زمانے کے سبھی دلکش نظارے
زکوٰۃ حسن لگتے ہیں تمہارے
محبت کا کوئی امکاں نہیں جب
تو پھر دل کیوں دھڑکتے ہیں ہمارے
یقیں جانو مِری جاں! ہم ازل سے
تمہارے ہیں تمہارے ہیں تمہارے
زمانے کے سبھی دلکش نظارے
زکوٰۃ حسن لگتے ہیں تمہارے
محبت کا کوئی امکاں نہیں جب
تو پھر دل کیوں دھڑکتے ہیں ہمارے
یقیں جانو مِری جاں! ہم ازل سے
تمہارے ہیں تمہارے ہیں تمہارے
حسیں ہے ماہ جبیں ہے وہ اک قیامت ہے
وہ ایک شخص جو میری بہت ضرورت ہے
ہزار قسم کے رنگوں سے ہے نہایا ہوا
تِری طرح یہ تِرا شہر خوب صورت ہے
ہم اس کے سامنے سچ کے دیے جلاتے ہیں
امیر شہر کو ہم سے یہی شکایت ہے
دیکھ لیتی ہیں تمہیں جب بھی ہماری آنکھیں
لوگ کہتے ہیں نہیں لگتیں تمہاری آنکھیں
جن میں ہر شام محبت کے دیے جلتے ہیں
وہ کوئی اور نہیں وہ ہیں ہماری آنکھیں
صبحِ پر نور سا دکھتا ہے تمہارا چہرہ
چڑھتے سورج کی سی لگتی ہیں تمہاری آنکھیں
جو دو کتابیں پڑھا ہوا ہے
وہ اپنی حد سے بڑھا ہوا ہے
ہمارے دریا کے پانیوں سے
تِرا سمندر بھرا ہوا ہے
الٹ بھی سکتا ہے تخت تیرا
جو ہاتھ باندھے کھڑا ہوا ہے
دل میں درد اتر جاتے ہیں
آنکھ میں آنسو بھر جاتے ہیں
آنکھ سے اوجھل ہونے والے
آنکھیں بنجر کر جاتے ہیں
کس سے دل کی بات کریں ہم
جب بھی سوچیں ڈر جاتے ہیں
اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے
جھلستے صحرا میں ٹھنڈی ہوا صحافت ہے
سنی سنائی پہ جو بھی یقین رکھتا ہے
وہ خود صحافی نہ اس کا لکھا صحافت ہے
قلم کی نوک سے پگڑی اچھالنے والو
سنو یہ غور سے یہ بے حیا صحافت ہے
تم نہ مانو حضور دیتی ہے
شاعری اک شعور دیتی ہے
عشق وہ مے ہے جو کہ انساں کو
زندگی کا سرور دیتی ہے
پھول کی پتی چاہے ٹوٹی ہو
پھر بھی خوشبو ضرور دیتی ہے