Showing posts with label سید کاشف. Show all posts
Showing posts with label سید کاشف. Show all posts

Thursday, 26 August 2021

غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے

 غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے

درد سے کہہ دو، ٹھکانے سے رہے

صدقۂ دولتِ ہجراں ہی سہی

اشک اب ہم تو بہانے سے رہے

اس محبت کو، عقیدہ نہ کریں

الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے

Sunday, 22 August 2021

صبر اور ضبط کی دیوار اٹھائی جائے

 صبر اور ضبط کی دیوار اٹھائی جائے

سینہ دُکھتا ہے دُکھے، آہ دبائی جائے

فکر کے بیج سے اب پُھوٹے عمل کی کونپل

فلسفے تک نہ رہے بات، نبھائی جائے

یا تو وعدہ نہ کرو، کر لو تو پھر یاد رکھو

جان جائے کہ رہے، بات نبھائی جائے ​

Saturday, 14 August 2021

پتھر کا آسمان مرے سر پہ آ گرا

 پتھر کا آسمان مِرے سر پہ آ گرا

حسبِ وفا لگان مرے سر پہ آ گرا

میں مرغزارِ طِفلی سے نکلا ہی تھا تبھی

اس عمر کا مکان مرے سر پہ آ گرا

اس خود پرست بُت نے جو سجدہ کیا مجھے

تو اُس کا بارِ شان مرے سر پہ آ گرا

Friday, 13 August 2021

خود حمایت میں خود خلاف میں ہوں

 کس عجب کنجِ انکشاف میں ہوں

خود حمایت میں خود خلاف میں ہوں

خیر میں ہر طرف ضرر دیکھوں

حلقۂ عقلِ موشگاف میں ہوں

ایک دنیا ہو بس مکمل سی

اس زمیں کے تو میں خلاف ہوں

Thursday, 3 June 2021

خط لکھے تھے جو ترے نام مجھے لوٹا دے

 خط لکھے تھے جو ترے نام، مجھے لوٹا دے

روح کے گھاؤ، وہ آلام، مجھے لوٹا دے

جس کی دھڑکن بھی تِری مرضی کے تابع تھی کبھی

لکھ کے اُس دل پہ مِرا نام، مجھے لوٹا دے

جس پہ یہ عمر تِرے نام، لکھا تھا میں نے

ہاں وہی نامۂ انعام، مجھے لوٹا دے

دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے

 دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے

آنکھ چاہے کہ وہ بہتا ہوا دریا رکھے

ہم بھی اس شہرِِ تمنا کے ہی سودائی ہیں

خواب سب چھین کے جو روح کو پیاسا رکھے

فن کے بازار میں مقبول ہے کاوِش اس کی

سینچ کر خون سے جو نرخ بھی سستا رکھے

Sunday, 25 April 2021

اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی

 اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی

تنگ مجھ کو حیات کیوں کرتی

تم جو ہوتے تو زندگی ہم سے

تلخ لہجے میں بات کیوں کرتی

منتشر کر کے دل کی بستی کو

مسکرانے کی بات کیوں کرتی