بہت دنوں سے تجھ سے بات نہیں ہوئی
بہت دنوں سے خاموشی ہے
کسی آواز کی دمک
نہ اب فون کی دوسری جانب سے
سماعت کی گھپ اندھیر وادی میں اترتی ہے
نہ ہونٹوں کے مقابل کوئی پھول آتا ہے
بہت دنوں سے تجھ سے بات نہیں ہوئی
بہت دنوں سے خاموشی ہے
کسی آواز کی دمک
نہ اب فون کی دوسری جانب سے
سماعت کی گھپ اندھیر وادی میں اترتی ہے
نہ ہونٹوں کے مقابل کوئی پھول آتا ہے
ایک آنسو عزیز ہے مجھ کو
اس لیے تو عزیز ہے مجھ کو
ایک مسکان وہ بھی دھیمی سی
جس کا جادو عزیز ہے مجھ کو
آپ تکیے کی بات کر تے ہیں
ایک بازو عزیز ہے مجھ کو
ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا
مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا
محبت ریل کی پٹری نہیں تھی
کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا
تِرے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن
ہمیں بھی بھُول جانا چاہیے تھا
دہکتی راتوں کی چاندنی میں
ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ
بہکتی سانسوں کی کپکپاہٹ
جوان بانہوں کے گرم ہالے
سکوت شب کو بڑھا رہے ہیں
پگھل رہی ہے یہ برف ساعت
کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات
چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات
دُکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں
تیری یادیں بلو رہی ہے رات
مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر
گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات
خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں
آج خود کو بھُلائے بیٹھی ہوں
جانے والوں کا انتظار نہیں
اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں
اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی
اپنا چہرہ لُٹائے بیٹھی ہوں