عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی زمیں وہ میرے سرکارؐ کی دُنیا
دُنیا سے نرالی ہے یہ انوار کی دنیا
ہر خار میں صد رنگ بہاروں کی لطافت
ہر ذرّہ میں اک دولتِ بیدار کی دنیا
وہ روضۂ اطہرؐ پہ برستی ہوئی رحمت
آتی ہے نظر فطرتِ سرشار کی دنیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
طیبہ کی زمیں وہ میرے سرکارؐ کی دُنیا
دُنیا سے نرالی ہے یہ انوار کی دنیا
ہر خار میں صد رنگ بہاروں کی لطافت
ہر ذرّہ میں اک دولتِ بیدار کی دنیا
وہ روضۂ اطہرؐ پہ برستی ہوئی رحمت
آتی ہے نظر فطرتِ سرشار کی دنیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اے دوست مِرے واسطے بس اب یہ دعا کر
کیفی کو الٰہی! غم محبوبﷺ عطا کر
کچھ اشکِ ندامت کے سوا پاس نہیں ہے
لایا ہوں دامن میں یہی اپنے بچا کر
یہ اشکِ ندامت بھی بڑی چیز ہیں اے دل
آنکھوں میں چھپا لے دُر مقصور بنا کر
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
پردے اٹھے نگاہ سے ہر شے نکھر گئی
تنویر صبح رات کے رخ پر بکھر گئی
دشت وجبل سے نور کے کوندے لپک پڑے
کلیوں کے جام پھولوں کے ساغر چھلک پڑے
برگ و شجر نہال ہوئے، جھومنے لگے
آپس میں ایک ایک کا منہ چومنے لگے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
آپؐ ہی کے جلووں سے ہر طرف اجالا ہے
ظلمتوں سے انساں کو آپﷺ نے نکالا ہے
ربط جسم و جاں میں ہے آپ ہی کے صدقے میں
اسمِ پاکﷺ سے چلتی ہر نفس کی مالا ہے
جالیوں سے روضے کی چاندنی سی چھنتی ہے
اس کا نور کیا ہو گا؟ نور جس کا ہالہ ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
تم فخرِ رسولاں ہو شہِ کون و مکاں ہو
تم حاصلِ کل باعث تخلیق جہاں ہو
تم بحر کرم،۔ ابر سخا،۔ منبعِ احساں
تم مظہر اوصاف خدائے دو جہاں ہو
تم سارے زمانے کے لیے آیۂ رحمت
تم درس اخوت ہو،۔ محبت کا بیاں ہو
ہم نے اخلاص و وفا کے دام پھیلائے بہت
پھر بھی ہم سے دُور ہی رہتے ہیں ہمسائے بہت
جانے کس کس طرح سے دیتے رہے خود کو فریب
دل کو ٹُھکرا کر اگرچہ لوگ پچھتائے بہت
اپنی ہی تنہائیوں کی آگ میں جلتے ہوئے
راستے میں جا بجا ہم کو ملے سائے بہت
دل کو جس وقت بھی دیکھا اسے پایا تنہا
زندگی کیسے کٹے گی یہ خدایا! تنہا
دشتِ پُرخار میں ساتھ اہلِ سفر نے چھوڑا
رہ گیا ساتھ مِرے بس مِرا سایا تنہا
یوں تو ہر سمت بپا سینکڑوں ہنگامے تھے
پھر بھی جس شخص کو دیکھا اسے پایا تنہا
کان سنتے ہیں وہ اک نغمۂ بے ساز کبھی
میں جسے کہہ نہ سکوں آپ کی آواز کبھی
کتنے نغمے ہیں جو پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دل ناساز کبھی
ایک عالم ہے کہ دیوانہ بنا پھرتا ہے
اٹھ گئی تھی وہ نگاہِ غلط انداز کبھی
شراب و شیشہ و ذکر بتاں کا وقت نہیں
اٹھو اٹھو کہ یہ خوابِ گراں کا وقت نہیں
زمانہ ڈھونڈ رہا ہے عمل کا شیدائی
خطا معاف یہ حسنِ بیاں کا وقت نہیں
روش روش پہ خزاں کی نقیب ہے یارو
چمن بچاؤ، غمِ آشیاں کا وقت نہیں
شبنم! تجھے اجازتِ اظہارِ غم تو ہے
تُو خوش نصیب ہے کہ تری آنکھ نم تو ہے
صحرا میں کیوں نہ اڑتے بگولے کا ساتھ دوں
دشتِ وفا میں کوئی مرا ہم قدم تو ہے
منزل نہ مل سکی، نہ ملے، کوئی غم نہیں
ہر راہِ شوق میں مرا نقشِ قدم تو ہے