آنکھیں گنوا کے خواب بچانے کا مرحلہ
یعنی کسی کے پاؤں میں آنے کا مرحلہ
پتھر سے میرے سر کی بڑی دوستی رہی
طے ہو سکا نہ آپ کے شانے کا مرحلہ
اندھے مسافروں کے عقیدے کی خیر ہو
آنکھیں گنوا کے خواب بچانے کا مرحلہ
یعنی کسی کے پاؤں میں آنے کا مرحلہ
پتھر سے میرے سر کی بڑی دوستی رہی
طے ہو سکا نہ آپ کے شانے کا مرحلہ
اندھے مسافروں کے عقیدے کی خیر ہو
ہتھیلیاں تو ملی ہیں دعا علیحدہ ہے
وہ کس مقام پہ آ کر ہوا علیحدہ ہے
ہیں سرد ہاتھ، جبیں پر مگر پسینہ ہے
مقام ایک ہے، آب و ہوا علیحدہ ہے
گو ہمسفر تھے مگر جب کسی نے پوچھا تو.
وہ مجھ کو دیکھ کے کہتا رہا،علیحدہ ہے
مجھے محسن کے مصرعے کھا گئے ہیں
زمانے کو زمانے کھا گئے ہیں
محبت کے علاوہ کچھ عطا کر
یہ زہر ہم لوگ پہلے کھا گئے ہیں
تِری آنکھوں پہ پلکیں جھک گئی ہیں
سمندر کو کنارے کھا گئے ہیں
نہ بے دلی نہ تعلق میں کچھ تپاک رہا
ہمارے بیچ بڑا معتبر مذاق رہا
ہمارے بیچ ضرورت نماز پڑھتی رہی
ہمارے بیچ بڑی دیر اتفاق رہا
تِرا وجود تعلق کا ثانوی درجہ
تِرے خیال کا حجرہ ہمیشہ پاک رہا
مہ جبینوں کی اداؤں سے اُلجھ بیٹھا ہوں
اس کا مطلب ہے بلاؤں سے الجھ بیٹھا ہوں
بابِ تاثیر سے ناکام پلٹ آئی ہیں
اس لیے اپنی دُعاؤں سے الجھ بیٹھا ہوں
جو غریبوں کا دِیا پھُونک کے تھم جاتی ہیں
ایسی کم ظرف ہواؤں سے الجھ بیٹھا ہوں
اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا
غم کی شوخی کا تقاضہ تھا کہ سادہ رونا
سب یہ کہتے ہیں کہ بے وقت میں رو پڑتا ہوں
یار ممکن بھی نہیں کر کے ارادہ رونا
تنگ دل شخص کا یہ مشورہ معقول لگا
دامنِ دل کو سدا کر کے کشادہ رونا
جیت بخشے جو چراغوں کو ہوا زندہ باد
اس پہ قربان چراغوں کی ضیا زندہ باد
میں نے دشمن کو مہارت پہ کوئی داد نہ دی
میرے اندر سے کوئی بول پڑا زندہ باد
اس محبت کے پیمبر سے تقابل کیسا
دشت سو بار جسے کہتا رہا زندہ باد
ہاں مِرا حال ہے برباد مگر میں تو نہیں
تجھ کو کرتا ہے کوئی یاد مگر میں تو نہیں
بار ہا خالقِ کونین تِری خدمت میں
پہنچی ہو گی مِری فریاد مگر میں تو نہیں
عہدِ حاضر میں لگے مصر کے بازاروں میں
بک گئی ہے مِری روداد مگر میں تو نہیں
تختی قلم دوات سے پہلے کی بات ہے
یہ عشق کائنات سے پہلے کی بات ہے
سچ ہے کہ میں بھی پیار کا مُنکر بنا رہا
ہاں، ہاں یہ تیری ذات سے پہلے کی بات ہے
اب تو تِرے غلط پہ بھی آمین کہہ دیا
انکار تیری بات سے پہلے کی بات ہے
اسے بتانا
اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کو سرسراہٹ نے اتنا مفلوج کر دیا ہے
کہ چٹکیاں بے اثر ہوئی ہیں
اسے بتانا کہ میری حساسیت نے بے وقت بے حسی اختیار کی ہے
اسے بتانا کہ خود کلامی کا مرحلہ بھی اسی سے باتوں میں طے ہوا ہے
اسے بتانا کہ اپنے ہونے کا بوجھ اب اس قدر بڑھا ہے
کہ میرے ہونے کے سر میں چاندی اُگی ہوئی ہے
میں تمہارے بغیر زندہ ہوں
مجھ کو یہ دھیان آ گیا تو پھر
زندگی مختلف ہے جینے سے
فرق کوئی بتا گیا تو پھر
تم مجھے بھول جاؤ گے لیکن
میں تمہیں یاد آ گیا تو پھر
ہے میرا شوق نہیں حادثہ محبت کی
میں بارہا ہوں مِرا بارہا محبت کی
یہ حوصلہ ہے مِرا بے وفائی مت کہنا
میں اس کے بعد بھی زندہ رہا، محبت کی
زمانہ جرم کی تفصیل پوچھنے آیا
میں سر جھکا کے یہ کہتا رہا، محبت کی