Showing posts with label مبشر سعید. Show all posts
Showing posts with label مبشر سعید. Show all posts

Wednesday, 17 January 2024

برائے نقش منور شریک ہوتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


برائے نقشِ منور شریک ہوتا ہے

سُخن میں سوچ کا جوہر شریک ہوتا ہے

نبیؐ کا ذکر وہ ذکرِ عظیم ہے جس میں

مِرا خدا بھی برابر شریک ہوتا ہے

خُمار خانۂ دُنیا فضول ہے، صاحب

تو اس فریب میں کیوں کر شریک ہوتا ہے

Tuesday, 31 October 2023

تیرے انکار سے اقرار بنایا ہوا ہے

 تیرے انکار سے اقرار بنایا ہوا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ باتوں کو گھمایا ہوا ہے

اک پری زاد ہے دھڑکن کے علاقے میں مقیم

جس نے ماحول کو پُر وجد بنایا ہوا ہے

لمس کی بھیک ملے تیرے تمنائی کو

جسم کاسہ تو زمانوں سے بنایا ہوا ہے 

Friday, 27 October 2023

کئی دنوں سے اداس لڑکی ہمارے دل کو جلا رہی ہے

 کئی دنوں سے اُداس لڑکی ہمارے دل کو جلا رہی ہے

دبیز لہجہ، شریف چہرہ زمانے بھر سے چُھپا رہی ہے

سخن سخن میں سجا کے آنسُو، نمازِ شب میں بہا کے آنسُو

وہ ڈھیر ساری دُعائیں کر کے خدا کو اپنے منا رہی ہے

خدا نے اس کو عظیم ہمت، کریم لہجہ عطا کیا ہے

وہ اپنے زخموں کا ہنس کے مجھ کو تمام نقشہ بتا رہی ہے

Sunday, 16 April 2023

راستوں کی تھکن اٹھاتے ہوئے

 راستوں کی تھکن اُٹھاتے ہوئے

دشت پہنچا ہوں گیت گاتے ہوئے

میں نے زیتون کے درختوں میں

چاند دیکھا ہے مسکراتے ہوئے

کھول دیتا ہوں نیند میں بانہیں

خواب کا راستہ بناتے ہوئے

Sunday, 2 April 2023

کوئی ملتا ہی نہیں سوختہ پا میری طرح

 کوئی ملتا ہی نہیں سوختہ پا میری طرح

جس کو معلوم ہو وحشت کا پتا میری طرح

میرے جیون کو اداسی سے ملانے والا

دشت میں پھِرتا رہے آبلہ پا میری طرح

میں نے احباب کو آواز لگا کر پوچھا

کوئی رہتا ہے شبِ غم میں سدا، میری طرح

Monday, 29 August 2022

اس سے پہلے کہ دھواں آنکھ میں آنے لگ جائے

 اس سے پہلے کہ دھواں آنکھ میں آنے لگ جائے

یہ ضروری ہے دِیا، لَو کو بڑھانے لگ جائے

کتنا اچھا ہو کہ لہروں کو جلانے کے لیے

چاند، پانی پہ تِرا عکس بنانے لگ جائے

میرے مولا! تُو مجھے ایسی اذیت سے بچا

جب خریدار، مِرے دام گھٹانے لگ جائے

Monday, 15 August 2022

قدسیوں کے پرے اترتے تھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


قُدسیوں کے پرے اترتے تھے

آپﷺ جس راہ سے گزرتے تھے

کر کے دیدارِ مصطفٰیﷺ کی سبیل

لوگ آنکھوں میں حُسن بھرتے تھے

کیا بہشتی نگر مدینہ ہے

جس کی گلیوں میں آپؐ چلتے تھے

Monday, 2 May 2022

آنکھ کھولوں گا تو یادوں کے خزانے ہوں گے

 آنکھ کھولوں گا تو یادوں کے خزانے ہوں گے

نئے کپڑوں میں وہی لوگ پرانے ہوں گے

پیڑ نے بُور نہیں عشق اُٹھایا ہے میاں

اب درختوں سے بھی منسوب فسانے ہوں گے

میرا دشمن مِرے اندر ہی چھپا بیٹھا ہے

مجھ کو خود اپنی طرف تیر چلانے ہوں گے

Sunday, 17 April 2022

موسم ہے خوشگوار مرے ساتھ ساتھ چل

 موسم ہے خوشگوار، مِرے ساتھ ساتھ چل

اے رشکِ نو بہار، مرے ساتھ ساتھ چل

دنیا بڑی فضول ہے، بلکل فضول ہے

دنیا کو چھوڑ یار، مرے ساتھ ساتھ چل

چلنا بھلے محال ہو دشتِ گمان میں

پھر بھی یقیں شعار، مرے ساتھ ساتھ چل

Wednesday, 13 April 2022

تیرا انکار جو اقرار نہیں ہو سکتا

 تیرا انکار جو اقرار نہیں ہو سکتا

