گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا
گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا
جو مجھ میں شے ہے ابھی کے ابھی نکالتا ہوں
میں دل نچوڑ کے سب روشنی نکالتا ہوں
مِرے وجود سے تب لا وجود بولتا ہے
میں اپنے بھید سے جب شاعری نکالتا ہوں
میں موسموں کو سکھاتا ہوں ضبط کے معنی
پھر ایک پیڑ سے سب خامشی نکالتا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسینؑ آپ سے نسبت نے زندگی بخشی
کہ مجھ دِیے کو شبِ غم میں روشنی بخشی
خدا کا شکر کہ آنکھوں میں آج رِم جھم ہے
غم حسینؑ نے یوں مجھ کو سبزگی بخشی
لہو ملا کہ بنائی ہے خاک، خاکِ شفا
یونہی حسینؑ نے ذہنوں کو آگہی بخشی
مکاں کو چھوڑ کے جب لامکان میں آئے
ہمارے بھید کے عنصر جہان میں آئے
ہوا کے ساتھ بہاؤ کا یہ نتیجہ ہوا
کئی چراغ اندھیروں کی کان میں آئے
سمندروں کے لبوں پر تھی ایک خشک سی تہہ
جب ایک پیاس کے معنی بیان میں آئے