Showing posts with label کاظم حسین. Show all posts
Showing posts with label کاظم حسین. Show all posts

Sunday, 9 October 2022

آنکھیں گنوا کے خواب بچانے کا مرحلہ

 آنکھیں گنوا کے خواب بچانے کا مرحلہ

یعنی کسی کے پاؤں میں آنے کا مرحلہ

پتھر سے میرے سر کی بڑی دوستی رہی

طے ہو سکا نہ آپ کے شانے کا مرحلہ

اندھے مسافروں کے عقیدے کی خیر ہو

Friday, 17 June 2022

ہتھیلیاں تو ملی ہیں دعا علیحدہ ہے

 ہتھیلیاں تو ملی ہیں دعا علیحدہ ہے

وہ کس مقام پہ آ کر ہوا علیحدہ ہے

ہیں سرد ہاتھ، جبیں پر مگر پسینہ ہے

مقام ایک ہے، آب و ہوا علیحدہ ہے

گو ہمسفر تھے مگر جب کسی نے پوچھا تو.

وہ مجھ کو دیکھ کے کہتا رہا،علیحدہ ہے 

Monday, 25 April 2022

مجھے محسن کے مصرعے کھا گئے ہیں

 مجھے محسن کے مصرعے کھا گئے ہیں

زمانے کو زمانے کھا گئے ہیں

محبت کے علاوہ کچھ عطا کر

یہ زہر ہم لوگ پہلے کھا گئے ہیں

تِری آنکھوں پہ پلکیں جھک گئی ہیں

سمندر کو کنارے کھا گئے ہیں

Tuesday, 17 August 2021

نہ بے دلی نہ تعلق میں کچھ تپاک رہا

 نہ بے دلی نہ تعلق میں کچھ تپاک رہا

ہمارے بیچ بڑا معتبر مذاق رہا

ہمارے بیچ ضرورت نماز پڑھتی رہی

ہمارے بیچ بڑی دیر اتفاق رہا

تِرا وجود تعلق کا ثانوی درجہ

تِرے خیال کا حجرہ ہمیشہ پاک رہا

Saturday, 31 July 2021

مہ جبینوں کی اداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

 مہ جبینوں کی اداؤں سے اُلجھ بیٹھا ہوں

اس کا مطلب ہے بلاؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

بابِ تاثیر سے ناکام پلٹ آئی ہیں

اس لیے اپنی دُعاؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

جو غریبوں کا دِیا پھُونک کے تھم جاتی ہیں

ایسی کم ظرف ہواؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

Monday, 19 July 2021

اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا

 اوڑھ کر آنکھ پہ خوابوں کا لبادہ رونا

غم کی شوخی کا تقاضہ تھا کہ سادہ رونا

سب یہ کہتے ہیں کہ بے وقت میں رو پڑتا ہوں

یار ممکن بھی نہیں کر کے ارادہ رونا

تنگ دل شخص کا یہ مشورہ معقول لگا

دامنِ دل کو سدا کر کے کشادہ رونا

Saturday, 8 May 2021

جیت بخشے جو چراغوں کو ہوا زندہ باد

 جیت بخشے جو چراغوں کو ہوا زندہ باد

اس پہ قربان چراغوں کی ضیا زندہ باد

میں نے دشمن کو مہارت پہ کوئی داد نہ دی

میرے اندر سے کوئی بول پڑا زندہ باد

اس محبت کے پیمبر سے تقابل کیسا

دشت سو بار جسے کہتا رہا زندہ باد

Sunday, 17 January 2021

ہاں مرا حال ہے برباد مگر میں تو نہیں

 ہاں مِرا حال ہے برباد مگر میں تو نہیں

تجھ کو کرتا ہے کوئی یاد مگر میں تو نہیں

بار ہا خالقِ کونین تِری خدمت میں

پہنچی ہو گی مِری فریاد مگر میں تو نہیں

عہدِ حاضر میں لگے مصر کے بازاروں میں

بک گئی ہے مِری روداد مگر میں تو نہیں

Friday, 15 January 2021

تختی قلم دوات سے پہلے کی بات ہے

 تختی قلم دوات سے پہلے کی بات ہے

یہ عشق کائنات سے پہلے کی بات ہے

سچ ہے کہ میں بھی پیار کا مُنکر بنا رہا

ہاں، ہاں یہ تیری ذات سے پہلے کی بات ہے

اب تو تِرے غلط پہ بھی آمین کہہ دیا

انکار تیری بات سے پہلے کی بات ہے

Monday, 11 January 2021

اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کو سرسراہٹ نے اتنا مفلوج کر دیا ہے

 اسے بتانا


اسے بتانا کہ میرے ہاتھوں کو سرسراہٹ نے اتنا مفلوج کر دیا ہے 

کہ چٹکیاں بے اثر ہوئی ہیں

اسے بتانا کہ میری حساسیت نے بے وقت بے حسی اختیار کی ہے

اسے بتانا کہ خود کلامی کا مرحلہ بھی اسی سے باتوں میں طے ہوا ہے

اسے بتانا کہ اپنے ہونے کا بوجھ اب اس قدر بڑھا ہے 

کہ میرے ہونے کے سر میں چاندی اُگی ہوئی ہے

Wednesday, 6 January 2021

میں تمہیں یاد آ گیا تو پھر

 میں تمہارے بغیر زندہ ہوں

مجھ کو یہ دھیان آ گیا تو پھر

زندگی مختلف ہے جینے سے

فرق کوئی بتا گیا تو پھر

تم مجھے بھول جاؤ گے لیکن

میں تمہیں یاد آ گیا تو پھر

Tuesday, 5 January 2021

ہے میرا شوق نہیں حادثہ محبت کی

ہے میرا شوق نہیں حادثہ محبت کی

میں بارہا ہوں مِرا بارہا محبت کی

یہ حوصلہ ہے مِرا بے وفائی مت کہنا

میں اس کے بعد بھی زندہ رہا، محبت کی

زمانہ جرم کی تفصیل پوچھنے آیا

میں سر جھکا کے یہ کہتا رہا، محبت کی