Showing posts with label زکی کیفی. Show all posts
Showing posts with label زکی کیفی. Show all posts

Wednesday, 8 November 2023

طیبہ کی زمیں وہ میرے سرکار کی دنیا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


طیبہ کی زمیں وہ میرے سرکارؐ کی دُنیا

دُنیا سے نرالی ہے یہ انوار کی دنیا

ہر خار میں صد رنگ بہاروں کی لطافت

ہر ذرّہ میں اک دولتِ بیدار کی دنیا

وہ روضۂ اطہرؐ پہ برستی ہوئی رحمت

آتی ہے نظر فطرتِ سرشار کی دنیا

Wednesday, 21 September 2022

اے دوست مرے واسطے بس اب یہ دعا کر

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اے دوست مِرے واسطے بس اب یہ دعا کر

کیفی کو الٰہی! غم محبوبﷺ عطا کر

کچھ اشکِ ندامت کے سوا پاس نہیں ہے

لایا ہوں دامن میں یہی اپنے بچا کر

یہ اشکِ ندامت بھی بڑی چیز ہیں اے دل

آنکھوں میں چھپا لے دُر مقصور بنا کر

Thursday, 25 August 2022

پردے اٹھے نگاہ سے ہر شے نکھر گئی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


پردے اٹھے نگاہ سے ہر شے نکھر گئی

تنویر صبح رات کے رخ پر بکھر گئی

دشت وجبل سے نور کے کوندے لپک پڑے

کلیوں کے جام پھولوں کے ساغر چھلک پڑے

برگ و شجر نہال ہوئے، جھومنے لگے

آپس میں ایک ایک کا منہ چومنے لگے

Saturday, 16 July 2022

آپ ہی کے جلووں سے ہر طرف اجالا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


آپؐ ہی کے جلووں سے ہر طرف اجالا ہے

ظلمتوں سے انساں کو آپﷺ نے نکالا ہے

ربط جسم و جاں میں ہے آپ ہی کے صدقے میں

اسمِ پاکﷺ سے چلتی ہر نفس کی مالا ہے

جالیوں سے روضے کی چاندنی سی چھنتی ہے

اس کا نور کیا ہو گا؟ نور جس کا ہالہ ہے

Friday, 15 July 2022

تم فخر رسولاں ہو شہ کون و مکاں ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


تم فخرِ رسولاں ہو شہِ کون و مکاں ہو

تم حاصلِ کل باعث تخلیق جہاں ہو

تم بحر کرم،۔ ابر سخا،۔ منبعِ احساں

تم مظہر اوصاف خدائے دو جہاں ہو

تم سارے زمانے کے لیے آیۂ رحمت

تم درس اخوت ہو،۔ محبت کا بیاں ہو

Wednesday, 13 July 2022

ہم نے اخلاص و وفا کے دام پھیلائے بہت

ہم نے اخلاص و وفا کے دام پھیلائے بہت

پھر بھی ہم سے دُور ہی رہتے ہیں ہمسائے بہت

جانے کس کس طرح سے دیتے رہے خود کو فریب

دل کو ٹُھکرا کر اگرچہ لوگ پچھتائے بہت

اپنی ہی تنہائیوں کی آگ میں جلتے ہوئے

راستے میں جا بجا ہم کو ملے سائے بہت

Tuesday, 5 July 2022

دل کو جس وقت بھی دیکھا اسے پایا تنہا

 دل کو جس وقت بھی دیکھا اسے پایا تنہا

زندگی کیسے کٹے گی یہ خدایا! تنہا

دشتِ پُرخار میں ساتھ اہلِ سفر نے چھوڑا

رہ گیا ساتھ مِرے بس مِرا سایا تنہا

یوں تو ہر سمت بپا سینکڑوں ہنگامے تھے

پھر بھی جس شخص کو دیکھا اسے پایا تنہا

Saturday, 2 July 2022

کان سنتے ہیں وہ اک نغمۂ بے ساز کبھی

 کان سنتے ہیں وہ اک نغمۂ بے ساز کبھی

میں جسے کہہ نہ سکوں آپ کی آواز کبھی

کتنے نغمے ہیں جو پردوں میں چھپا رکھے ہیں

آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دل ناساز کبھی

ایک عالم ہے کہ دیوانہ بنا پھرتا ہے

اٹھ گئی تھی وہ نگاہِ غلط انداز کبھی

Monday, 23 August 2021

شراب و شیشہ و ذکر بتاں کا وقت نہیں

 شراب و شیشہ و ذکر بتاں کا وقت نہیں

اٹھو اٹھو کہ یہ خوابِ گراں کا وقت نہیں

زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی

خطا معاف یہ حسنِ بیاں کا وقت نہیں

روش روش پہ خزاں کی نقیب ہے یارو

چمن بچاؤ، غمِ آشیاں کا وقت نہیں

Monday, 7 December 2020

شبنم تجھے اجازت اظہار غم تو ہے

 شبنم! تجھے اجازتِ اظہارِ غم تو ہے

تُو خوش نصیب ہے کہ تری آنکھ نم تو ہے

صحرا میں کیوں نہ اڑتے بگولے کا ساتھ دوں

دشتِ وفا میں کوئی مرا ہم قدم تو ہے

منزل نہ مل سکی، نہ ملے، کوئی غم نہیں

ہر راہِ شوق میں مرا نقشِ قدم تو ہے

Saturday, 24 December 2016

بے خود کھڑا ہوں روضہ اطہر کے سامنے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

