Showing posts with label حفیظ جونپوری. Show all posts
Showing posts with label حفیظ جونپوری. Show all posts

Saturday, 6 August 2022

کس شان سے تھامے ہوئے دامان محمد

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کس شان سے تھامے ہوئے دامانِ محمدؐ

داخل ہوئے جنت میں غلامانِ محمدؐ

کہتا ہے یہ ارمان حیاتِ ابدی کا

ہو جائیے سو جان سے قربان محمدؐ

جب تک نہ سنائے گا خدا مژدہ بخشش

چھوڑیں گے نہ ہم گوشہ دامانِ محمدؐ

Friday, 2 December 2016

صبح کو آئے ہو نکلے شام کے

صبح کو آئے ہو نکلے شام کے
جاؤ بھی اب تم مِرے کس کام کے
ہاتھا پائی سے یہی مطلب بھی تھا
کوئی منہ چومے کلائی تھام کے
تم اگر چاہو تو کچھ مشکل نہیں
ڈھنگ سو ہیں نامہ و پیغام کے

جلاؤ غیرکو بجلی گرا کر

جلاؤ غیرکو بجلی گرا کر
نظر ہم سے ملاؤ مسکرا کر
جو بیٹھے ہیں کبھی محفل میں آ کر
تو اٹھے سینکڑوں فتنے اٹھا کر
ہنسو بولو کہ ہے یہ وصل کی شب
نہ بیٹھو آج کے دن منہ بنا کر

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے

بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے، کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی
اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے
دن کو اک نور برستا ہے مِری تُربت پہ
رات کو چادرِ مہتاب تنی ہوتی ہے

Saturday, 18 June 2016

کچھ پاس جب رہا نہ انہیں رسم و راہ کا

کچھ پاس جب رہا نہ انہیں رسم و راہ کا
جاتا رہا خیال ہمیں بھی نباہ کا
ہوتا نہیں ہے کچھ بھی اثر میری آہ کا
کیا دل سیاہ ہے فلکِ روسیاہ کا
تم آج یوں بدل گئے یہ کل کی بات ہے
کھا کھا کے قسمیں عہد کیا تھا نباہ کا

جنت کی آرزو ہے نہ حوروں کی چاہ ہے

جنت کی آرزو ہے نہ حوروں کی چاہ ہے
محشر میں بھی تمہیں پہ ہماری نگاہ ہے
اب ان سے دور دور کی کچھ رسم و راہ ہے
یہ دوستی نہیں ہے فقط اک نباہ ہے
صبحِ شبِ وصال ہے غصہ بھی شرم بھی
ترچھی نگاہ ہے، کبھی نیچی نگاہ ہے

Wednesday, 4 November 2015

دیا جب جام مے ساقی نے بھر کے

دیا جب جامِ مے ساقی نے بھر کے 
تو پچھتائے بہت ہم توبہ کر کے 
رہیں گے خاک میں ہم کو مِلا کر
تِرے انداز اس نیچی نظر کے
خدا محفوظ رکھے ان کی ضد سے
جو کہتے ہیں دکھا دیتے ہیں کر کے

شب وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے

شبِ وصال یہ کہتے ہیں وہ سنا کے مجھے
کسی نے لوٹ لیا اپنے گھر بلا کے مجھے
وہ بولے وصل کی شب آپ میں نہ پا کے مجھے
چلے گئے ہیں کہاں اپنے گھر بلا کے مجھے
مجھے ہے غش، انہیں حیرت، عجیب عالم ہے
میں کھو گیا ہوں انہیں دیکھ کر، وہ پا کے کے مجھے

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی

حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی
جفا دوست اس کو کہتا ہے کوئ، کوئ وفا دشمن
ہمارے ساتھ تو اس نے نباہی دوستی اچھی
محبت کے مزے سے دل نہیں آشنا جس کا
نہ اس کی زندگی اچھی نہ اس کی موت ہی اچھی

دل لے کے ہر بشر کا ستمگر نہ چال کر

دل لے کے ہر بشر کا ستمگر نہ چال کر
کھوٹے کھرے سبھی ہیں ذرا دیکھ بھال کر
ساقی عبث عبث ہے تجھے محتسب کا ڈر
تھوڑی سی دے بھی دے مجھے چپکے سے ڈال کر
جب حرص ابھارتی ہے تو کہتی ہے مجھ سے عار
مر جا مگر کسی سے نہ ہر گز سوال کر

کیوں مجھ سے ہے یہ مفت کی تکرار کیا ہوا

کیوں مجھ سے ہے یہ مفت کی تکرار کیا ہوا
اچھا جو میں نے کر ہی لیا پیار، کیا ہوا
واعظ تِری زباں تو پکڑتے نہیں غریب
آئے جو بزمِ وعظ میں مے خوار کیا ہوا
کہتے نہ تھے رقیب ہیں سب جھوٹے مدعی
دیکھو کھنچی جو میان سے تلوار کیا ہوا