غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے
درد سے کہہ دو، ٹھکانے سے رہے
صدقۂ دولتِ ہجراں ہی سہی
اشک اب ہم تو بہانے سے رہے
اس محبت کو، عقیدہ نہ کریں
الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے
درد سے کہہ دو، ٹھکانے سے رہے
صدقۂ دولتِ ہجراں ہی سہی
اشک اب ہم تو بہانے سے رہے
اس محبت کو، عقیدہ نہ کریں
الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے
صبر اور ضبط کی دیوار اٹھائی جائے
سینہ دُکھتا ہے دُکھے، آہ دبائی جائے
فکر کے بیج سے اب پُھوٹے عمل کی کونپل
فلسفے تک نہ رہے بات، نبھائی جائے
یا تو وعدہ نہ کرو، کر لو تو پھر یاد رکھو
جان جائے کہ رہے، بات نبھائی جائے
پتھر کا آسمان مِرے سر پہ آ گرا
حسبِ وفا لگان مرے سر پہ آ گرا
میں مرغزارِ طِفلی سے نکلا ہی تھا تبھی
اس عمر کا مکان مرے سر پہ آ گرا
اس خود پرست بُت نے جو سجدہ کیا مجھے
تو اُس کا بارِ شان مرے سر پہ آ گرا
کس عجب کنجِ انکشاف میں ہوں
خود حمایت میں خود خلاف میں ہوں
خیر میں ہر طرف ضرر دیکھوں
حلقۂ عقلِ موشگاف میں ہوں
ایک دنیا ہو بس مکمل سی
اس زمیں کے تو میں خلاف ہوں
خط لکھے تھے جو ترے نام، مجھے لوٹا دے
روح کے گھاؤ، وہ آلام، مجھے لوٹا دے
جس کی دھڑکن بھی تِری مرضی کے تابع تھی کبھی
لکھ کے اُس دل پہ مِرا نام، مجھے لوٹا دے
جس پہ یہ عمر تِرے نام، لکھا تھا میں نے
ہاں وہی نامۂ انعام، مجھے لوٹا دے
دل کو یہ شوق کہ تنہائی کا صحرا رکھے
آنکھ چاہے کہ وہ بہتا ہوا دریا رکھے
ہم بھی اس شہرِِ تمنا کے ہی سودائی ہیں
خواب سب چھین کے جو روح کو پیاسا رکھے
فن کے بازار میں مقبول ہے کاوِش اس کی
سینچ کر خون سے جو نرخ بھی سستا رکھے
اجنبی ہو کے بات کیوں کرتی
تنگ مجھ کو حیات کیوں کرتی
تم جو ہوتے تو زندگی ہم سے
تلخ لہجے میں بات کیوں کرتی
منتشر کر کے دل کی بستی کو
مسکرانے کی بات کیوں کرتی