بے خود کھڑا ہوں روضۂ اطہر کے سامنے 
ذرہ ہے آفتابِ منور کے سامنے 
تھا میری تشنگی کو قیامت کا سامنا 
اب خواب ہے یہ ساقئ کوثر کے سامنے
دل میں جمے ہوئے تھے بہت منظرِ جمال 
دھندلا گئے ہیں یہ گنبدِ اخضر کے سامنے

Tuesday, 13 December 2016

قسمت سے مل گئی ہے قیادت حضور کی

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

قسمت سے مل گئی ہے قیادت حضور کی
الله کا کرم ہے،۔ محبت حضور کی
بھر لی ہیں ہر گدا نے سعادت سے جھولیاں
نگری رہے ہمیشہ سلامت حضور کی
دو حرف ہیں خلاصۂ عرفان و آگہی 
وحدانیت خدا کی، رسالت حضور کی 

فکر چمن ہو قید قفس میں ظرف کہاں یہ اہل ہوس میں

فکرِ چمن ہو قیدِ قفس میں
ظرف کہاں یہ اہلِ ہوس میں
اہلِ محبت طے کرتے ہیں
کتنی منازل ایک نفس میں
فکرِ نشیمن کرنے والو 
برق نہاں ہے خار میں خس میں

زمانہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کرتے ہیں​

زمانہ منقلب ہے انقلاب آیا ہی کرتے ہیں​
اندھیرے رات میں کچھ دیر کو چھایا ہی کرتے ہیں​
مہ و خورشید کو بھی لگ ہی جاتا ہے گہن اک دن​
پھر اس کے بعد پیہم نور برسایا ہی کرتے ہیں​
خزاں کے بعد دورِ فصلِ گل آتا ہے گلشن میں​
چمن والو! خزاں میں پھول مرجھایا ہی کرتے ہیں​

Tuesday, 15 December 2015

کون ہے جس سے بے پردہ وہ شوخ شمائل ملتا ہے

کون ہے جس سے بے پردہ، وہ شوخ شمائل ملتا ہے
ہم لاکھ اٹھاتے جاتے ہیں جو بھی پردہ حائل ملتا ہے
اس جہد و طلب سے ہی قائم بنیاد ہے بزمِ ہستی کی
وہ موج فنا ہو جاتی ہے جس موج کو ساحل ملتا ہے
گو یہ تو نہیں منزل پہ پہنچے ہوں، مگر یہ کیا کم ہے
اب راہی و رہبر دونوں کا رخ جانبِ منزل ملتا ہے

راہ وفا میں ہر سو کانٹے دھوپ زیادہ سائے کم

راہِ وفا میں ہر سُو کانٹے، دھوپ زیادہ، سائے کم
لیکن اس پر چلنے والے خوش ہی رہے، پچھتائے کم
عمر گلوں کی دو دن، جس میں یہ بھی قیامت بیت گئی
دستِ ہوس نے نوچے لاکھوں، شاخوں پر مرجھائے کم

جبیں کی جب رسائی ان کے سنگ آستاں تک تھی

جبِیں کی جب رسائی ان کے سنگِ آستاں تک تھی
مِرے دستِ تصرف میں فضائے لا مکاں تک تھی
رہو آرام سے اہلِ چمن، اب کچھ نہیں ہو گا
یہ چشمک برق و باراں کی ہمارے آشیاں تک تھی
حصول منزل مقصود سے اچھی تھی ناکامی
جو لذت جستجو میں تھی وہ سعئ رائگاں تک تھی

عشق تسلیم و رضا کے ماسوا کچھ بھی نہیں

عشق تسلیم و رضا کے ماسوا کچھ بھی نہیں
وہ وفا سے خوش نہ ہوں تو پھر وفا کچھ بھی نہیں
مدتوں ان کی طلب میں خاک چھانی تو کھُلا
ایک پردہ بیچ میں ہے، فاصلہ کچھ بھی نہیں
زندگی کا ماحصل ہیں الٹے سیدھے کچھ نقوش
کس قدر خاکے بنائے، اور بنا کچھ بھی نہیں

لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی

لاکھ ناکام سہی میں تو ہوں نازاں پھر بھی
ہر مسرت پہ ہے بھاری غمِ جاناں پھر بھی
عمر بھر ڈھونڈتے رہنا ہے ہمیں تو اس کو 
اس کے ملنے کا نہ ہو کوئی امکاں پھر بھی
مانتا ہوں کہ مجھے ضبطِ فغاں کرنا ہے 
جانتا ہوں کہ نہیں کام یہ آساں پھر بھی

Friday, 12 October 2012

گلشن کی تباہی کا الم کم تو نہیں ہے

گلشن کی تباہی کا اَلم کم تو نہیں ہے
دل خوں ہے مگر فرصتِ ماتم تو نہیں ہے
ڈر یہ ہے کہ مانوس نہ ہو جاؤں خزاں سے
معلوم ہے پھولوں کا یہ موسم تو نہیں ہے
یہ سچ ہے کہ ہر غم کو بھلا دے گا زمانہ
لیکن یہ کسی زخم کا مرہم تو نہیں ہے