Showing posts with label محسن نقوی. Show all posts
Showing posts with label محسن نقوی. Show all posts

Friday, 6 September 2024

اے ارض وطن زندہ رہنا ہے قیامت تک

 شہداء و غازیانِ پاکستان کو خراجِ تحسین

اے ارضِ وطن زندہ رہنا ہے قیامت تک


دوستو پھر وہی ساعت وہی رُت آئی ہے

ہم نے جب اپنے ارادوں کا علَم کھولا تھا

دل نے جب اپنے ارادوں کی قسم کھائی تھی

شوق نے جب رگِ دوراں میں لہُو گھولا تھا


پھر وہی ساعتِ صد رنگ وہی صُبحِ جُنوں

اپنے ہاتھوں میں نئے دور کی سوغات لیے

Saturday, 7 October 2023

کتنی بلندیوں پہ ہے ایوان فاطمہ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کتنی بلندیوں پہ ہے ایوانِ فاطمہؑ

رُوح الامیںؑ ہے صُورت دربانِ فاطمہؑ

حاصل کہاں دماغ کو عرفانِ فاطمہؑ

خُلدِ بریں ہے نقشۂ اِمکانِ فاطمہؑ

کیا سوچیے بہارِ گُلستانِ فاطمہؑ

حَسنینؑ جب ہوں سُنبل و ریحانِ فاطمہؑ

Friday, 19 May 2023

اے شہر علم و عالم اسرار خشک و تر

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے شہرِ عِلم و عالمِ اسرارِ خُشک و تر​

تُو بادشاہِ دِیں ہے، تُو سُلطانِ بحر و بر​

ادراک و آگہی کی ضمانت تِرا کرم

ایقان و اعتقاد کا حاصل تِری نظر​

تیرے حروف نُطقِ الٰہی کا معجزہ

تیری حدیث سچ سے زیادہ ہے معتبر

Monday, 15 May 2023

کبھی جو اس میں رسول کا نقش پا ملا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


کبھی جو اس میں رسول کا نقشِ پا ملا ہے

ہمارے دل کو مقامِ غارِ حِرا ملا ہے

عجیب سر ہے کہ عرش تک سرفراز ٹھہرا

عجیب در ہے کہ اس پر آ کر خدا ملا ہے

میں تیری مدحت کو کس بلندی حرف پر سوچوں

تُوﷺ انبیاء کے ہجوم میں بھی جدا ملا ہے

Wednesday, 14 December 2022

سال کے آخری دن نہایت کٹھن ہیں

 ‏گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا

مگر سال کے آخری دن 

نہایت کٹھن ہیں 

میرے ملنے والو

نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح

گر ہاتھ آئے تو ملنا

Saturday, 8 October 2022

تم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دنیا سے بھی دور ہوئے

 تم نے بھی ٹھکرا ہی دیا ہے دنیا سے بھی دور ہوئے

اپنی انا کے سارے شیشے آخر چکنا چُور ہوئے

ہم نے جن پر غزلیں سوچیں ان کو چاہا لوگوں نے

ہم کتنے بدنام ہوئے تھے، وہ کتنے مشہور ہوئے

ترکِ وفا کی ساری قسمیں ان کو دیکھ کے ٹوٹ گئیں

ان کا ناز سلامت ٹھہرا، ہم ہی ذرا مجبور ہوئے

Friday, 30 September 2022

اپنی پلکوں پہ جمی گرد کا حاصل مانگے

 اپنی پلکوں پہ جمی گرد کا حاصل مانگے

وہ مسافر ہوں جو ہر موڑ پہ منزل مانگے

میری وسعت کی طلب نے مجھے محدود کیا

میں وہ دریا ہوں جو موجوں سے بھی ساحل مانگے

خواہش وصل کو سو رنگ کے مفہوم دئیے

بات آساں تھی مگر لفظ تو مشکل مانگے

Thursday, 8 September 2022

جہان انسانیت میں توحید کا مقدس خیال زہرا

 مدحت فاطمہ زہراؑ


جہانِ انسانیت میں توحید کا مقدس خیال زہراؑ

شرف میں وحدت ادا، امامت جبیں، نبوّت جمالِ زہراؑ

ہو جس پہ نازاں دلِ مصور، وہ نقشِ حسنِ کمال زہراؑ

خدائے بے مثل کی خدائی میں تا ابد بے مثال زہراؑ

یہ شمعِ عرفانِ ایزدی ہے، یہ مرکزِ آلِ مصطفیٰؐ ہے

حسنؑ سے مہدیؑ تلک امامت کے سلسلے کی یہ ابتدا ہے

Friday, 2 September 2022

اے عالم نجوم و جواہر کے کردگار (مکمل)

عارفانہ کلام حمدیہ کلام

موجِ ادراک


اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار

اے کارسازِ دہر و خداوندِ بحر و بر

اِدراک و آگہی کے لیے منزلِ مراد

بہرِ مسافرانِ جنوں ، حاصلِ سفر

یہ برگ و بار و شاخ و شجر، تیری آیتیں

تیری نشانیاں ہیں یہ گلزار و دشت و در

Saturday, 20 August 2022

لوح جہاں پہ فکر کی معراج فن کا نام

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر سیدنا امام حسنؑ


لوحِ جہاں پہ فکر کی معراجِ فن کا نام

لکھا ہے پنجتنؑ کی حسِیں انجمن کا نام

سوچا خزاں کے عہد میں جب بھی چمن کا نام

آیا میری زباں پہ امامِ حسنؑ کا نام


جس نے خدا کے دین کی صورت اُجال دی

وحشی دلوں میں امن کی بنیاد ڈال دی

Saturday, 13 August 2022

یہ معجزۂ نعت رسول مدنی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 یہ معجزۂ نعتِ رسولِ مدنیﷺ ہے

