Showing posts with label عارف سحاب. Show all posts
Showing posts with label عارف سحاب. Show all posts

Saturday, 27 July 2024

شعر کہنے سے مسائل تو نہیں حل ہوتے

 پیراہن چاک و آوارۂ جنگل ہوتے

ہم جو رو پاتے نہیں کُھل کے تو پاگل ہوتے

تیرے ہاتھوں کو جو تھاما تو نئی روح ملی

ورنہ یہ طے تھا کہ خود ہاتھ مرے شَل ہوتے

آنکھیں ماتھے پہ وہ رکھتے ہیں ہمیں دیکھیں تو 

کل جو آنکھوں پہ بٹھانے کو تھے بے کل ہوتے

Monday, 15 July 2024

پھر کہاں ذہن میں اپنا کوئی غم آتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پھر کہاں ذہن میں اپنا کوئی غم آتا ہے

سامنے جب بھی تراؑ نقش قدم آتا ہے

ایسا لگتا ہے کہ دریا سے قمر اُبھرے گا

شام سے منتظر آنکھوں میں بھی نم آتا ہے

اب مِرا بیٹا بھی پڑھ لیتا ہے نوحہ تیرا

شکر یا مولاؑ! مِرے گھر میں کرم آتا ہے

Tuesday, 9 July 2024

اس طرح آج حسین اپنے ہی گھر سے نکلے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اس طرح آج حسینؑ اپنے ہی گھر سے نکلے 

جیسے زہراؑ و محمدﷺ کے جنازے نکلے

 جس کے قدموں میں ہے سردارِ جناں کی جنت

آنسو اس ماں کی لحد پر وہ بہائے نکلے 

نانا! اب مُڑ کے زیارت کو نہ پہنچے گا حسینؑ

روضۂ سیدِ عالمﷺ سے یہ کہہ کے نکلے

Monday, 8 July 2024

سلطان کربلا سے مجھے بھیک مل گئی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


صد شکر کہ حیات بہت ٹھیک مل گئی

سلطانِ کربلاؑ سے مجھے بھیک مل گئی

میں تو وہاں حسینؑ سے ملنے گیا مگر 

جنت بھی قتل گاہ کے نزدیک مل گئی

ہم نے بجھا دیا تو وہیں پائی روشنی

فوجِ یزید کو شبِ تاریک مل گئی

Sunday, 7 July 2024

کیا ایک یہاں پر ہے تو کیا ایک نہیں ہے

 کیا ایک یہاں پر ہے تو کیا ایک نہیں ہے

ہم بخت کے ماروں کو گِلا ایک نہیں ہے 

دُھتکار، دل آزاری، حقارت و تمسخر 

مزدور کی محنت کا صِلہ ایک نہیں ہے

زردار،۔ خریدار و دستار،۔ دکاں دار 

طے پایا کہ بندوں کا خدا ایک نہیں ہے

اے خدا تجھ سے ہے بخشش کا طلبگار سحاب

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خالی ہے دستِ عمل کرتا ہے اقرار سحاب

اے خدا! تجھ سے ہے بخشش کا طلبگار سحاب

تُو نے ہر عیب کو پردے میں رکھا ہے ورنہ 

ہے خبر تجھ کو کہ کتنا ہے گنہ گار سحاب

جسم سے لگتا ہے دنیا کو توانا لیکن 

روح میں جھانک کے دیکھو تو ہے بیمار سحاب

Saturday, 6 July 2024

کیا سمجھیں گے یہ لوگ مرے غم کو نہیں تو

 پونچھیں گے مِرے دیدۂ پُر نم کو، نہیں تو 

کیا سمجھیں گے یہ لوگ مِرے غم کو، نہیں تو

رہتے ہیں کسی عہدِ اذیت کے جنوں میں 

سوچا ہے سکوں کے کبھی موسم کو، نہیں تو

دل مثلِ عزا دار لہو روتا ہے ہر دم

یہ درد فقط اٹھے محرّم کو، نہیں تو