یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد
یہ کسے تھی خبر دل لگانے کے بعد
غم بھی مل جائیں گے مسکرانے کے بعد
کس جہاں میں خدا جانے وہ کھو گئے
مجھ کو اک بار صورت دکھانے کے بعد
جان پایا ہوں میں وہ ہے پتھر جگر
اپنی آنکھوں سے آنسو بہانے کے بعد
کبھی جگر کبھی تیرِ نظر کو دیکھتے ہیں
ہم ان کے رخ پہ وفا کے اثر کو دیکھتے ہیں
محبتوں کی حدوں سے جنہیں گزرنا ہے
کہاں وہ آن کھ میں دنیا کے ڈر کو دیکھتے ہیں
پتا بتائیں گے منزل کا ان کے نقشِ قدم
یوں ہی نہ غور سے ہم رہگزر کو دیکھتے ہیں
مت بولیے یہاں نہ کسی شخص کی چلے
ان کی یہ انجمن ہے یہاں ان کی ہی چلے
اک عمر کٹ گئی ہے اسی انتظار میں
آئیں وہ لوٹ کر تو رکی زندگی چلے
دھوکا، دغا، فریب ہے فطرت میں یار کی
اب کیسے آگے سلسلۂ دوستی چلے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اپنے لب پر درودیں سجاتے چلو
جشنِ میلادِ آقاﷺ مناتے چلو
روزہ ہر پیر کو مصطفیٰؐ نے رکھا
تم بھی سنت پہ خود کو چلاتے چلو
اپنے دل میں بسا کر نبیؐ کی وفا
امتی خاص ان کا بناتے چلو