Showing posts with label عاصمہ طاہر. Show all posts
Showing posts with label عاصمہ طاہر. Show all posts

Wednesday, 28 December 2022

بہت دنوں سے تجھ سے بات نہیں ہوئی

 بہت دنوں سے تجھ سے بات نہیں ہوئی


بہت دنوں سے خاموشی ہے

کسی آواز کی دمک

نہ اب فون کی دوسری جانب سے

سماعت کی گھپ اندھیر وادی میں اترتی ہے

نہ ہونٹوں کے مقابل کوئی پھول آتا ہے

Monday, 26 April 2021

ایک آنسو عزیز ہے مجھ کو

 ایک آنسو عزیز ہے مجھ کو

اس لیے تو عزیز ہے مجھ کو

ایک مسکان وہ بھی دھیمی سی

جس کا جادو عزیز ہے مجھ کو

آپ تکیے کی بات کر تے ہیں

ایک بازو عزیز ہے مجھ کو

Monday, 19 April 2021

ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

 ہمیں بھی مسکرانا چاہیے تھا

مگر کوئی بہانہ چاہیے تھا

محبت ریل کی پٹری نہیں تھی

کہیں تو موڑ آنا چاہیے تھا

تِرے کاندھے پہ رکھ کر سر کسی دن 

ہمیں بھی بھُول جانا چاہیے تھا 

Thursday, 15 April 2021

دہکتی راتوں کی چاندنی میں

 دہکتی راتوں کی چاندنی میں 

ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ 

بہکتی سانسوں کی کپکپاہٹ 

جوان بانہوں کے گرم ہالے 

سکوت شب کو بڑھا رہے ہیں 

پگھل رہی ہے یہ برف ساعت

کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

 کس کے ماتم میں رو رہی ہے رات

چھپ کے بانہوں میں سو رہی ہے رات

دُکھ ہے ٹھہرا ہوا نگاہوں میں

تیری یادیں بلو رہی ہے رات

مجھ کو خوابوں کے باغ میں لا کر

گھنے جنگل میں کھو رہی ہے رات

Friday, 9 April 2021

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

 خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

آج خود کو بھُلائے بیٹھی ہوں

جانے والوں کا انتظار نہیں

اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں

اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی

اپنا چہرہ لُٹائے بیٹھی ہوں