جو لفظ بھی لکھتا ہوں، عقیقِ یمَنی ہے

حرفوں کی قطاریں ہیں کہ رنگوں کے جزیرے

الفاظ کی جھلمل ہے کہ گُل پیرہنی ہے

چہرے کی شعاعوں کے گداگر مہ و خورشید

زُلفوں سے خجل، شب کی ستارہ بدنی ہے

Tuesday, 9 August 2022

یاد زینب کو جو عباس کے بازو آئے

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین و شہدائے کربلا


یاد زینبؑ کو جو عباسؑ کے بازو آئے

دیر تک آنکھ میں بے ساختہ آنسو آئے

قبر اصغرؑ پہ گھڑی بھر کو چراغاں تو ہوا

کربلا سے جو بھٹکتے ہوئے جگنو آئے

مٹ گئی یاد سے تقدیر کے ماتھے کی شکن

ذہن میں جب علی اکبرؑ تیرے گیسو آئے

حسین ابن علی پر سلام کہنا ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 بصد رکوع و سجود و قیام کہنا ہے

حسینؑ ابنِ علیؑ پر سلام کہنا ہے

زباں کو چاہیے کچھ اعتمادِ خاکِ شفا

ہمیں جبیں کو معلّیٰ مقام کہنا ہے

غمِ حسینؑ میں اک اشک کی ضرورت ہے

پھر اپنی آنکھ کو، کوثر کا جام کہنا ہے

Saturday, 6 August 2022

کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے

 عارفانہ کلام منقبت سلام بحضور امام حسینؑ


کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے

منسوب ہیں جو خاکِ رہِ بو ترابؑ سے

مشکل کشا ہیں پاس، فرشتو! ادب کرو

مشکل میں ڈال دوں گا سوال و جواب سے

خیبر میں دیکھنا یہ ہے جبریل یا اجل

لپٹا ہوا ہے کون علیؑ کی رکاب سے

Saturday, 16 July 2022

میرے خیال کو نسبت ہوئی مدینے سے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میرے خیال کو نسبت ہُوئی مدینے سے 

مہک گلاب کی آنے لگی پسینے سے

نبیﷺ کا نام اگر لو تو اس قرینے سے

دعا یہاں سے چلے اور اثر مدینے سے

نبیؐ کے در سے ہی خیراتِ علم ملتی ہے 

یہ رزق ملتا ہے سرکارﷺ کے خزینے سے

Tuesday, 3 May 2022

نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اشارہ کوئی

 نہ وہ ملتا ہے نہ ملنے کا اشارہ کوئی

کیسے امید کا چمکے گا ستارہ کوئی

حد سے زیادہ، نہ کسی سے بھی محبت کرنا

جان لیتا ہے سدا، جان سے پیارا کوئی

بے وفائی کے ستم تم کو سمجھ آ جاتے

کاش! تم جیسا اگر ہوتا تمہارا کوئی

اندھیری رات میں جگنو ستارے ڈھونڈتے رہنا

 اندھیری رات میں جگنو ستارے ڈھونڈتے رہنا

بھنور میں سب پہ واجب ہے کنارے ڈھونڈتے رہنا

کبھی دیوار سے رشتہ، کبھی در تھام لیتے ہیں

عجب قسمت غریبوں کی سہارے ڈھونڈتے رہنا

محبت کرنے والوں کے تقاضے بھی نرالے ہیں

منافع بخشتے رہنا،۔ خسارے ڈھونڈتے رہینا

Saturday, 30 April 2022

اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

 اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام

پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام

یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے میری

کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام

میرے سفر میں اک ایسا بھی موڑ آتا ہے

جب اپنے آپ سے ڈرتی ہے تیرے ہجر کی شام

Friday, 29 April 2022

بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو سوال کیسے جواب چھوڑو

بچھڑنا ہے تو خوشی سے بچھڑو سوال کیسے، جواب چھوڑو

ملی ہیں کس کوجہاں کی خوشیاں ملے ہیں کس کو عذاب چھوڑو

نئے سفر پہ جو چل پڑے ہو مجھے خبر ہے کہ خوش بڑے ہو

ہے کون اجڑا تمہارے پیچھے یا کس کے ٹوٹے ہیں خواب چھوڑو

محبتوں کے تمام وعدے نبھائے کس نے بھلائے کس نے

تمہیں پشیمانی ہو گی جاناں جو میری مانو حساب چھوڑو

Wednesday, 27 April 2022

خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی

 خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی

ابھی تو جاگ کے راتیں گزارنا ہوں گی

تِرے لیے مجھے ہنس ہنس کے بولنا ہو گا

مِرے لیے تجھے زلفیں سنوارنا ہوں گی

تِری صدا سے تجھی کو تراشنا ہو گا

ہوا کی چاپ سے شکلیں ابھارنا ہوں گی