جیسے مدھوبن کی بالا
نیند اب رات بھر نہیں آتی
اک خوشی بھی ادھر نہیں آتی
شبِ فُرقت کٹے گی ہائے کب
کیوں آخر سحر نہیں آتی
جگمگا جاتی ہے شہر سارا
روشنی میرے گھر نہیں آتی
مجھ سے مہر و وفا کے جانے کیوں
تیرے دل میں لہر نہیں آتی
اس سے بہتر ہے چُپ رہو دانش
بات کرنی اگر نہیں آتی
ارباز دانش
No comments:
Post a Comment