اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں
گزرے گا ایک اور برس انتظار میں
یہ آگ عشق کی ہے بجھانے سے کیا بجھے
دل تیرے بس میں ہے نہ مِرے اختیار میں
ہے ٹوٹے دل میں تیری محبت، تیرا خیال
خوش رنگ ہے بہار جو گزری بہار میں
اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں
گزرے گا ایک اور برس انتظار میں
یہ آگ عشق کی ہے بجھانے سے کیا بجھے
دل تیرے بس میں ہے نہ مِرے اختیار میں
ہے ٹوٹے دل میں تیری محبت، تیرا خیال
خوش رنگ ہے بہار جو گزری بہار میں
ہم دوستی، احسان، وفا بھول گئے ہیں
زندہ تو ہیں جینے کی ادا بھول گئے ہیں
خوشبو جو لٹاتی ہے مسلتے ہیں اسی کو
احسان کا بدلہ یہی ملتا ہے کلی کو
احسان تو لیتے ہیں صِلہ بھول گئے ہیں
ہم دوستی، احسان، وفا بھول گئے ہیں