دل تِرا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا

کیا ہواؤں کے قبیلے سے تعلق ہے تِرا

تُو چراغوں کا طرفدار نہیں ہو سکتا

تُو نے جو رقص رچایا ہے بدن کے اندر

یہ تماشا سرِ بازار نہیں ہو سکتا؟

Saturday, 9 April 2022

سرسری سی بات کا

 سرسری سی بات کا

کیا مزا ہے رات کا؟

دُھل گیا ہے دھوپ سے

جسم پات پات کا

فقر نے عطا کیا

علم شش جہات کا

Sunday, 6 February 2022

کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے

 کسی منظر نہ کسی جسم کی عریانی سے

آنکھ حیران ہے خوابوں کی فراوانی سے

جس طرح پیاس میں پانی کا میسر آنا

میں تمہیں دیکھ رہا ہوں اسی حیرانی سے

آگ اور تیز ہوا دل کو لُبھاتے ہیں، مگر

گہے مٹی سے میں ڈرتا ہوں گہے پانی سے

Saturday, 5 February 2022

راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا

 راز کب راز رہا ہے کسی رعنائی کا

حال میں جان چُکا آنکھ کی تنہائی کا

کیسے وہ درد کی شدت کو سمجھ سکتا ہے؟

جس کو اندازہ نہ ہو زخم کی گہرائی کا

کارِ دنیا میں لگاؤں تو مسلسل ہی مِرے

دل کو دھڑکا سا لگا رہتا ہے رُسوائی کا

Saturday, 4 December 2021

میں نے دیکھا ہے اس کی آنکھوں میں

 میں نے دیکھا ہے اُس کی آنکھوں میں

کوئی رہتا ہے ہے اس کی آنکھوں میں

سب کی آنکھوں سے حل نہیں ہوتا

کیا معمہ ہے اس کی آنکھوں میں

میں کنارے سے دیکھ سکتا ہوں

کوئی دریا ہے اس کی آنکھوں میں

Monday, 6 September 2021

خواب زدہ ویرانوں تک

 خواب زدہ ویرانوں تک

پہنچی نیند ٹھکانوں تک

آوازوں کے دریا میں

غرق ہوئے ہیں شانوں تک

باغ، اثاثہ ہے اپنا

وہ بھی زرد زمانوں تک

Wednesday, 11 August 2021

در شبیر پہ پلکوں کو بچھانے والے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


درِ شبیرؑ پہ پلکوں کو بِچھانے والے

ہم حسینی ہیں عَلم دل پہ لگانے والے

حرُملہ تیر چلا تجھ میں اگر ہے ہمت

ڈر نہیں سکتے محمدﷺ کے گھرانے والے

جان پیاری ہے تو چُھپ جاؤ یزیدو کہ ابھی

تیغ اصغر ہیں تبسم کی چلانے والے

Monday, 19 July 2021

ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

 ہجر کی رُت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

دل خسارے سے ثمر بار بھی ہو سکتا ہے

کیا ضروری ہے فقط دشت میں وحشت ہو میاں

یہ تماشا سرِ بازار بھی ہو سکتا ہے

دُکھ، پرندوں کی طرح شور مچا سکتے ہیں

ہجر، پیڑوں پہ نمودار بھی ہو سکتا ہے

Wednesday, 2 December 2020

جانے کس حبس کی گھڑی ہے ابھی

 جانے کس حبس کی گھڑی ہے ابھی

وقت نے سانس روک لی ہے ابھی

میں شجر کی زباں سے واقف ہوں

اس نے مجھ سے جو بات کی ہے ابھی

پیرہن تک اداس ہے جس کا

جانے کیا سوچ کے ہنسی ہے ابھی

Wednesday, 18 November 2020

جو رنگ ہائے رخ دوستاں سمجھتے تھے

 جو رنگ ہائے رُخِ دوستاں سمجھتے تھے

وہ ہم نفس بھی مرا دکھ کہاں سمجھتے تھے

محبتوں میں کنارے نہیں مِلا کرتے

’’مگر یہ ڈوبنے والے کہاں سمجھتے تھے‘‘

کُھلا کہ چادرِ شب میں بھی وسعتیں ہیں کئی

ذرا سی دھوپ کو ہم آسماں سمجھتے تھے

Wednesday, 11 November 2020

آ دیکھ مری آنکھوں میں اک بار مرے یار

 آ دیکھ مری آنکھوں میں اک بار مرے یار

روشن ہیں کسی ہجر کے آثار مرے یار

لے جا تُو رفاقت کے یہ پَل، وصل کا جنگل

رہنے دے یہاں ہجر کے آزار مرے یار

مل جائے جو مجھ ایسا کوئی مجھ کو بہت ہے

جُز اس کے نہیں کچھ مجھے درکار مرے یار