پیراہن چاک و آوارۂ جنگل ہوتے
ہم جو رو پاتے نہیں کُھل کے تو پاگل ہوتے
تیرے ہاتھوں کو جو تھاما تو نئی روح ملی
ورنہ یہ طے تھا کہ خود ہاتھ مرے شَل ہوتے
آنکھیں ماتھے پہ وہ رکھتے ہیں ہمیں دیکھیں تو
کل جو آنکھوں پہ بٹھانے کو تھے بے کل ہوتے
پیراہن چاک و آوارۂ جنگل ہوتے
ہم جو رو پاتے نہیں کُھل کے تو پاگل ہوتے
تیرے ہاتھوں کو جو تھاما تو نئی روح ملی
ورنہ یہ طے تھا کہ خود ہاتھ مرے شَل ہوتے
آنکھیں ماتھے پہ وہ رکھتے ہیں ہمیں دیکھیں تو
کل جو آنکھوں پہ بٹھانے کو تھے بے کل ہوتے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر کہاں ذہن میں اپنا کوئی غم آتا ہے
سامنے جب بھی تراؑ نقش قدم آتا ہے
ایسا لگتا ہے کہ دریا سے قمر اُبھرے گا
شام سے منتظر آنکھوں میں بھی نم آتا ہے
اب مِرا بیٹا بھی پڑھ لیتا ہے نوحہ تیرا
شکر یا مولاؑ! مِرے گھر میں کرم آتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اس طرح آج حسینؑ اپنے ہی گھر سے نکلے
جیسے زہراؑ و محمدﷺ کے جنازے نکلے
جس کے قدموں میں ہے سردارِ جناں کی جنت
آنسو اس ماں کی لحد پر وہ بہائے نکلے
نانا! اب مُڑ کے زیارت کو نہ پہنچے گا حسینؑ
روضۂ سیدِ عالمﷺ سے یہ کہہ کے نکلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
صد شکر کہ حیات بہت ٹھیک مل گئی
سلطانِ کربلاؑ سے مجھے بھیک مل گئی
میں تو وہاں حسینؑ سے ملنے گیا مگر
جنت بھی قتل گاہ کے نزدیک مل گئی
ہم نے بجھا دیا تو وہیں پائی روشنی
فوجِ یزید کو شبِ تاریک مل گئی
کیا ایک یہاں پر ہے تو کیا ایک نہیں ہے
ہم بخت کے ماروں کو گِلا ایک نہیں ہے
دُھتکار، دل آزاری، حقارت و تمسخر
مزدور کی محنت کا صِلہ ایک نہیں ہے
زردار،۔ خریدار و دستار،۔ دکاں دار
طے پایا کہ بندوں کا خدا ایک نہیں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خالی ہے دستِ عمل کرتا ہے اقرار سحاب
اے خدا! تجھ سے ہے بخشش کا طلبگار سحاب
تُو نے ہر عیب کو پردے میں رکھا ہے ورنہ
ہے خبر تجھ کو کہ کتنا ہے گنہ گار سحاب
جسم سے لگتا ہے دنیا کو توانا لیکن
روح میں جھانک کے دیکھو تو ہے بیمار سحاب
پونچھیں گے مِرے دیدۂ پُر نم کو، نہیں تو
کیا سمجھیں گے یہ لوگ مِرے غم کو، نہیں تو
رہتے ہیں کسی عہدِ اذیت کے جنوں میں
سوچا ہے سکوں کے کبھی موسم کو، نہیں تو
دل مثلِ عزا دار لہو روتا ہے ہر دم
یہ درد فقط اٹھے محرّم کو، نہیں تو