Showing posts with label پیام سعیدی. Show all posts
Showing posts with label پیام سعیدی. Show all posts

Monday, 8 November 2021

اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں

 اب کے برس بھی وہ نہیں آیا بہار میں

گزرے گا ایک اور برس انتظار میں

یہ آگ عشق کی ہے بجھانے سے کیا بجھے

دل تیرے بس میں ہے نہ مِرے اختیار میں

ہے ٹوٹے دل میں تیری محبت، تیرا خیال

خوش رنگ ہے بہار جو گزری بہار میں

ہم دوستی احسان وفا بھول گئے ہیں

 ہم دوستی، احسان، وفا بھول گئے ہیں

زندہ تو ہیں جینے کی ادا بھول گئے ہیں


خوشبو جو لٹاتی ہے مسلتے ہیں اسی کو

احسان کا بدلہ یہی ملتا ہے کلی کو

احسان تو لیتے ہیں صِلہ بھول گئے ہیں

ہم دوستی، احسان، وفا بھول گئے ہیں

Sunday, 13 September 2020

لے کر حسین شام تیری یاد آ گئی

فلمی گیت

لے کر حسین شام تیری یاد آ گئی
یہ شام تیرے نام تیری یاد آ گئی
لے کر حسین شام تیری یاد آ گئی

ہر کوئی جانتا تھا مجھے تیرے نام سے
پوچھا کسی نے نام
یہ شام تیرے نام تیری یاد آ گئی
لے کر حسین شام تیری یاد آ گئی

راز کی بات کہہ گیا چہرہ

فلمی گیت

راز کی بات کہہ گیا چہرہ
بن گیا دل کا آئینہ چہرہ
راز کی بات کہہ گیا چہرہ

آج کا دن حسین گزرے گا
صبح دیکھا ہے آپ کا چہرہ
بن گیا دل کا آئینہ چہرہ
راز کی بات کہہ گیا چہرہ

Saturday, 12 September 2020

حسن والوں کو ستانے میں مزہ آتا ہے

فلمی گیت

حسن والوں کو ستانے میں مزہ آتا ہے
وہ جو روٹھے تو منانے میں مزہ آتا
حسن والوں کو ستانے میں مزہ آتا ہے

جام مانگا تو دیا ساقی نے ہنس کر یہ جواب
مجھ کو نظروں سے پلانے میں آتا ہے
حسن والوں کو ستانے میں مزہ آتا ہے

Thursday, 10 September 2020

ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

گیت

ساتھ چھُوٹے گا کیسے مرا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

آپ آۓ بڑی عمر ہے آپ کی
بس ابھی نام میں نے لیا آپ کا
جب مرا دل ہی گھر بن گیا آپ کا
ساتھ چھوٹے گا کیسے مرا آپ کا

تو چیز بڑی نمکین ہے

گیت

زلفوں میں رنگ اودھ کا ہے
اور صبح بنارس چہرہ ہے
کشمیر کا تجھ میں حسن بھرا
پنجاب کا آنکھوں میں ہے نشہ
تیری ادا ادا رنگین ہے
تُو چیز بڑی نمکین ہے

Sunday, 25 September 2016

چاند جیسا نہ کنول جیسا ہے

چاند جیسا نہ کنول جیسا ہے
تیرا چہرہ تو غزل جیسا ہے
میرے خوابوں نے تراشا ہے جسے
تُو اسی تاج محل جیسا ہے
دن بدلتے رہے، موسم بدلے
تُو مگر آج بھی کل جیسا ہے

تیرا چہرہ ہے آئینے جیسا

تیرا چہرہ ہے آئینے جیسا
کیوں نہ دیکھوں دیکھنے جیسا 
تم کہو تو میں پوچھ لوں تم سے 
ہے سوال ایک پوچھنے جیسا 
دوست مل جائیں گے کئی لیکن 
نہ ملے گا کوئی میرے جیسا 

ہنس کے غم سہ لے مگر غم کو مقدر نہ بنا

ہنس کے غم سہہ لے مگر غم کو مقدر نہ بنا
دل کو ہر حال میں دل رہنے دے، پتھر نہ بنا
خواب تو خواب ہے ٹوٹے گا تو دل ٹوٹے گا
جھوٹے خوابوں سے کوئی زخم تو دل پر نہ بنا
ایک میں ہوں جو وفا کر کے بھی بدنام ہوا
ایک وہ ہے کہ ستم کر کے ستمگر نہ بنا

پھول کھلتے ہیں مسکرانے سے

پھول کِھلتے ہیں مسکرانے سے
مسکرا دو کسی بہانے سے
کچھ نہیں تو دعا سلام سہی
پیار بڑھتا ہے آنے جانے سے
چہرہ ہر راز کھول دیتا ہے
عشق چھپتا نہیں چھپانے سے

کھیل نہیں یہ دل کی لگی ہے درد سے اب کیوں روتا ہے

کھیل نہیں یہ دل کی لگی ہے درد سے اب کیوں روتا ہے
یہ تو محبت ہے دیوانے! اس میں یہی کچھ ہوتا ہے
عشق کا سودا، جان کا سودا، دل کا لگانا کھیل نہیں
اس کو یہ منزل ملتی ہے جو عشق میں سب کچھ کھوتا ہے
آس جو ٹوٹے دل ٹوٹے گا آس کسی سے مت رکھنا
یہ دنیا ہے اس دنیا میں کون کسی کا ہوتا ہے