Showing posts with label احمد عظیم صدیقی. Show all posts
Showing posts with label احمد عظیم صدیقی. Show all posts

Thursday, 16 July 2026

ریگ کا یہ سلسلہ آب رواں کیسے ہوا

 ایک حرفِ مُدعا تھا داستاں کیسے ہُوا

ریگ کا یہ سِلسلہ آبِ رواں کیسے ہوا

وہ ابھی ہمراہ تھا اِس زندگی کے دشت میں

عُمر بھر کا ساتھ پل میں رائیگاں کیسے ہوا

آشنائی میں وہ چہرہ صُورتِ خُورشید تھا

اجنبی ہو کر وہی چہرہ دُھواں کیسے ہوا

Saturday, 25 April 2026

امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے

 امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے

آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے

صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب

پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے

زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی

موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے

Wednesday, 2 March 2022

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

یہی تو دکھ ہے کہ شیشے میں بال کیوں آیا

نئی کرن سے ابھی آشنا ہوئی تھی زمیں

جواں تھا مہر یہ اس پر زوال کیوں آیا

جب ایک برگ نہ اشجار آرزو پہ رہا

تو مست موسم باد شمال کیوں آیا

Thursday, 1 April 2021

مثال برگ شکستہ ہوا کی زد پر ہے

مثالِ برگِ شِکستہ ہوا کی زد پر ہے

کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے

امان ڈھونڈ رہا ہے کُھلا ہوا پانی

محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے

کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں

دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے