عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے
سُخن میں سوچ کا جوہر شریک ہوتا ہے
نبیؐ کا ذکر وہ ذکرِ عظیم ہے جس میں
مِرا خدا بھی برابر شریک ہوتا ہے
خُمار خانۂ دُنیا فضول ہے، صاحب
تو اس فریب میں کیوں کر شریک ہوتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے
سُخن میں سوچ کا جوہر شریک ہوتا ہے
نبیؐ کا ذکر وہ ذکرِ عظیم ہے جس میں
مِرا خدا بھی برابر شریک ہوتا ہے
خُمار خانۂ دُنیا فضول ہے، صاحب
تو اس فریب میں کیوں کر شریک ہوتا ہے
تیرے انکار سے اقرار بنایا ہوا ہے
لوگ کہتے ہیں کہ باتوں کو گھمایا ہوا ہے
اک پری زاد ہے دھڑکن کے علاقے میں مقیم
جس نے ماحول کو پُر وجد بنایا ہوا ہے
لمس کی بھیک ملے تیرے تمنائی کو
جسم کاسہ تو زمانوں سے بنایا ہوا ہے
کئی دنوں سے اُداس لڑکی ہمارے دل کو جلا رہی ہے
دبیز لہجہ، شریف چہرہ زمانے بھر سے چُھپا رہی ہے
سخن سخن میں سجا کے آنسُو، نمازِ شب میں بہا کے آنسُو
وہ ڈھیر ساری دُعائیں کر کے خدا کو اپنے منا رہی ہے
خدا نے اس کو عظیم ہمت، کریم لہجہ عطا کیا ہے
وہ اپنے زخموں کا ہنس کے مجھ کو تمام نقشہ بتا رہی ہے
راستوں کی تھکن اُٹھاتے ہوئے
دشت پہنچا ہوں گیت گاتے ہوئے
میں نے زیتون کے درختوں میں
چاند دیکھا ہے مسکراتے ہوئے
کھول دیتا ہوں نیند میں بانہیں
خواب کا راستہ بناتے ہوئے
کوئی ملتا ہی نہیں سوختہ پا میری طرح
جس کو معلوم ہو وحشت کا پتا میری طرح
میرے جیون کو اداسی سے ملانے والا
دشت میں پھِرتا رہے آبلہ پا میری طرح
میں نے احباب کو آواز لگا کر پوچھا
کوئی رہتا ہے شبِ غم میں سدا، میری طرح
اس سے پہلے کہ دھواں آنکھ میں آنے لگ جائے
یہ ضروری ہے دِیا، لَو کو بڑھانے لگ جائے
کتنا اچھا ہو کہ لہروں کو جلانے کے لیے
چاند، پانی پہ تِرا عکس بنانے لگ جائے
میرے مولا! تُو مجھے ایسی اذیت سے بچا
جب خریدار، مِرے دام گھٹانے لگ جائے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
قُدسیوں کے پرے اترتے تھے
آپﷺ جس راہ سے گزرتے تھے
کر کے دیدارِ مصطفٰیﷺ کی سبیل
لوگ آنکھوں میں حُسن بھرتے تھے
کیا بہشتی نگر مدینہ ہے
جس کی گلیوں میں آپؐ چلتے تھے
آنکھ کھولوں گا تو یادوں کے خزانے ہوں گے
نئے کپڑوں میں وہی لوگ پرانے ہوں گے
پیڑ نے بُور نہیں عشق اُٹھایا ہے میاں
اب درختوں سے بھی منسوب فسانے ہوں گے
میرا دشمن مِرے اندر ہی چھپا بیٹھا ہے
مجھ کو خود اپنی طرف تیر چلانے ہوں گے
موسم ہے خوشگوار، مِرے ساتھ ساتھ چل
اے رشکِ نو بہار، مرے ساتھ ساتھ چل
دنیا بڑی فضول ہے، بلکل فضول ہے
دنیا کو چھوڑ یار، مرے ساتھ ساتھ چل
چلنا بھلے محال ہو دشتِ گمان میں
پھر بھی یقیں شعار، مرے ساتھ ساتھ چل
تیرا انکار جو اقرار نہیں ہو سکتا
دل تِرا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا
کیا ہواؤں کے قبیلے سے تعلق ہے تِرا
تُو چراغوں کا طرفدار نہیں ہو سکتا
تُو نے جو رقص رچایا ہے بدن کے اندر
یہ تماشا سرِ بازار نہیں ہو سکتا؟
سرسری سی بات کا
کیا مزا ہے رات کا؟
دُھل گیا ہے دھوپ سے
جسم پات پات کا
فقر نے عطا کیا
علم شش جہات کا
کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے
آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے
جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا
میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اسی حیرانی سے
آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں، مگر
گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے
راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا
حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا
کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟
جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا
کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مِرے
دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا
میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں میں
کوئی رہتا ہے ہے اس کی آنکھوں میں
سب کی آنکھوں سے حل نہیں ہوتا
کیا معمہ ہے اس کی آنکھوں میں
میں کنارے سے دیکھ سکتا ہوں
کوئی دریا ہے اس کی آنکھوں میں
خواب زدہ ویرانوں تک
پہنچی نیند ٹھکانوں تک
آوازوں کے دریا میں
غرق ہوئے ہیں شانوں تک
باغ، اثاثہ ہے اپنا
وہ بھی زرد زمانوں تک
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
درِ شبیرؑ پہ پلکوں کو بِچھانے والے
ہم حسینی ہیں عَلم دل پہ لگانے والے
حرُملہ تیر چلا تجھ میں اگر ہے ہمت
ڈر نہیں سکتے محمدﷺ کے گھرانے والے
جان پیاری ہے تو چُھپ جاؤ یزیدو کہ ابھی
تیغ اصغر ہیں تبسم کی چلانے والے
ہجر کی رُت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے
دل خسارے سے ثمر بار بھی ہو سکتا ہے
کیا ضروری ہے فقط دشت میں وحشت ہو میاں
یہ تماشا سرِ بازار بھی ہو سکتا ہے
دُکھ، پرندوں کی طرح شور مچا سکتے ہیں
ہجر، پیڑوں پہ نمودار بھی ہو سکتا ہے
جانے کس حبس کی گھڑی ہے ابھی
وقت نے سانس روک لی ہے ابھی
میں شجر کی زباں سے واقف ہوں
اس نے مجھ سے جو بات کی ہے ابھی
پیرہن تک اداس ہے جس کا
جانے کیا سوچ کے ہنسی ہے ابھی
جو رنگ ہائے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے
وہ ہم نفس بھی مرا دکھ کہاں سمجھتے تھے
محبتوں میں کنارے نہیں مِلا کرتے
’’مگر یہ ڈوبنے والے کہاں سمجھتے تھے‘‘
کُھلا کہ چادرِ شب میں بھی وسعتیں ہیں کئی
ذرا سی دھوپ کو ہم آسماں سمجھتے تھے
آ دیکھ مری آنکھوں میں اک بار مرے یار
روشن ہیں کسی ہجر کے آثار مرے یار
لے جا تُو رفاقت کے یہ پَل، وصل کا جنگل
رہنے دے یہاں ہجر کے آزار مرے یار
مل جائے جو مجھ ایسا کوئی مجھ کو بہت ہے
جُز اس کے نہیں کچھ مجھے درکار مرے یار