جب میں پہلی دفعہ فوت ہوا
یہاں دفن کیا تھا خود کو
قبر دیکھ کے
ہنسی نما روتا ہوں
یعنی خوشی کے آنسوں ہوتے ہیں
غم کی ہنسی بھی ہوتی ہے
جب میں پہلی دفعہ فوت ہوا
یہاں دفن کیا تھا خود کو
قبر دیکھ کے
ہنسی نما روتا ہوں
یعنی خوشی کے آنسوں ہوتے ہیں
غم کی ہنسی بھی ہوتی ہے
جمال کشیدگی
سہیل
سہیل
مڈورا کی لپ سٹک کا گیارہ نمبر شیڈ کیسا ہے
مندر میں لگی گھنٹی کو معلوم ہو گا
کس ہاتھ کے جُنبش میں مسرت ہے
کون سا دست طلبِ حنائی میں بام تک آیا ہے
ہائے اللہ
احد
تم بھی اکیلے ہو؟
الصمد
میں نہیں ہوں، تالی
تالی، جو رب کی دی ہوئی نعمتوں میں
میرے عجیب خواب ہیں
سوموار کو مر جاؤں
کوئی چُھٹی نہ کر سکے
جنازہ کم ہو
میرے عجیب خواب ہیں
چھ تک گنتی گِنوں اور
سات کی جگہ تمہارا نام لوں
زخم نما سڑک
میں دیکھتا ہوں کہ اس کی شکل
آنسو جیسی ہے
گول چہرہ کہ مہندی لگے ہاتھوں سے
کھنکتی چوڑیوں کی آواز میں
من چاہے شخص کے لیے
پہلی بنائی روٹی جیسا
مشین
آخری بار اپنی دعوت کب کی تھی؟
خود کو تحفتاً جو پرفیوم دیا تھا
اُس کی خوشبو یاد ہے؟
چائے کو اشرف المشروبات سمجھے
کتنے سال ہوئے ہیں؟
تہہ در تہہ
الجبرا کے ماہر لڑکے
تمہارے نزدیک ایکس فقط ایک متغیّر ہے
ہائے، تُم “ایکس” کی قیمت نہیں جانتے
خواہشوں کو مجبوریوں پر
تقسیم کرنے والے لڑکے کا دُکھ جانتے ہو؟
”عبدالسمیرا شہید“
ہیجڑی، سوچ ہوتی ہے
میں سمیرا ہوں
پانی پہ بنی تصویر
مجبوری میں سستے داموں بیچا گوہر
شیشے میں سنورتے ہوئے شرماتی ہوں
مگر میرا نیٹ سلو تھا
میں نے خدا کو ای میل کیا کہ
جو سکرین شاٹ بھیجا تھا، میری سہیلی کا ہے
کہتی ہے؛ میرے کندھوں پہ جو فرشتے ہیں
مجھے نہاتے ہوئے دیکھتے ہیں
ان سے پردہ کیسے کروں؟