پڑی ہوئی تھیں

دنوں میں دن تھے شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں

دنوں میں دِن تھے، شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں
سبھی کہانیاں اک طاق میں پڑی ہوئی تھیں
اذان گونجی تو محراب میں کوئی بھی نہ تھا
بس ایک رحل پہ کچھ آیتیں پڑی ہوئی تھیں
سنائی دیتا ہے اب بھی مقدس آگ کے گرد
وہ لحن، جس میں کئی حیرتیں پڑی ہوئی تھیں

Sunday, 11 October 2015

صبح نہیں ہوئی ابھی صبح بخیر صاحبا

صبح نہیں ہوئی ابھی، صبح بخیر صاحبا
رنج کی رات تھی، گئی، صبح بخیر صاحبا
چشم کی کارگاہ کی، حُسن کی بارگاہ کی
آپ کی خواب گاہ کی، صبح بخیر صاحبا
فرصتِ نِیم شب سے ہو، لرزشِ زیرِ لب سے ہو
عرصۂ دل میں گونجتی، صبح بخیر صاحبا

ہمیں نہ چشم حقارت سے دیکھئے صاحب

ہمیں نہ چشمِ حقارت سے دیکھیے، صاحب
محبتی ہیں، محبت سے دیکھیے، صاحب
دریچہ کھُلنے سے منظر نہیں کھُلا کرتے
یہ آسمان کبھی چھت سے دیکھیے، صاحب
گلاب شاخ سے، سیارگاں فلک سے ہیں
چراغ کو کسی نِسبت سے دیکھیے، صاحب

شب گریہ ہے مگر کوئی بھی آواز نہیں

شبِ گِریہ ہے مگر کوئی بھی آواز نہیں
اور خیموں سے اُدھر کوئی بھی آواز نہیں
رنگ بُجھتے ہوئے اور آئینے جل اُٹھتے ہوئے
ہر طرف رقصِ شرر، کوئی بھی آواز نہیں
ڈوبتے ہاتھ، سِسکتی ہوئی آنکھیں ہر سمت
سَیلِ پُر شور ہے، پر کوئی بھی آواز نہیں

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا
یہ میں ہوں، لوحِ شکستہ سے لفظ اٹھاتا ہوا
مکاں کی تنگی و تاریکی بیشتر تھی سو میں
دِیے جلاتا ہُوا، آئینے بناتا ہُوا
تِرے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے
کبھی میں خود کو تِرے نام سے بلاتا ہُوا

مرے دل کا میرے گریز پا کا معاملہ مرے ساتھ ہے

مِرے دل کا، میرے گریز پا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
مگر اس سے بڑھ کے جو ماسوا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
کہیں رنج ہے کسی چشمِ ناز سے رسم و رَہ کی شکست کا
سرِ رَہ کہیں درِ نِیم وا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے
ہے یہ وقت تیغ کے پاس کا، نہیں کچھ جواز قصاص کا
کہ عدُو کا اور مِرے خوں بہا کا معاملہ مِرے ساتھ ہے

دل تری راہگزر بھی تو نہیں کر سکتے

دل تِری راہگزر بھی تو نہیں کر سکتے
ہم تِری سمت سفر بھی تو نہیں کر سکتے
زندگی کاٹنا دشوار ہے اب اپنے بغیر
اور ایسے ہی بسر بھی تو نہیں کر سکتے
اب ہمیں تیری کمی بھی نہیں ہوتی محسوس
پر تجھے اس کی خبر بھی تو نہیں کر سکتے