عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ چار سُو نہ کہیں چرخِ ہفتمیں سے مِلا
خِرد کو نُکتۂ توحید شاہِ دیںﷺ سے ملا
جہاں کی دانش و حکمت میں یہ کمال کہاں
شُعورِ زیست مدینے کی سر زمیں سے ملا
بھٹک رہی تھی حقیقت کی جُستجو میں نظر
درِ اِلٰہ مجھے راہِ شاہِ دیںﷺ سے ملا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ چار سُو نہ کہیں چرخِ ہفتمیں سے مِلا
خِرد کو نُکتۂ توحید شاہِ دیںﷺ سے ملا
جہاں کی دانش و حکمت میں یہ کمال کہاں
شُعورِ زیست مدینے کی سر زمیں سے ملا
بھٹک رہی تھی حقیقت کی جُستجو میں نظر
درِ اِلٰہ مجھے راہِ شاہِ دیںﷺ سے ملا
دیکھ ذرا اقوامِ عالم
بہتا تو کشمیر میں خون
دیکھ تو جلتے، بجھتے منظر
پاؤں کی زنجیر میں خون
جنت جیسی اس وادی کو
ظلم نے یوں برباد کیا
دل پہ پڑتا ہے کہ آنکھوں پہ اثر پڑتا ہے
دیکھیۓ زخم، جُدائی کا کدھر پڑتا ہے
اُس طرف میرے لیے پہرے بِٹھائے گئے ہیں
جس طرف اُس کی گلی پڑتی ہے، گھر پڑتا ہے
جب بھی اُٹھتی ہے مِری آنکھ اُجالوں کی طرف
اِک اندھیرا سا نظر زیرِ سحر پڑتا ہے
چھاؤں تو دیتا تھا آنگن میں شجر جیسا بھی تھا
اپنا گھر تھا دوستو! ہاں اپنا گھر جیسا بھی تھا
چل پڑا تھا لے کے مجھ کو منزلوں کا اشتیاق
میں نے کب دیکھا، مرا رختِ سفر جیسا بھی تھا
راستوں کی خاک پھانکو دُھوپ میں بیٹھے ہوئے
چارہ گر تو چارہ گر تھا چارہ گر جیسا بھی تھا
بلا کی دھوپ میں ایسے بھی جسم جلتا رہا
بدن کا سایہ جو اپنے سروں سے ڈھلتا رہا
ڈھلی نہ شام الم جب تلک سحر نہ ہوئی
بجھے چراغ کی لو سے دھواں نکلتا رہا
ملی نہ منزل مقصود اس لیے بھی مجھے
میں ہر قدم پہ نیا راستہ بدلتا رہا
نہ بات بنتی ہے کوئی نہ کام چل رہا ہے
کئی دنوں سے یہی انتظام چل رہا ہے
اس اک لکیر پہ دیکھو مدام چل رہا ہے
خدا کا شکر کہ سارا نظام چل رہا ہے
اثر دعاؤں میں آئے تو کس طرح آئے
یہاں حلال کی صورت حرام چل رہا ہے
اے حسنِ کارساز پریشاں نہ کر مجھے
عرضِ نیازِ عشق ہوں ارزاں نہ کر مجھے
رہنے دے زرد شاخ کی صورت مِرا وجود
بزمِ جہاں میں زخمِ بہاراں نہ کر مجھے
کُھل کر نہ جل سکوں گا کبھی گرد باد میں
بامِ ہوا پہ دوست فروزاں نہ کر مجھے
ہرے ہیں زخم کچھ اس طرح بھی مِرے سر کے
تمام عمر اُٹھائے ہیں ناز پتھر کے
لہولہان ہوا ہے مِرا بدن یوں بھی
پکڑ نہ پایا کبھی ہاتھ میں ستم گر کے
بس ایک حرفِ مقرر کے جرم میں ہم نے
زباں پہ وار ہزاروں سہے ہیں خنجر کے
دیکھ کر اُٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تُو
کاٹ ڈالے گا مِرا دستِ ہنر یعنی تو
بیج میرا تھا مگر شاخِ ثمر پر تیرا ہاتھ
کہیں ہوتا ہے سرِ شاخِ شجر یعنی تو
کوئی منزل کی خبر دیتا ہے یعنی کوئی
اور بنتا ہے مِری راہ گزر یعنی تو
چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں
موسم ایسے ہوش اُڑانے لگتے ہیں
ملبہ گرنے لگتا ہے سب کمرے کا
جب تیری تصویر جلانے لگتے ہیں
گھبرا کے اس دور کے وحشی انساں سے
دیواروں کو راز بتانے لگتے ہیں
یہ گلستاں یہ چمن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم بھی کیا سرو و سمن چھوڑ کے جا سکتے ہو
مجھ کو معلوم ہے اے شمعیں بُجھانے والو
تم اُجالے کی کرن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم جو چاہو تو سبھی چھوڑ کے سپنے میرے
مجھ کو خوابوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو