ایک حرفِ مُدعا تھا داستاں کیسے ہُوا
ریگ کا یہ سِلسلہ آبِ رواں کیسے ہوا
وہ ابھی ہمراہ تھا اِس زندگی کے دشت میں
عُمر بھر کا ساتھ پل میں رائیگاں کیسے ہوا
آشنائی میں وہ چہرہ صُورتِ خُورشید تھا
اجنبی ہو کر وہی چہرہ دُھواں کیسے ہوا
ایک حرفِ مُدعا تھا داستاں کیسے ہُوا
ریگ کا یہ سِلسلہ آبِ رواں کیسے ہوا
وہ ابھی ہمراہ تھا اِس زندگی کے دشت میں
عُمر بھر کا ساتھ پل میں رائیگاں کیسے ہوا
آشنائی میں وہ چہرہ صُورتِ خُورشید تھا
اجنبی ہو کر وہی چہرہ دُھواں کیسے ہوا
امید و بیم و آس کے ساحل بدل گئے
آنکھیں بدل گئیں تو کبھی دل بدل گئے
صحرا کی اک طویل مسافت کے بعد جب
پہنچے جو محملوں کو تو محمل بدل گئے
زِنداں میں اور قفس میں بہار و خزاں کٹی
موسم کے ساتھ ساتھ سلاسل بدل گئے
بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا
یہی تو دکھ ہے کہ شیشے میں بال کیوں آیا
نئی کرن سے ابھی آشنا ہوئی تھی زمیں
جواں تھا مہر یہ اس پر زوال کیوں آیا
جب ایک برگ نہ اشجار آرزو پہ رہا
تو مست موسم باد شمال کیوں آیا
مثالِ برگِ شِکستہ ہوا کی زد پر ہے
کوئی چراغ اکیلا ہوا کی زد پر ہے
امان ڈھونڈ رہا ہے کُھلا ہوا پانی
محبتوں کا جزیرہ ہوا کی زد پر ہے
کراہتی ہیں کسی کے فراق میں شامیں
دل ایسا ایک شگوفہ ہوا کی زد پر ہے