Showing posts with label نبیل احمد. Show all posts
Showing posts with label نبیل احمد. Show all posts

Saturday, 22 March 2025

نہ چار سو نہ کہیں چرخ ہفتمیں سے ملا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ چار سُو نہ کہیں چرخِ ہفتمیں سے مِلا

خِرد کو نُکتۂ توحید شاہِ دیںﷺ سے ملا

جہاں کی دانش و حکمت میں یہ کمال کہاں

شُعورِ زیست مدینے کی سر زمیں سے ملا

بھٹک رہی تھی حقیقت کی جُستجو میں نظر

درِ اِلٰہ مجھے راہِ شاہِ دیںﷺ سے ملا

Monday, 24 October 2022

دیکھ ذرا اقوام عالم بہتا تو کشمیر میں خون

 دیکھ ذرا اقوامِ عالم

بہتا تو کشمیر میں خون

دیکھ تو جلتے، بجھتے منظر

پاؤں کی زنجیر میں خون

جنت جیسی اس وادی کو

ظلم نے یوں برباد کیا

Saturday, 19 February 2022

دل پہ پڑتا ہے کہ آنکھوں پہ اثر پڑتا ہے

 دل پہ پڑتا ہے کہ آنکھوں پہ اثر پڑتا ہے

دیکھیۓ زخم، جُدائی کا کدھر پڑتا ہے

اُس طرف میرے لیے پہرے بِٹھائے گئے ہیں

جس طرف اُس کی گلی پڑتی ہے، گھر پڑتا ہے

جب بھی اُٹھتی ہے مِری آنکھ اُجالوں کی طرف

اِک اندھیرا سا نظر زیرِ سحر پڑتا ہے

Monday, 7 February 2022

چھاؤں تو دیتا تھا آنگن میں شجر جیسا بھی تھا

 چھاؤں تو دیتا تھا آنگن میں شجر جیسا بھی تھا

اپنا گھر تھا دوستو! ہاں اپنا گھر جیسا بھی تھا

چل پڑا تھا لے کے مجھ کو منزلوں کا اشتیاق

میں نے کب دیکھا، مرا رختِ سفر جیسا بھی تھا

راستوں کی خاک پھانکو دُھوپ میں بیٹھے ہوئے

چارہ گر تو چارہ گر تھا چارہ گر جیسا بھی تھا

Tuesday, 23 November 2021

بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

 بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا

بدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہا

ڈھلی نہ شام الم جب تلک سحر نہ ہوئی

بجھے چراغ کی لو سے دھواں نکلتا رہا

ملی نہ منزل مقصود اس لیے بھی مجھے

میں ہر قدم پہ نیا راستہ بدلتا رہا

Wednesday, 8 September 2021

نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے

 نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے

کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے

اس اک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے

خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے

اثر دعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے

یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے

Friday, 28 May 2021

اے حسن کارساز پریشاں نہ کر مجھے

 اے حسنِ کارساز پریشاں نہ کر مجھے

عرضِ نیازِ عشق ہوں ارزاں نہ کر مجھے

رہنے دے زرد شاخ کی صورت مِرا وجود

بزمِ جہاں میں زخمِ بہاراں نہ کر مجھے

کُھل کر نہ جل سکوں گا کبھی گرد باد میں

بامِ ہوا پہ دوست فروزاں نہ کر مجھے

Thursday, 27 May 2021

ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مرے سر کے

 ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مِرے سر کے 

تمام عمر اُٹھائے ہیں ناز پتھر کے 

لہولہان ہوا ہے مِرا بدن یوں بھی 

پکڑ نہ پایا کبھی ہاتھ میں ستم گر کے 

بس ایک حرفِ مقرر کے جرم میں ہم نے 

زباں پہ وار ہزاروں سہے ہیں خنجر کے 

Monday, 24 May 2021

دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

 دیکھ کر اُٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تُو

کاٹ ڈالے گا مِرا دستِ ہنر یعنی تو

بیج میرا تھا مگر شاخِ ثمر پر تیرا ہاتھ

کہیں ہوتا ہے سرِ شاخِ شجر یعنی تو

کوئی منزل کی خبر دیتا ہے یعنی کوئی

اور بنتا ہے مِری راہ گزر یعنی تو

چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

 چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

موسم ایسے ہوش اُڑانے لگتے ہیں

ملبہ گرنے لگتا ہے سب کمرے کا

جب تیری تصویر جلانے لگتے ہیں

گھبرا کے اس دور کے وحشی انساں سے

دیواروں کو راز بتانے لگتے ہیں

Sunday, 23 May 2021

یہ گلستاں یہ چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

 یہ گلستاں یہ چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

تم بھی کیا سرو و سمن چھوڑ کے جا سکتے ہو

مجھ کو معلوم ہے اے شمعیں بُجھانے والو

تم اُجالے کی کرن چھوڑ کے جا سکتے ہو

تم جو چاہو تو سبھی چھوڑ کے سپنے میرے

مجھ کو خوابوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو