Showing posts with label طارق ملک. Show all posts
Showing posts with label طارق ملک. Show all posts

Monday, 21 March 2022

زمانے کے سبھی دلکش نظارے

 زمانے کے سبھی دلکش نظارے

زکوٰۃ حسن لگتے ہیں تمہارے

محبت کا کوئی امکاں نہیں جب

تو پھر دل کیوں دھڑکتے ہیں ہمارے

یقیں جانو مِری جاں! ہم ازل سے

تمہارے ہیں تمہارے ہیں تمہارے

Thursday, 17 March 2022

حسیں ہے ماہ جبیں ہے وہ اک قیامت ہے

 حسیں ہے ماہ جبیں ہے وہ اک قیامت ہے

وہ ایک شخص جو میری بہت ضرورت ہے

ہزار قسم کے رنگوں سے ہے نہایا ہوا

تِری طرح یہ تِرا شہر خوب صورت ہے

ہم اس کے سامنے سچ کے دیے جلاتے ہیں

امیر شہر کو ہم سے یہی شکایت ہے

Monday, 14 March 2022

دیکھ لیتی ہیں تمہیں جب بھی ہماری آنکھیں

 دیکھ لیتی ہیں تمہیں جب بھی ہماری آنکھیں

لوگ کہتے ہیں نہیں لگتیں تمہاری آنکھیں

جن میں ہر شام محبت کے دیے جلتے ہیں

وہ کوئی اور نہیں وہ ہیں ہماری آنکھیں

صبحِ پر نور سا دکھتا ہے تمہارا چہرہ

چڑھتے سورج کی سی لگتی ہیں تمہاری آنکھیں

Sunday, 27 February 2022

جو دو کتابیں پڑھا ہوا ہے

 جو دو کتابیں پڑھا ہوا ہے

وہ اپنی حد سے بڑھا ہوا ہے

ہمارے دریا کے پانیوں سے

تِرا سمندر بھرا ہوا ہے

الٹ بھی سکتا ہے تخت تیرا

جو ہاتھ باندھے کھڑا ہوا ہے

Tuesday, 22 February 2022

دل میں درد اتر جاتے ہیں

 دل میں درد اتر جاتے ہیں

آنکھ میں آنسو بھر جاتے ہیں

آنکھ سے اوجھل ہونے والے

آنکھیں بنجر کر جاتے ہیں

کس سے دل کی بات کریں ہم

جب بھی سوچیں ڈر جاتے ہیں

Monday, 21 February 2022

اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے

 اندھیری رات میں جلتا دیا صحافت ہے

جھلستے صحرا میں ٹھنڈی ہوا صحافت ہے

سنی سنائی پہ جو بھی یقین رکھتا ہے

وہ خود صحافی نہ اس کا لکھا صحافت ہے

قلم کی نوک سے پگڑی اچھالنے والو

سنو یہ غور سے یہ بے حیا صحافت ہے

تم نہ مانو حضور دیتی ہے

 تم نہ مانو حضور دیتی ہے

شاعری اک شعور دیتی ہے

عشق وہ مے ہے جو کہ انساں کو

زندگی کا سرور دیتی ہے

پھول کی پتی چاہے ٹوٹی ہو

پھر بھی خوشبو ضرور دیتی ہے