Showing posts with label عامر ابیض. Show all posts
Showing posts with label عامر ابیض. Show all posts

Thursday, 16 April 2026

گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا

 گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا

میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا

شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے

تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا

بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو

یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا

Tuesday, 25 February 2025

جو مجھ میں شے ہے ابھی کے ابھی نکالتا ہوں

 جو مجھ میں شے ہے ابھی کے ابھی نکالتا ہوں

میں دل نچوڑ کے سب روشنی نکالتا ہوں

مِرے وجود سے تب لا وجود بولتا ہے

میں اپنے بھید سے جب شاعری نکالتا ہوں

میں موسموں کو سکھاتا ہوں ضبط کے معنی

پھر ایک پیڑ سے سب خامشی نکالتا ہوں

Monday, 1 July 2024

حسین آپ سے نسبت نے زندگی بخشی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسینؑ آپ سے نسبت نے زندگی بخشی

کہ مجھ دِیے کو شبِ غم میں روشنی بخشی

خدا کا شکر کہ آنکھوں میں آج رِم جھم ہے

غم حسینؑ نے یوں مجھ کو سبزگی بخشی

لہو ملا کہ بنائی ہے خاک، خاکِ شفا

یونہی حسینؑ نے ذہنوں کو آگہی بخشی

Thursday, 30 September 2021

مکاں کو چھوڑ کے جب لامکان میں آئے

 مکاں کو چھوڑ کے جب لامکان میں آئے

ہمارے بھید کے عنصر جہان میں آئے

ہوا کے ساتھ بہاؤ کا یہ نتیجہ ہوا

کئی چراغ اندھیروں کی کان میں آئے

سمندروں کے لبوں پر تھی ایک خشک سی تہہ

جب ایک پیاس کے معنی بیان میں آئے